Updated: July 06, 2026, 9:51 PM IST
| New York
جدید انٹرنیٹ کے بانی معماروں میں شمار ہونے والے وِنٹن گرے (وِنٹ) سرف نے گوگل سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہوئے مصنوعی ذہانت (اے آئی ) کے مستقبل سے متعلق اہم انتباہ دیا ہے۔ ۸۳؍ سالہ سرف نے کہا کہ اگر خودمختار اے آئی ایجنٹس ایک دوسرے سے صرف عام انسانی زبان میں رابطہ کریں گے تو غلط فہمیاں بڑھ سکتی ہیں، اس لیے صنعت کو TCP/IP کی طرح واضح، معیاری اور مشینوں کے لیے مخصوص مواصلاتی نظام تیار کرنا ہوگا۔
جدید انٹرنیٹ کے بنیادی معماروں میں شمار ہونے والے وِنٹن گرے (وِنٹ) سرف نے گوگل سے باضابطہ ریٹائرمنٹ اختیار کر لی ہے۔ ۸۳؍ سالہ امریکی کمپیوٹر سائنسداں نے اپنی رخصتی کے موقع پر مصنوعی ذہانت (اے آئی ) کے تیزی سے بدلتے ہوئے منظرنامے پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے خبردار کیا کہ مستقبل کے اے آئی نظاموں کے درمیان رابطے کے لیے صرف انسانی زبان پر انحصار خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ وِنٹ سرف، جنہیں دنیا بھر میں ’’فادر آف دی انٹرنیٹ‘‘ (بابائے انٹرنیٹ) کے نام سے جانا جاتا ہے، نے کہا کہ خودمختار اے آئی ایجنٹس کے درمیان درست اور محفوظ مواصلات کے لیے انگریزی جیسی قدرتی زبان موزوں نہیں کیونکہ اس میں لچک کے ساتھ ساتھ ابہام بھی پایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’مجھے نہیں لگتا کہ انگریزی بہترین انتخاب ہوگی۔ اس میں لچک ضرور ہے، لیکن ابہام بھی ہے، جبکہ اے آئی ایجنٹس کے درمیان رابطے میں درستگی سب سے زیادہ اہم ہوگی۔‘‘
سرف نے اے آئی ایجنٹس کے درمیان قدرتی زبان میں ہونے والے رابطے کو اسکول کے کھیل ’’ٹیلی فون‘‘ سے تشبیہ دی، جس میں ایک شخص سے دوسرے تک پہنچتے پہنچتے اصل پیغام تبدیل ہو جاتا ہے۔ ان کے مطابق اگر مستقبل کی خودکار معیشت میں یہی صورتحال پیدا ہوئی تو معمولی غلط فہمیاں بھی بڑے پیمانے پر غیر متوقع اور افراتفری والے نتائج پیدا کر سکتی ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ اے آئی صنعت کو ایک مرتبہ پھر انٹرنیٹ کی بنیاد رکھنے والے اصولوں کی طرف لوٹنا چاہیے اور TCP/IP کی طرز پر واضح، معیاری اور مشینوں کے لیے مخصوص مواصلاتی پروٹوکول تیار کرنے چاہییں تاکہ مختلف اے آئی نظام محفوظ اور درست انداز میں ایک دوسرے سے رابطہ کر سکیں۔
انٹرنیٹ کی بنیاد رکھنے والے سائنسداں
وِنٹ سرف نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کے آغاز میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، لاس اینجلس (UCLA) میں قدیم کمپیوٹر نیٹ ورک ARPANET پر کام کیا، جسے آج کے انٹرنیٹ کا ابتدائی نمونہ سمجھا جاتا ہے۔ یہیں ان کی ملاقات کمپیوٹر سائنس داں باب کاہن سے ہوئی، جن کے ساتھ مل کر انہوں نے ۱۹۷۴ء میں TCP/IP (Transmission Control Protocol/Internet Protocol) تیار کیا، جو آج بھی عالمی انٹرنیٹ کی بنیادی ٹیکنالوجی تصور کیا جاتا ہے۔
ٹی سی پی ڈیٹا کو مختلف پیکٹس میں تقسیم کرکے درست انداز میں منزل تک پہنچانے کو یقینی بناتا ہے، جبکہ آئی پی دنیا بھر میں ان پیکٹس کی روٹنگ کا نظام فراہم کرتا ہے۔ اسی تصور نے ایک ایسا کھلا، لچکدار اور عالمی معیار قائم کیا جس پر موجودہ انٹرنیٹ استوار ہے۔
یہ بھی پڑھئے:امریکہ اور بلجیم کے درمیان ہائی وولٹیج ٹکراؤ،۱۲؍ سالہ پرانے بدلے کا مشن
ای میل سے خلائی انٹرنیٹ تک خدمات
۱۹۸۰ء کی دہائی میں وِنٹ سرف نے ایم سی آئی میں شمولیت اختیار کی، جہاں انہوں کمپنی کو انٹرنیٹ سے منسلک کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا، جسے دنیا کی پہلی تجارتی ای میل سروسز میں شمار کیا جاتا ہے۔ بعد ازاں انہوں نے ناسا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری (JPL) کے ساتھ مل کر Delay Tolerant Networking (DTN) پروٹوکول کی تیاری میں بھی حصہ لیا، جس کا مقصد خلا میں انتہائی طویل فاصلے پر ڈیٹا کی قابل اعتماد ترسیل کو ممکن بنانا تھا۔
گوگل میں دو دہائیوں کا سفر
وِنٹ سرف نے ۲۰۰۵ء میں گوگل میں نائب صدر اور Chief Internet Evangelist کے طور پر شمولیت اختیار کی۔ دو دہائیوں تک انہوں نے عالمی انٹرنیٹ پالیسی، کھلے معیارات، ڈجیٹل رسائی اور مستقبل کی انٹرنیٹ ٹیکنالوجیز کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی آخری عوامی تقریب LOUD Institute Open Frontier Conference میں منعقد ہوئی، جہاں سائنس دانوں اور ٹیکنالوجی ماہرین نے انہیں کھڑے ہو کر خراجِ تحسین پیش کیا۔
اعزازات کی طویل فہرست
وِنٹ سرف کو کمپیوٹر سائنس کے اعلیٰ ترین اعزاز ACM A.M. Turing Award (2004) سے نوازا جا چکا ہے، جسے کمپیوٹنگ کا نوبیل انعام بھی کہا جاتا ہے۔ انہیں امریکہ کے مختلف اہم اعزازات سمیت متعدد عالمی اعزازات سے نوازا جا چکا ہے، جبکہ دنیا بھر کی جامعات نے انہیں ۲۹؍ اعزازی ڈاکٹریٹ بھی عطا کی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:امیتابھ بچن نے بارش کے باوجود جلسہ کے باہر جمع ہونے والے مداحوں کا شکریہ ادا کیا
اوپن سورس فلسفہ
اگرچہ وِنٹ سرف کے تیار کردہ انٹرنیٹ پروٹوکول نے کھربوں ڈالر کی ڈجیٹل معیشت کی بنیاد رکھی، تاہم انہوں نے TCP/IP کو کبھی پیٹنٹ نہیں کرایا۔ انہوں نے اور باب کاہن نے شعوری طور پر اس ٹیکنالوجی کو اوپن اسٹینڈرڈ رکھا تاکہ دنیا بھر میں ہر ادارہ اور ہر ملک اسے بلا رکاوٹ استعمال کر سکے۔ مالیاتی تجزیہ کاروں کے مطابق وِنٹ سرف کی مجموعی دولت تقریباً ۱۰؍ سے ۵۰؍ ملین ڈالر کے درمیان ہے، حالانکہ اگر وہ TCP/IP پر پیٹنٹ لے لیتے تو وہ دنیا کے امیر ترین ٹیکنالوجی شخصیات میں شامل ہو سکتے تھے۔ سرف کا کہنا ہے کہ ایک کھلا اور عالمی سطح پر قابلِ رسائی انٹرنیٹ کسی بھی ذاتی دولت سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔