بہادر باپ، بیٹی کو تیندوے کے چنگل سے چھڑاکر گاؤں واپس آرہا تھا کہ کنوئیں میں گرا،دونوں ہی اسپتال میں زیرعلاج ہیں۔
منوج گنجال- تصویر:آئی این این
ایک طرف دنیا بھر میں ’یوم پدر( فادرز ڈے)‘ منایا جا رہا تھا، وہیں دوسری جانب ضلع احمد نگر (اب اہلیہ نگر) کے تعلقہ اکولے کے گاؤں ڈونگرگاؤں میں ایک خوفناک واقعہ میں ایک باپ نے بہادری کی مثال کی ہے۔ یہاں اپنی چار سالہ بیٹی اَونی کو تیندوے کے جبڑے سے چھڑانے کیلئے منوج گنجال نامی ایک باپ نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر تیندوے سے دو دو ہاتھ کیے اور کسی طرح اپنی پھول جیسی بچی کو بچانے میں کامیاب رہا۔
سام ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق یہ رونگٹے کھڑے کردینے والا معاملہ اکولے تعلقہ کے ڈونگر گاؤں میں پیش آیا ہے۔ یہ رات کا وقت تھا ، منوج گنجال کے گھر کے قریب گھات لگائے بیٹھے تیندوے نے اچانک حملہ کر دیا۔ اس وقت ننھی اوَنی اپنی ماں کی پیٹھ پر تھی۔ تیندوے نے اسے اپنے منہ میں دبوچ لیا اور اندھیرے کی طرف گھسیٹنے لگا۔ بیٹی اور بیوی کی چیخ و پکار سنتے ہی والد منوج گنجال ایک لمحہ ضائع کیے بغیر تیندوے کی طرف دوڑ پڑے۔ انہوں نے اپنی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے تیندوے سے زبردست مقابلہ کیا اور اپنی بیٹی اوَنی کو اس کے چنگل سے آزاد کرا لیا۔
تاہم، بیٹی کو گود میں لے کر گھر کی طرف بھاگتے ہوئے اندھیرے کی وجہ سے سامنے موجود کنواں نظر نہ آیا اور باپ اور بیٹی دونوں سیدھے کنویں میں جا گرے۔ گاؤں والوں نے فوراً موقع پر پہنچ کر دونوں کو بحفاظت باہر نکالا۔ تیندوے کے حملے میں زخمی ہونے والے باپ اور بیٹی کا علاج اس وقت سنگم نیر کے اسپتال میں جاری ہے۔ اس واقعے کے بعد ایک بار پھر انسانی آبادی میں تیندوؤں کی آزادانہ نقل و حرکت کا مسئلہ زیرِ بحث آ گیا ہے۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ گزشتہ ماہ جُنّر تعلقہ کے شیروَلی گاؤں میں بھی ایک باپ نے تیندوے سے مقابلہ کرتے ہوئے اپنے بیٹے کو موت کے منہ سے بچایا تھا۔ لیکن اس بار ایک باپ کی حاضر دماغی اور بہادری نے ایک معصوم بچی کی جان بچا لی۔اپنی بیٹی کیلئے موت بن کر آنے والے تیندوے سے ٹکر لینے والے اس بہادر باپ کی ہر طرف تعریف ہو رہی ہے۔ تاہم اہلیہ نگر، ناسک اور پونے اضلاع میں تیندووں کے بڑھتے حملوں نے دیہی علاقوں میں خوف کا ماحول پیدا کر دیا ہے۔ ایسے میں محکمۂ جنگلات کی سست روی لوگوں میں ناراضی کا سبب بن رہی ہے۔ اگرچہ کچھ گاؤں میں ایسے بہادر باپ موجود ہیں جو تیندوے کو بھگا سکتے ہیں، مگر اس سنگین مسئلے کا مستقل حل آخر کب نکالا جائے گا؟ یہی آج سب سے بڑا سوال ہے۔