نیتن یاہو ہٹ دھرمی پر قائم ،کہا جب تک ضرورت ہو ہم لبنان میں موجود رہیں گے، حزب اللہ کے سیکریٹری نعیم قاسم نے کہا کہ اسرائیل کی من مانی سے جنگ بندی ممکن نہیں۔
EPAPER
Updated: June 23, 2026, 11:55 AM IST | Agency | Jerusalem
نیتن یاہو ہٹ دھرمی پر قائم ،کہا جب تک ضرورت ہو ہم لبنان میں موجود رہیں گے، حزب اللہ کے سیکریٹری نعیم قاسم نے کہا کہ اسرائیل کی من مانی سے جنگ بندی ممکن نہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں سیکوریٹی زون پر قبضہ برقرار رکھے گی۔
یہ بھی پڑھئے:بائیکاٹ کے سبب فلم’چینی کم‘ کیلئےمیڈیا نے امیتابھ کی تصویر کشی ہی نہیں کی تھی
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ جب تک ضرورت ہے ، اسرائیلی فوجیں جنوبی لبنان میں موجود رہیں گی۔ اتوار کے روزاپنے ایک بیان میںنیتن یاہو نے کہا کہ ہم شمال کے عزیز شہریوں اور اسرائیل کے تمام شہریوں کے تحفظ کے لیے جنوبی لبنان کے سیکوریٹی زون میں جب تک ضروری ہو، موجود رہیں گے، اس عزم کو کوئی چیز تبدیل نہیں کرسکتی۔ اسرائیلی وزیراعظم نے ایران کے حوالے سے کہا کہ سیاسی حالات جیسے بھی ہوں، میں ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دوں گا، جب تک میں اسرائیل کا وزیر اعظم ہوں، ایسا نہیں ہو سکتا۔
یہ بھی پڑھئے:فیفا ورلڈ کپ: میسی نےسب سے زیادہ انفرادی گول کرنے کا ریکارڈ قائم کر دیا
بعد ازاں ایک عوامی تقریب میں یاہو نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ نے اسرائیل کا اہم مقصد حاصل کر لیا ہے، یعنی ایران کو ایٹمی ہتھیار رکھنے سے روکنا۔ نیتن یاہو نے کہا کہ ہم نے ایران کو ہمیں مٹانے کے منصوبے پر عمل کرنے سے روکا۔ اگر ہم ایسا نہ کرتے تو آج ان کے پاس ایٹم بم ہوتے اور وہ انہیں استعمال بھی کرتے۔ نیتن یاہو کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی نے ایران کے انقلابی گارڈز کو شدید نقصان پہنچایا ہے جس سے وہ طویل عرصے تک سنبھل نہیں پائیں گے۔دوسری جانب حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے کہا کہ اسرائیل لبنان میں اپنی موجودگی برقرار نہیں رکھ سکتا، لبنان جنگ بندی کی کسی بھی خلاف ورزی کا جواب دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو نے ایران کے خلاف جارحیت کیلئے ٹرمپ کو آمادہ تو کرلیا لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا،آج ایران اپنےسپریم لیڈر کی شہادت کے باوجود پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔ایک ٹیلی ویژن خطاب میں نعیم قاسم نے کہا کہ جنگ بندی کا مطلب یہ ہے کہ حزب اللہ فائرنگ نہ کرے، لیکن اسرائیل کو اپنی مرضی کرنے کی آزادی ہو، وہ جہاں چاہے قتل و غارت گری کرے اور جہاں چاہے پیش قدمی کرے۔ انہوں نے کہیہ جارحیت کا تسلسل ہے اور ہم اسے ہرگز قبول نہیں کریں گےاور اس طرح جنگ بندی ممکن نہیں ۔