ایران کے جلاوطن شہزادہ رضا پہلوی نے ایرانی مظاہرین سے دوبارہ اپیل کی ہے کہ وہ کوئی سڑک خالی نہ چھوڑیں، ٹرمپ اس کا مشاہدہ کررہے ہیں، اور مدد کیلئے تیار ہیں۔
EPAPER
Updated: January 11, 2026, 10:16 PM IST | Washington
ایران کے جلاوطن شہزادہ رضا پہلوی نے ایرانی مظاہرین سے دوبارہ اپیل کی ہے کہ وہ کوئی سڑک خالی نہ چھوڑیں، ٹرمپ اس کا مشاہدہ کررہے ہیں، اور مدد کیلئے تیار ہیں۔
جلاوطن شہزادہ رضا پہلوی نے ایرانیوں سے سڑکوں پر ڈٹے رہنے کی اپیل کی، کہا کہ ٹرمپ نظریں جما کر دیکھ رہے ہیں اور مدد کے لیے تیار ہیں، ساتھ ہی اپنی وطن واپسی کی طرف اشارہ کیا۔ واضح رہے کہ معاشی بدحالی سے شروع ہونے والے مظاہروں پر حکومت نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے، جس میں سزائے موت کی وارننگ بھی شامل ہے، جبکہ امریکہ مظاہرین کی حمایت کا اعلان کر رہا ہے۔ایران کے جلاوطن شہزادہ رضا پہلوی نے مظاہروں کو جاری رکھنے کی اپیل دہراتے ہوئے کہا کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ اس صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایران آزادی کی طرف دیکھ رہا ہے، واشنگٹن مدد کیلئے تیار ہے: ٹرمپ
بعد ازاں پہلوی نے مظاہرین کی جرات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’’ میرا دل آپ کے ساتھ ہے۔ میں جانتا ہوں کہ میں جلد ہی آپ کے ساتھ ہوں گا۔‘‘ اس سے قبل سنیچر کو انہوں نے کہا تھا کہ وہ ’’وطن واپسی‘‘ کی تیاری کر رہے ہیں۔تاہم ملک کے جلاوطن شہزادے نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے ایرانی عوام کی مدد کے لیے مداخلت کی اپیل بھی کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ’’ ٹرمپ امن پسند اور اپنے قول کے پکے ہیںاور اس لیے انہیں ایرانی عوام کی مدد کرنی چاہیے۔‘‘ دریں اثناء ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہا کہ’’ ایران شاید پہلے کبھی نہ دیکھی گئی آزادی کی طرف دیکھ رہا ہے اور امریکہ مدد کے لیے تیار ہے۔‘‘ساتھ ہی ٹرمپ نے ایران کی حکومت کو انتباہ دیا کہ اگر انہوں نے مظاہرین پر گولیاں چلائیں تو امریکہ مداخلت کرے گا۔جبکہ ایک دن بعد، امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکہ ایران کے بہادر عوام کی حمایت کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ کو اگرانسانیت پر یقین ہے تو نیتن یاہو کواغوا کرے: پاکستانی وزیرخواجہ آصف
یاد رہے کہ یہ احتجاج اس وقت شروع ہوا جب ایرانی ریال کم ترین سطح پر آگیا۔ جس کے بعد، مہنگائی نے ریکارڈ توڑ دیا اور خوراک کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں۔ اس غصے میں روزمرہ کی اشیاء کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور۲۰۲۶ء کے بجٹ میں۶۲؍ فیصد ٹیکس میں اضافے کے منصوبے نے بھی اضافہ کیا۔ دکاندار اور تاجر پہلے گروہ تھے جنہوں نے سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا۔ایران نے۱۰؍ جنوری کو سخت ردعمل کا اعلان کرتے ہوئے ملک کے اٹارنی جنرل کی طرف سے انتباہ جاری کیا کہ مظاہروں میں حصہ لینے والے ہر شخص کے ساتھ ’’خدا کا دشمن‘‘ جیسا سلوک کیا جائے گا، ایک ایسا الزام جس کی سزا موت ہے۔ خامنہ ای نے مظاہرین کو ’’غارت گر‘‘ اور ’’ تخریب کار‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے پیش گوئی کی کہ ’’متکبر‘‘ امریکی صدر بھی اس بادشاہت کی طرح ’’زیر‘‘ ہو جائے گا جس نے۱۹۷۹ء کے انقلاب تک ایران پر حکومت کی تھی۔