غزہ میں امداد کی ترسیل میں تاخیر پر ڈیلیو ایچ او نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے، ساتھ ہی کہا کہ غزہ میں فی الوقت اتنی انسانی امداد بھی داخل نہیں ہو پا رہی جس سے صحت کی سہولیات کی بحالی یا ان میں کوئی قابلِ ذکر بہتری لائی جا سکے۔
EPAPER
Updated: October 03, 2026, 9:55 PM IST | Gaza
غزہ میں امداد کی ترسیل میں تاخیر پر ڈیلیو ایچ او نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے، ساتھ ہی کہا کہ غزہ میں فی الوقت اتنی انسانی امداد بھی داخل نہیں ہو پا رہی جس سے صحت کی سہولیات کی بحالی یا ان میں کوئی قابلِ ذکر بہتری لائی جا سکے۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او ) نے جمعہ کو اسرائیل کے راستے غزہ میں انسانی امداد پہنچانے کے عمل میں مسلسل تاخیر اور طبی سامان کی شدید قلت پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ فلسطینی علاقوں میں عالمی ادارہ صحت کی نمائندہ رائنہلڈ وین ڈی ویرڈ (Reinhilde Van de Weerdt) نے یروشلم سے جنیوا میںمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ غزہ پٹی میں صحت کی صورتحال انتہائی ابتر ہے اور وہاں کا ایک بھی اسپتال مکمل طور پر فعال نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں فی الوقت اتنی انسانی امداد بھی داخل نہیں ہو پا رہی جس سے صحت کی سہولیات کی بحالی یا ان میں کوئی قابلِ ذکر بہتری لائی جا سکے۔انہوں نے وضاحت کی کہ طبی اور دیگر انسانی امدادی سامان کیلئے اسرائیل کا منظور شدہ نظام سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے، جو نہ صرف انتہائی دشوار اور وقت طلب ہے بلکہ اس کے نتائج کی بھی کوئی ضمانت نہیں ہوتی۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ: تاج ٹاور کے ملبے سے نکالے گئے۱۰۵؍شہداءکی تدفین
بعد ازاں ادارہ صحت کے تازہ ترین تجزیے کے مطابق، طبی سامان کی بڑی کھیپوں کو منظوری ملنے میں اوسطاً ۷۴؍ دن کا وقت لگتا ہےاور اگر منظوری نہ ملے تو یہ طویل اور پیچیدہ عمل نئے سرے سے شروع کرنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ، اس منظوری کے نظام اور قواعد و ضوابط میں مسلسل تبدیلیاں کی جاتی رہتی ہیں۔ دوسری طرف، اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ ایسے سامان کی آمد کو روک رہا ہے جن کا عسکری استعمال ہو سکتا ہےاور وہ حماس پر مزید تشدد کی منصوبہ بندی کرنے کا الزام عائد کرتا ہے۔رائنہلڈ نے بتایا کہ دنیا بھر میں استعمال ہونے والی معیاری ہیلتھ کٹس کی منظوری کی شرح سب سے کم ہے، جبکہ ایکس رے مشینیں، جراثیم کشی کے آلات اور سی ٹی اسکین جیسے ضروری سامان کے اسپیئر پارٹس کو اکثر منسوخ کر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صرف گزشتہ چھ ماہ کے دوران مصنوعی اعضاء اور امدادی آلات کی ایک ہی کھیپ کو چار الگ الگ بار منسوخ کیا گیا۔ تاہم، ان کے مطابق ادویات کی ترسیل کی صورتحال نسبتاً بہتر ہے، جہاں تقریباً ۸۷؍ فیصد ادویات کو منظوری مل جاتی ہے اور صرف ایک فیصد کو منسوخ کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل: اپوزیشن لیڈر کا انکشاف، نوجوان اسرائیلی غزہ میں فلسطینیوں کے قتل کےحامی
عالمی ادارہ صحت کی نمائندہ نے زور دے کر کہا کہ یہ محض کوئی ایک رکاوٹ نہیں ہےبلکہ تاخیر پر تاخیر کا ایک پورا نظام قائم ہو چکا ہےاور ان تاخیروں کی دوسری طرف ایک ایسا مریض ہے جو علاج کا منتظر ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ غزہ میں انسانی اور طبی سامان کو بلا تعطل بڑے پیمانے پر آمد کو یقینی بنایا جائے اور امید ظاہر کی کہ اسرائیل کم از کم طبی سامان پر سے یہ دباؤ ختم کرے گا۔ انہوں نے امداد کیلئے مزید سرحدی راستے کھولنے اور تمام قواعد و طریقہ کار کے بارے میں واضح اور شائع شدہ ہدایات جاری کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ کامیابی کا اندازہ سرحد پار کرنے والے ٹرکوں کی تعداد سے نہیں لگایا جانا چاہئے، کیونکہ اس سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ لوگوں کی حقیقی طبی ضرورتیں پوری ہو رہی ہیں یا نہیں۔ غیر ترجیحی سامان سے بھرا ہوا ٹرک یا صحیح سامان کا بہت دیر سے پہنچنا انسانی جانیں نہیں بچا سکتا۔
واضح رہے کہ غزہ جنگ کا آغاز سے شدید اسرائیلی فوجی کارروائی نے غزہ کے بیشتر حصے کو کھنڈر بنا دیا ہے اور غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق، جس کی معلومات کو اقوامِ متحدہ قابلِ اعتماد مانتی ہے، اب تک ۷۴؍ ہزارسے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔