• Mon, 26 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’مغل دور کو نصاب سے نکالنا احمقانہ اقدام ہے‘‘

Updated: January 26, 2026, 10:18 AM IST | Agency | New Delhi

معروف مورخ رومیا تھاپر نے حکومت کے اقدام کو تنقید کا نشانہ بنایا، تاریخ  کے نام پر سوشل میڈیا پر پھیلائے جارہے مشمولات کو بھی تشویشناک قراردیا۔

Renowned and respected historian Romila Thapar. Picture: INN
معروف اور معتبر مورخ رومیلا تھاپر۔ تصویر: آئی این این
موجودہ حکومت کے ذریعہ اسکولوں میں پڑھائے جانے والے تاریخ کے نصاب  سے مغل دور حکمرانی کو حذف کئے جانے پر شدید تنقید کرتے ہوئے عالمی شہرت یافتہ معروف  اور معتبر مورخ رومیلا تھاپر نے کہا ہے کہ ’’تاریخ ایک مسلسل عمل ہے ،اسے ٹکڑوں میں نہیںپڑھایا نہیں جا سکتا۔‘‘  انہوں نے تاریخ کی نصابی کتابوں سے پورے مغلیہ دور کو  نکالنے کی کوشش کو ’’احمقانہ‘‘ قرار دیا۔  سنیچر کو کیرالا لٹریچر فیسٹیول (کے ایل ایف) کے نویں ایڈیشن  سے آن لائن خطاب  میں ۹۳؍ سالہ ممتا مورخ  نے سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے مشمولات جنہیں انہوں نے’’عوام میں مقبول تاریخ‘‘  کا نام دیا ، کے بڑھتے رجحان  پر بھی سوال اٹھایا۔ 
تاریخ کے نصاب  میںکی جارہی تبدیلیوں پر  انہوں نے کہاکہ ’’جو کچھ ہو رہا ہے، مثلاً یہ کہ نصاب سے تاریخ کے بڑے حصے نکالے جا رہے ہیں یا ہمیں بتایا جا رہا ہے کہ ہمیں انہیں پڑھنے کی ضرورت نہیں، یہ سراسر لغو اور بے وقوفی  ہے۔ تاریخ ایک مسلسل عمل ہے۔ یہ انسانوں اور تہذیبوں کے ارتقا، طرزِ عمل اور سوچنے کے طریقوں کی کہانی ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’تاریخ کے اس تسلسل کو اس طرح توڑا نہیں جا سکتا کہ ہم کہیں کہ چلو  ٹھیک ہے ایک کام کرو،  اس سلطنت کو نکال دو، مغلوں کو نکال دو، فلاں کو نکال دو۔ اس سے تاریخ بکھر جاتی ہے اور اس کا کوئی مطلب نہیں رہ جاتا۔‘‘ واضح رہے کہ نیشنل  کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (این سی ای آر ٹی) نے مبینہ طور پر تعلیمی سال۲۶-۲۰۲۵ء کیلئے جماعت ہفتم کی سماجی علوم کی درسی کتاب میں ترمیم کرکے دہلی سلطنت اور مغلوں سے متعلق ابواب کو ہٹا دیا ہے۔اس کے علاوہ اب توجہ  موریہ، شونگ اور ستواہن جیسی قدیم ہندوستانی سلطنتوں  اور مختلف مذاہب کی ثقافتی روایات  پر مرکوز کردی گئی  ہے اور انہیں  تاریخ کے طو رپر پڑھایا  جا رہا ہے۔ 
رومیلا تھاپر جو ۲۵؍سے زائد کتابوں کی مصنف ہیں،  نے سوشل میڈیا پر’’مقبول تاریخ‘‘کے بڑھتے اثر پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ اس سے اکثر مستند نیزتحقیق  پر مبنی تاریخ  اور ذاتی رائے کے درمیان فرق مٹ جاتا ہے۔ انہوں نے تاریخ  کے نام پر سوشل میڈیا پر پھیلائے جارہے مشمولات کو ’’ذاتی رائے‘‘ کے زمرے میں شمار کیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK