Updated: May 28, 2026, 10:01 PM IST
| Hague
بین الاقوامی فوجداری عدالت( آئی سی سی) کی سابق چیف پراسیکیوٹر فاتو بنسودا نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں فلسطین میں جنگی جرائم کی تحقیقات روکنے کیلئے مسلسل دباؤ اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ اس دوران مختلف فریقین اور مبینہ طور پر موساد کی جانب سے بھی تحقیقات ختم کرنےکیلئے اثر انداز ہونے کی کوششیں کی گئیں۔
فاتو بنسودا۔ تصویر: آئی این این
’الجزیرہ‘ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کی سابق سربراہ نے کہا کہ موساد نے بار بار ان پر دباؤ ڈالا کہ وہ فلسطین میں جنگی جرائم کی تحقیقات کو ختم کر دیں۔ فاتو بنسودا، جو ۲۰۲۱ءسے۲۰۲۱ء تک اس بین الاقوامی ادارے کی سربراہ رہیں، نے کہا کہ ۲۰۱۵ءمیں جب انہوں نے یہ تحقیقات شروع کیں تو اسرائیل سے تعلق رکھنے والے دو افراد ان کے گھر دی ہیگ پہنچے تاکہ انہیں خوفزدہ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا، ’’میں خود کو اکیلا محسوس کر رہی تھی۔ مجھے کوئی حمایت حاصل نہیں تھی۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: امریکہ اور اسرائیل اب بھی اسلامی جمہوریہ کا تختہ پلٹنے کیلئے کوشاں: ایران
بنسودانے یہ بھی کہا کہ موساد نے بار بار سرکاری ملاقاتوں کے دوران اسرائیلی خفیہ ایجنسی کے سربراہ کے ساتھ ان پر دباؤ ڈالا کہ وہ یہ تحقیقات ختم کر دیں۔ انہوں نے کہا، ’’یہ واضح تھا کہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ فلسطین سے متعلق تحقیقات آگے بڑھیں۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’کچھ ممالک کے حکام نے بھی مجھ سے اپیل کی کہ آپ کو واقعی یہ روک دینا چاہئے، یہ معاملہ بہت آگے جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا ’’ آپ کو نقصان پہنچ سکتا ہے یا آپ اور آپ کے اہل خانہ کو قتل کیا جا سکتا ہے یا کسی طرح نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔ لیکن میرے لئے یہ بات ناقابلِ قبول تھی۔ ‘‘