Inquilab Logo Happiest Places to Work

پدم شری اردو شاعر ڈاکٹر بشیر بدر ۹۱؍ برس کی عمر میں انتقال کر گئے

Updated: May 28, 2026, 4:43 PM IST | Bhopal

اردو کے نامور شاعراور پدم شری ایوارڈ یافتہ ڈاکٹر بشیر بدر طویل علالت کے بعد آج ۲۸؍ مئی ۲۰۲۶ء کو بھوپال میں ۹۱؍ برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ محبت، تنہائی، ہجرت اور انسانی جذبات کو سادہ مگر گہرے انداز میں بیان کرنے والے بشیر بدر کو جدید اردو غزل کی سب سے مقبول آوازوں میں شمار کیا جاتا تھا۔ان کے انتقال پر ہندوستان سمیت دنیا بھر کے ادبی، ثقافتی اور شعری حلقوں میں گہرے رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے جبکہ سوشل میڈیا پر مداح ان کے لازوال اشعار کے ذریعے انہیں خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔

Bashir Badr. Photo: INN
بشیر بدر۔ تصویر: آئی این این

اردو ادب کی دنیا آج ایک عظیم سانحے سے دوچار ہوئی ہے۔ ممتاز شاعر، پدم شری ایوارڈ یافتہ ڈاکٹر بشیر بدر طویل علالت کے بعد مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال میں انتقال کر گئے۔ وہ ۹۱؍ برس کے تھے۔ ان کے اہلِ خانہ نے ان کی وفات کی تصدیق کی، جس کے بعد پورے ہندوستان اور بیرونِ ملک ادبی حلقوں میں سوگ کی فضا چھا گئی۔ ڈاکٹر بشیر بدر کو جدید اردو شاعری کی سب سے نرم، مقبول اور عوامی آوازوں میں شمار کیا جاتا تھا۔ ان کی شاعری نے نہ صرف اردو ادب کے سنجیدہ قارئین بلکہ عام لوگوں کے دلوں میں بھی غیر معمولی جگہ بنائی۔ ان کے اشعار محبت، جدائی، تنہائی، انسانی رشتوں، ہجرت اور وقت کی بے رحمی جیسے موضوعات کو نہایت سادہ مگر دل میں اتر جانے والے انداز میں پیش کرتے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: عیدالاضحیٰ پر نوئیڈا پولیس الرٹ، فلیگ مارچ کر کے سیکوریٹی انتظامات کا جائزہ لیا

۱۵؍ فروری ۱۹۳۵ء کو اتر پردیش کے ایودھیا میں پیدا ہونے والے ڈاکٹر بشیر بدر نے ابتدائی تعلیم کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی اے، ایم اے اور پی ایچ ڈی مکمل کی۔ بعد ازاں انہوں نے تدریسی زندگی کا آغاز کیا اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بعد تقریباً ۱۷؍ برس تک میرٹھ کالج میں اردو شعبے کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دیں۔ بشیر بدر نے صرف سات برس کی عمر میں شعر کہنا شروع کردیا تھا۔ اردو، فارسی، ہندی اور انگریزی زبانوں پر ان کی مضبوط گرفت تھی۔ ان کی شاعری کی سب سے نمایاں خوبی اس کی سادگی اور جذباتی گہرائی تھی، جس نے انہیں عوامی سطح پر بے حد مقبول بنا دیا۔

یہ بھی پڑھئے: آسام اسمبلی میں یکساں سو ِل کوڈ منظور، پرسنل لاء کی جگہ لے گا

۱۹۹۹ء میں انہیں ادب کے شعبے میں نمایاں خدمات پر ہندوستان کے چوتھے بڑے شہری اعزاز ’’پدم شری‘‘ سے نوازا گیا تھا۔ اسی سال انہیں ان کے مجموعہ ’’آس‘‘ پر ساہتیہ اکادمی ایوارڈ بھی دیا گیا۔ اس کے علاوہ انہیں اتر پردیش اردو اکادمی اور بہار اردو اکادمی سمیت کئی قومی و بین الاقوامی اعزازات سے نوازا گیا۔ ان کی شاعری دیوناگری اور گجراتی رسم الخط میں بھی شائع ہوئی جبکہ ان کے کلام کے انگریزی اور فرانسیسی زبانوں میں تراجم بھی ہوئے۔
ان کی شاعری ہندوستانی سیاست اور عوامی زندگی میں بھی بارہا سنائی دی۔ سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی نے ۱۹۷۲ء کے شملہ معاہدے کے دوران ان کا مشہور شعر ذوالفقار علی بھٹو کو سنایا تھا:
’’دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے
جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں‘‘


۱۹۸۷ء کے میرٹھ فسادات نے ان کی زندگی بدل کر رکھ دی۔ اس فساد میں ان کا گھر اور قیمتی ادبی سرمایہ جل کر خاک ہو گیا تھا۔ اس سانحے کے بعد وہ شدید ذہنی صدمے سے گزرے اور پھر مستقل طور پر بھوپال منتقل ہو گئے، جہاں انہوں نے اپنی زندگی اور ادبی سفر کو نئے سرے سے شروع کیا۔ بعد کے برسوں میں وہ ڈیمنشیا سمیت کئی عارضوں میں مبتلا رہے۔ ۲۰۱۸ء میں ایک انٹرویو کے دوران وہ اپنے بعض مشہور اشعار مکمل طور پر یاد نہ کر سکے تھے، جس پر ان کے مداح انتہائی غمزدہ ہوئے تھے۔ ان کے قریبی حلقوں کے مطابق آخری برسوں میں وہ زیادہ تر عوامی زندگی سے دور رہے۔

یہ بھی پڑھئے: لاگت میں اضافے کا اثر جلد ہی رٹیل مارکیٹ پر بھی نظر آئے گا

ڈاکٹر بشیر بدر کے انتقال پر ملک بھر کے ادیبوں، شاعروں، سیاسی شخصیات، فلمی حلقوں اور مداحوں نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر ہزاروں افراد ان کے اشعار شیئر کرتے ہوئے انہیں خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔ بشیر بدر کے انتقال سے اردو غزل کا ایک سنہری باب ختم ہو گیا، تاہم ان کی شاعری ہمیشہ زندہ رہے گی اور آنے والی نسلوں کو متاثر کرتی رہے گی۔ ان کے بیٹے نصرت بدر بھی معروف نغمہ نگار تھے، جنہوں نے کئی بالی ووڈ فلموں کے لیے گیت لکھے۔ بشیر بدر خود بھی امریکہ، دبئی، قطر، پاکستان اور دیگر ممالک میں مشاعروں میں شرکت کرتے رہے، جہاں ان کی شاعری کو بے حد پذیرائی ملی۔ڈاکٹر بشیر بدر کی وفات اردو ادب کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان قرار دی جا رہی ہے، لیکن ان کے اشعار ہمیشہ اردو زبان کی روح میں زندہ رہیں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK