Updated: February 20, 2026, 2:54 PM IST
| London
ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا پر مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ حقیقت پسندانہ تصاویر اور ویڈیوز کی بڑھتی ہوئی موجودگی لوگوں میں ایسے واقعات کی جھوٹی یادیں پیدا کر رہی ہے جو کبھی پیش ہی نہیں آئے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ اے آئی بصری مواد ذہن کو زیادہ تیزی سے متاثر کرتا ہے اور یادداشت کو مسخ کر سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ۲۰۲۲ء سے اب تک سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر تقریباً ۱۵؍ بلین جعلی اے آئی سے تیار کردہ تصاویر شیئر کی جا چکی ہیں۔ حالیہ تخمینوں کے مطابق آن لائن گردش کرنے والے تقریباً ۷۱؍ فیصد بصری مواد کسی نہ کسی حد تک اے آئی سے تخلیق شدہ ہے۔ ویڈیو پلیٹ فارم ٹک ٹاک پر ۳ء۱؍ بلین سے زائد اے آئی لیبل والے ویڈیوز گردش کر رہے ہیں۔ محققین کے مطابق یہ حجم حقیقت اور مصنوعی مواد کے درمیان حد کو تیزی سے دھندلا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: میکسیکو کا ٹرمپ کے’’بورڈ آف پیس‘‘ کی مکمل رکنیت سے انکار، فلسطین کے حق میں موقف
ایم آئی ٹی تحقیق: غلط یادوں میں اضافہ
میساچوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی حالیہ تحقیق میں پایا گیا کہ اے آئی سے ہیرا پھیری شدہ بصری مواد دیکھنے والے افراد میں کنٹرول گروپ کے مقابلے میں دو گنا زیادہ غلط یادیں پیدا ہوئیں۔ محققین کے مطابق انسانی دماغ بصری معلومات کو زیادہ قابلِ اعتماد سمجھتا ہے، اسی لیے ہائپر ریئلسٹک اے آئی مواد بار بار دیکھنے سے ’’شناسائی کا غلط احساس‘‘ پیدا ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں دماغ من گھڑت واقعات کو ذاتی تجربے کے طور پر قبول کرنے لگتا ہے۔
ماہرین کیا کہتے ہیں؟
یونیورسٹی آف کیلیفورنیا میں انسانی یادداشت کی محقق اور ماہر ایلزبتھ لوفٹس نے خبردار کیا کہ اے آئی سے تیار کردہ مواد وقت کے ساتھ میموری کو مستقل طور پر تبدیل کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق لوگ ایسے واقعات پر بھی مخلصانہ یقین کرنے لگتے ہیں جو کبھی پیش نہیں آئے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا نے جعلی معلومات کو تیزی سے پھیلانے کی صلاحیت کئی گنا بڑھا دی ہے، جس سے زیادہ لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔
اسی طرح پولینڈ کی ایس ڈبلیو پی ایس یونیورسٹی کی اسسٹنٹ پروفیسر میگڈیلنا کیکس کے مطابق بصری مواد متن کے مقابلے میں زیادہ مؤثر انداز میں یادداشت کو متاثر کرتا ہے کیونکہ اس پر عمل کرنے کے لیے کم ذہنی کوشش درکار ہوتی ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ انسانی دماغ یادوں کو محفوظ شدہ فائل کی طرح بازیافت نہیں کرتا بلکہ ہر بار انہیں ’’دوبارہ تشکیل‘‘ دیتا ہے، جس سے تحریف کا امکان بڑھ جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مصنوعی ذہانت کا مستقبل چند ممالک کے ہاتھوں میں نہیں ہونا چاہیے: انتونیو غطریس
خطرات اور ممکنہ مثبت پہلو
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رجحان خاص طور پر بچوں اور سوشل میڈیا کے زیادہ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ ذہنی صحت اور علمی نشوونما کو متاثر کر سکتا ہے۔ تاہم ایلزبتھ لوفٹس کے مطابق اے آئی ٹیکنالوجی کے مثبت استعمال بھی ممکن ہیں، جیسے کہ صحت مند عادات کو فروغ دینے یا غیر صحت مند رویوں کی حوصلہ شکنی کے لیے تجرباتی طریقے۔
اے آئی سے تیار کردہ بصری مواد کی تیزی سے بڑھتی ہوئی موجودگی ڈجیٹل دور میں حقیقت اور فریب کے درمیان فرق کو مشکل بنا رہی ہے۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ صارفین کو مواد کے ماخذ کی تصدیق کرنی چاہیے اور ڈجیٹل خواندگی کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔