Updated: August 11, 2026, 7:03 PM IST
| Mumbai
بالی ووڈ فلمساز اور اداکار فرحان اختر نے ’’ڈان ۳ ‘‘ سے جڑے طویل تنازع کے درمیان ایسا تبصرہ کیا ہے جسے سوشل میڈیا پر رنویر سنگھ کے لیے بالواسطہ طنز قرار دیا جا رہا ہے۔ اگرچہ فرحان نے رنویر کا نام نہیں لیا، لیکن ان کے بیان کا وقت اور ’’ڈان۳‘‘ سے متعلق ماضی کا تنازع لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
فرحان اختر اور رنویر سنگھ۔ تصویر:آئی این این
بالی ووڈ فلمساز اور اداکار فرحان اختر نے ’’ڈان ۳ ‘‘ سے جڑے طویل تنازع کے درمیان ایسا تبصرہ کیا ہے جسے سوشل میڈیا پر رنویر سنگھ کے لیے بالواسطہ طنز قرار دیا جا رہا ہے۔ اگرچہ فرحان نے رنویر کا نام نہیں لیا، لیکن ان کے بیان کا وقت اور ’’ڈان۳‘‘ سے متعلق ماضی کا تنازع لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
’دل چاہتا ہے‘ سے جڑی پرانی یاد
فرحان اختر نےایک انٹرویو میں اپنی پہلی فلم ’’دل چاہتا ہے‘‘کی تیاری کے دنوں کو یاد کیا۔ فلم کو ریلیز ہوئے۲۵؍ سال مکمل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ فلم کی شوٹنگ شروع ہونے سے تقریباً ایک ماہ پہلے سیف علی خان کے سامنے تاریخوں کا مسئلہ پیدا ہوگیا تھا۔ سیف ایک دوسری فلم کے ساتھ تاریخوں کے ٹکراؤ کی وجہ سے ’’دل چاہتا ہے‘‘ سے الگ ہونے کی صورتحال میں پہنچ گئے تھے۔ فرحان کے مطابق، اس وقت انہیں شدید پریشانی ہوئی کیونکہ وہ سیف کے کردار کے لیے کسی دوسرے اداکار کا تصور ہی نہیں کرسکتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ سب نے سیف کو فلم نہ چھوڑنے پر قائل کرنے کی کوشش کی اور آخرکار معاملہ حل ہوگیا۔
یہ بھی پڑھئے:راشد خان کی شاندار کارکردگی، افغانستان نے ورلڈ کپ میں جگہ بنائی
’’صرف میرے ساتھ ہی نہیں، ایسا ہوتا ہے‘‘
اپنی اس پرانی پریشانی کا ذکر کرتے ہوئے فرحان نے آج کے فلمی حالات سے موازنہ کیا اور مسکراتے ہوئے کہا’’صرف میرے ساتھ ہی نہیں، ایسا بھی ہوتا ہے۔ ہے نا؟‘‘۔فرحان نے رنویر سنگھ کا نام نہیں لیا، لیکن ’’ڈان ۳‘‘ کے تنازع کی وجہ سے اس جملے کو فوراً رنویر سے جوڑا جانے لگا۔رنویر کے بارے میں گزشتہ عرصے میں یہ رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ وہ فلم کی شوٹنگ شروع ہونے سے چند ہفتے پہلے ’’ڈان ۳‘‘ سے الگ ہوگئے تھے۔ اس کے بعد معاملہ صرف فلم چھوڑنے تک محدود نہیں رہا بلکہ معاوضے، پروڈکشن نقصان اور دیگر معاملات پر بھی اختلافات کی خبریں سامنے آئیں۔
’’ڈان ۳‘‘ میں اصل تنازع کیا تھا؟
’’ڈان ۳‘‘میں رنویر سنگھ کو امیتابھ بچن اور شاہ رخ خان کے بعد ڈان کے کردار کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔ تاہم بعد میں ان کے فلم سے الگ ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔رپورٹس کے مطابق رنویر نے فلم سے علیحدگی کی متعدد وجوہات بیان کی تھیں۔ ان میں اسکرپٹ سے متعلق تحفظات، فرحان اختر کی دستیابی اور فلم کے بجٹ میں مبینہ کمی جیسے معاملات شامل تھے۔ یہ بھی رپورٹ ہوا کہ فلم کا مجوزہ بجٹ تقریباً ۳۰۰؍ سے ۳۵۰؍ کروڑ روپے سے کم ہوکر تقریباً ۱۵۰؍کروڑ روپے رہ گیا تھا۔ تاہم ان دعوؤں پر دونوں جانب سے مختلف مؤقف سامنے آتے رہے ہیں۔ معاملہ بعد میں فلمی صنعت کی تنظیموں تک بھی پہنچا اور رنویر کے خلاف مبینہ طور پر عدم تعاون کی ہدایت بھی جاری ہوئی، جسے کچھ ہی دنوں بعد واپس لے لیا گیا۔
فرحان نے تنازع سے کیا سیکھا؟
’’ڈان ۳‘‘ کے تجربے کے بارے میں فرحان پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ فلم سازی میں کسی بھی چیز کو اس وقت تک یقینی نہیں سمجھنا چاہیے جب تک فلم کی شوٹنگ مکمل نہ ہوجائے۔ ان کے مطابق انہوں نے اس تجربے سے ایک اہم سبق سیکھا’’غیر متوقع چیز کے لیے تیار رہیں۔‘‘ فرحان کا کہنا تھا کہ فلم سازی میں ایسے مشکل مراحل آ سکتے ہیں جو تخلیقی اور ذاتی دونوں اعتبار سے آزمائش بن جائیں۔ ایسے وقت میں انسان کو حالات کا سامنا کرنا اور آگے بڑھنا سیکھنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھئے:فلم (دی اوڈیسی) نے عالمی باکس آفس پر ۱ء۱؍ ارب ڈالر کا ہندسہ عبور کر لیا
رنویر کی کامیابی نے تنازع کو مزید نمایاں کیا
’’ڈان ۳‘‘ سے علیحدگی کے بعد رنویر سنگھ کی فلم ’’دُھرندھر‘‘ نے باکس آفس پر زبردست کامیابی حاصل کی۔ اس کامیابی کے بعد رنویر کے کریئر کو ایک نئی تجارتی رفتار ملی اور’’دُھرندھر‘‘ فرنچائز بھی بڑی ہندی فلم سیریز میں شمار ہونے لگی۔ اسی پس منظر میں فرحان کا’’دل چاہتاہے‘‘ کے پرانے واقعہ کو یاد کرتے ہوئے ’’صرف میرے ساتھ ہی نہیں‘‘ کہنا مداحوں اور فلمی حلقوں میں خاصی دلچسپی کا باعث بنا ہے۔ تاہم اہم بات یہ ہے کہ فرحان اختر نے اپنے بیان میں رنویر سنگھ کا نام نہیں لیا۔ اس لیے اسے براہِ راست رنویر پر حملہ قرار دینا درست نہیں ہوگا؛ یہ زیادہ تر ’’ڈان ۳‘‘ کے پس منظر میں کیا جانے والا ایک ممکنہ بالواسطہ اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔