Inquilab Logo Happiest Places to Work

ملک میں گیہوں کی ریکارڈ پیداوارہونے کی اُمید

Updated: April 13, 2020, 4:30 AM IST | Agency | New Delhi

اس برس مانسون موافق ہونے کی وجہ سے گیہوں کی پیداوار ۱۰؍ کروڑ ۵۰؍ لاکھ ٹن تک پہنچنے کی امید فوڈ کارپوریشن نے ظاہر کی ، انڈین کونسل برائے زرعی تحقیق کے اندازے کے مطابق یہ اعداد وشمار اور بھی بہتر ہوسکتے ہیں اگر لاک ڈائون سے مزدوروںکو چھٹکارہ مل جائے ،کئی سو ٹن گیہوں برآمد کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا

Jalandhar Farm - Pic : PTI
پورے ملک میں گیہوں کی بمپر فصل آنے کی امید فوڈ کارپوریشن نے ظاہر کی ہے۔ تصویر : پی ٹی آئی

انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ کے ڈائریکٹر جنرل ترلوچن مہاپاتر انے واضح کیا ہے کہ  اس برس گیہوں کی ریکارڈ پیداوار ہوگی۔ ساتھ ہی فوڈ کارپوریشن نے بھی کہا کہ  اس سال بارش نے ہماری امیدیںبڑھادی ہیںاور ہم امید کررہے ہیں کہ گیہوں ریکارڈ مقدار میں آئےگا۔ زرعی ریسرچ کے  ڈاکٹر مہاپاترا نے کہاکہ اس برس مانسون کے موافق ہونے اور گیہوں کے لئے بہتر موسم ہونے کی وجہ سے   ۱۰؍کروڑ  ۵۰؍لاکھ ٹن پیداوار ہونے کا اندازہ ہے جو اب تک کی سب سے زیادہ پیداوار ہوگی۔ گزشتہ برس دس لاکھ ٹن سے کچھ زیادہ گیہوں کی پیداوار ہوئی تھی۔  انہوں نے کہا کہ اس بار گزشتہ سال کے مقابلے میںکہیں زیادہ گیہوں کی بمپر فصل ہونے والی ہے۔ مہا پاترا کے مطابق گیہوں کےتیار ہونے کے آخری مرحلہ میں ملک کے کئی حصوں میں بے موسم برسات، ژالہ باری اور تیز ہوائوں کے چلنے کے باوجود گیہوں کی ریکارڈ پیداوار ہونا کسانوں اور سائنسدانوں کی سخت محنت اور حکومت کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔
 ڈاکٹر مہاپاتر انے کہاکہ لاک ڈائون کی وجہ سے زرعی شعبہ کو کچھ پریشانی  ہورہی ہے لیکن اسے دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے۔ کمبائنڈ ہارویسٹر کو ریاست کے اندر اور باہر جانے کی اجازت دی گئی ہے اور سڑکوں کے کنارے گاڑیوں اور زرعی آلات کی مرمت کیلئے دکانیں کھولی جارہی ہے۔ کسانوں اور زرعی مزدوروں کو صفائی ستھرائی اور سماجی دوری  قائم رکھتے ہوئے فصلوں کی کٹائی کرنے کی چھوٹ دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک ساتھ فصلوں کے تیار ہونے پر اس کی فروخت کے لئے سماجی دوری  قائم رکھنے کا مسئلہ ہوگا جس کے لئے انتظامیہ کی ضرورت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ سیدھے گودام تک کسانوں کو فصلوں کو پہنچانے کی اجازت دیکر کچھ حد تک کسانوں کو ایک ساتھ جمع ہونے سے روکا جاسکتا ہے۔ ملک کے ساڑھے پانچ کروڑ کسانوں کو زرعی سائنس مرکز اور گوداموںکے ذرائع سے صفائی ستھرائی اور سماجی دور بنائے رکھنے کیلئے بیدار کیا گیا ہے۔انہوں نے گیہوں کے ایکسپورٹ پر خوشی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں پہلے  سے گیہوں کا ذخیرہ ہے اور نئی فصل کے آنے پر اس کے رکھنے کا مسئلہ ہوگا۔ گیہوں کے ایکسپورٹ سے گودام خالی ہوں گے اور نئی فصل کو رکھنے کی جگہ ملے گی۔ حکومت نے افغانستان اور لبنان کو ۹۰؍ ہزار ٹن گیہوں کے ایکسپورٹ کا فیصلہ کیا ہے۔
 واضح رہے کہ گیہو کی پیداوار کے معاملے میں ہندوستان خود کفیل ہے ۔ یہاں پر پنجاب ، ہریانہ ، راجستھان ، گجرات ، یوپی اور مدھیہ پردیش میں ہر سال بڑے پیمانے پر گیہوں بویا جاتا ہے اورہر سال یہ فصل بمپر کے زمرے تک پہنچتی ہے۔ اس سال بھی کم و بیش یہی عالم ہے کیوں کہ اس سال تو گیہوں کی پیداوار نے تمام پرانے ریکارڈ توڑنے کا اشارہ دے دیا ہے۔
  ادھر حکومت نے اس سال گندم کی اچھی پیداوار کو دیکھتے ہوئے ۹۰؍  ہزار ٹن گندم برآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔گندم کی ضرورت سے زیادہ پیداوارہونےاورکئی ریاستوں میں گزشتہ سال کے گندم کا ذخیرہ بچا ہونے سے اس بار افغانستان اورلبنان کو ۹۰؍  ہزار ٹن گیہوں برآمد کیا جائے گا۔ افغانستان کو ۵۰؍  ہزار ٹن اورلبنان کو ۴۰؍ ہزار ٹن گندم برآمد کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے۔اس سال ملک میں گندم کی پیداوار ضرورت سے زیادہ ہوئی ہے. دوسرے ممالک سےمانگ کی بنیاد پرنیفیڈ کو جی ٹو  جی التزام کے تحت افغانستان  اور لبنان کو برآمد کرنے کو کہا گیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ دونوںہی ممالک ہندوستان کے گیہوں کے دلدادہ ہیںاور اس سے قبل بھی یہاں سے زائد گیہوں کی خریداری کرچکے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK