Updated: July 22, 2026, 8:59 PM IST
| New Delhi
ماہرِ تعلیم اور سماجی کارکن سونم وانگچک نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی جاری بھوک ہڑتال اسی صورت میں ختم کریں گے جب مرکزی حکومت تحریری یا واضح عوامی یقین دہانی کرائے کہ احتجاج میں شریک طلبہ اور نوجوان مظاہرین کے خلاف کوئی قانونی یا تادیبی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ وانگچک نے کہا کہ ان کی اولین ترجیح نوجوانوں کا تحفظ ہے، اس لیے جب تک حکومت اس حوالے سے واضح یقین دہانی نہیں کراتی، وہ اپنی بھوک ہڑتال ختم نہیں کریں گے۔
سماجی کارکن اور ماہرِ تعلیم سونم وانگچک نے اپنی جاری بھوک ہڑتال ختم کرنے کے لیے نئی شرط سامنے رکھتے ہوئے کہا ہے کہ وہ صرف اسی صورت میں بھوک ہڑتال ختم کریں گے جب مرکزی حکومت احتجاج میں شریک نوجوانوں اور طلبہ کے خلاف کسی بھی قسم کی قانونی، انتظامی یا تادیبی کارروائی نہ کرنے کی واضح ضمانت دے۔ وانگچک کا کہنا ہے کہ ان کی جدوجہد کا مقصد صرف مطالبات منوانا نہیں بلکہ ان نوجوانوں کا تحفظ بھی ہے جنہوں نے اس تحریک میں حصہ لیا۔ رپورٹس کے مطابق وانگچک نے مرکزی وزراء جے پی نڈا اور جتیندر سنگھ کے نام ایک تحریری خط بھی بھیجا ہے، جس میں انہوں نے کہا کہ اگر حکومت مظاہرین کے خلاف مقدمات، گرفتاریوں یا دیگر انتقامی اقدامات سے گریز کرنے کی یقین دہانی کرا دے تو وہ اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ احتجاج میں شریک نوجوانوں کو مستقبل میں کسی قسم کے خوف یا دباؤ کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔
یہ بھی پڑھئے: سی جے پی احتجاج: انٹرنیٹ بندش کے باوجود رابطہ، آف لائن میسجنگ ایپس کی تحقیقات
وانگچک نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اختلافِ رائے کا اظہار جمہوری نظام کا بنیادی حصہ ہے اور احتجاج کرنے والے طلبہ کو سزا دینے کے بجائے ان کے خدشات اور مطالبات پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق اگر احتجاج کے بعد نوجوانوں کو قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا تو اس سے مستقبل میں جمہوری اظہارِ رائے پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وانگچک کی صحت کے حوالے سے بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ دنوں طبیعت بگڑنے پر انہیں پولیس کی نگرانی میں اسپتال منتقل کیا گیا تھا، تاہم انہوں نے اپنی تحریک جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔ اب ان کے تازہ بیان کو حکومت کے لیے ایک اہم پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس میں انہوں نے اپنی ذاتی صحت سے زیادہ نوجوان مظاہرین کے تحفظ کو ترجیح دی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: سی جےآئی کا طلبہ مظاہرین پر پولیس تشدد کے معاملے پر فوری سماعت سےانکار، کہا ’ہمارا وقت ضائع نہ کریں‘
اب تمام نظریں حکومت کے ممکنہ ردعمل پر مرکوز ہیں۔ اگر حکومت وانگچک کی شرط قبول کرتی ہے تو ان کی طویل بھوک ہڑتال اختتام پذیر ہو سکتی ہے، جبکہ بصورتِ دیگر احتجاجی تحریک مزید طول پکڑنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تاہم خبر لکھے جانے تک حکومت کی جانب سے وانگچک کی تازہ شرط پر کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا تھا۔