Inquilab Logo Happiest Places to Work

مشہور ادیب نارنگ ساقی کا انتقال

Updated: June 07, 2026, 12:30 PM IST | New Delhi

اُردو زبان و ادب کا مینارۂ نو ر، اُردو کی گنگا جمنی تہذیب کے نمائندہ، کئی کتابوں کے مصنف و مرتب اور اُردو دُنیا کا حصہ رہ کر اسے بہت قریب سے دیکھنے والے پُرمزاح ادیب نارنگ ساقی جمعہ کی شب دہلی میں انتقال کرگئے۔ اُن کی رحلت اُردو زبان و ادب کیلئے بڑا سانحہ ہے۔ نارنگ ساقی کا پورا نام کے ایل (کرشن لال) نارنگ تھا۔

Narang Saqi. Photo: INN
نارنگ ساقی۔ تصویر: آئی این این

اُردو زبان و ادب کا مینارۂ نو ر، اُردو کی گنگا جمنی تہذیب کے نمائندہ، کئی کتابوں کے مصنف و مرتب اور اُردو دُنیا کا حصہ رہ کر اسے بہت قریب سے دیکھنے والے پُرمزاح ادیب نارنگ ساقی جمعہ کی شب دہلی میں انتقال کرگئے۔ اُن کی رحلت اُردو زبان و ادب کیلئے بڑا سانحہ ہے۔ نارنگ ساقی کا پورا نام کے ایل (کرشن لال) نارنگ تھا۔ وہ ۲۴؍ اگست ۱۹۳۶ء کو ضلع فیروز پور کے قصبہ سودھی نگر میں پیدا ہوئے تھے جو تقسیم وطن سے پہلے بھی ہندوستان ہی کا حصہ تھا۔ اُن کے والد کاروباری شخصیت تھے مگر زبان و ادب کا نہایت اعلیٰ ذوق رکھتے تھے۔ خود نارنگ ساقی نے لکھا ہے کہ ’’میرے  والد شری سندر داس نارنگ شعر و ادب کے دلدادہ تھے، ثبوت اس کا یہ ہے کہ عام بات چیت میں شعروں کے حوالے دیا کرتے اور گلستاں بوستاں کا ذکر کیا کرتے تھے۔‘‘ ظاہر ہے کہ نارنگ ساقی کو یہ ذوق اپنے والد سے وراثت میں ملا جسے اُنہوں نے خوب خوب پروان چڑھایا۔ والد کی طرح وہ بھی کاروبار پیشہ ہی رہے چنانچہ امرتسر میں اُن کا ہوٹل تھا، چنڈی گڑھ میں امپورٹ ایکسپورٹ کا کاروبار رہا، بعد ازیں دہلی میں انہوں نے کنسٹرکشن کے کاروبار میں دلچسپی لی۔

یہ بھی پڑھئے: سی بی ایس ای میں بے ضابطگیاں دھرمیندر پردھان کی نااہلی کاثبوت ہیں: کانگریس

نارنگ ساقی کی تصانیف میں سب سے زیادہ مشہور ’’شگفتگی و برجستگی قلمکاروں کی (ادبی لطائف)‘‘ ہے جو ۲۰۱۹ء میں منظر عام پر آئی۔ ۳۶۶؍ صفحات پر مشتمل اس کتاب میں اقبال، اکبر (الٰہ آبادی)، اختر شیرانی، چراغ حسن حسرت، جوش، پطرس اور ایسی ہی کئی بلند قامت شخصیات کے برجستہ جملوں اور لطیفوں کو قلمبند کیا گیا ہے۔ تقسیم کے دور کے واقعات کے سبب نارنگ ساقی کا خاندان دہلی منتقل ہوگیا تھا جہاں وہ اخیر عمر تک رہے اور بڑی بھرپور زندگی گزاری۔نارنگ ساقی اُن خوش قسمت ادیبوں میں سے ہیں جن کی شخصیت پر اظہار خیال کرنے والوں میں گوپی چند نارنگ، شمس الرحمان فاروقی انور سدید، بلراج کومل، جگن ناتھ آزاد، پروفیسر قاضی عبدالستار، جوگندر پال، مزاح نگار دلیپ سنگھ، عطاء الحق قاسمی، پروفیسر عنوان چشتی اور ایسے ہی درجنوں ادباء ، شعراء اور نقاد شامل ہیں۔ اُن کی شخصیت اور فن پر ’اسباق‘‘ (پونے) کے مدیر نذیر فتح پوری نے کم و بیش چھ سو صفحات پر مشتمل کتاب ’’میخانہ اُردو کا پیر مغاں‘‘ لکھی تھی جو ۲۰۱۲ء میں شائع ہوئی تھی۔نارنگ ساقی نے خود جو کتابیں لکھیں یا مرتب کیں اُن میں ’’منتشر افکار‘‘اور ’’ہمارے کنور صاحب‘‘ (کنور مہندر سنگھ بیدی سحر) ، ادیبوں کے لطیفے اور کلیات اکبر الہ اابادی شامل ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK