• Fri, 06 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایف ڈی اے نےکوپر اسپتال کے بلڈ بینک کا لائسنس معطل کردیا

Updated: November 06, 2026, 11:20 AM IST | Shahab Ansari | Mumbai

بلڈ بینک سے متعلق دستاویز میں خامیوں کی بنیاد پر ۹۰؍ دنوں کا نوٹس دینے کے بعد کارروائی کی گئی۔ دوائیاں بنانے والی ۱۷؍ کمپنیوں کے لائسنس بھی منسوخ، ۹۸؍ کو نوٹس۔

Cooper Hospital, whose blood bank has been subjected to enforcement action. Photo: INN
کوپراسپتال جس کے بلڈ بینک پر کارروائی کی گئی ہے۔ تصویر: آئی این این

’فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن(ایف ڈی اے)‘ نے جمعرات کو ولے پارلے میں واقع   میونسپل کوپر اسپتال کے بلڈ بینک کا لائسنس ۷؍ نومبر تک کیلئے معطل کردیا ہے جس کی وجہ سے اس اسپتال کو مریضوں کیلئے خون کی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے جوگیشوری کے ایک اسپتال کے بلڈ بینک پر انحصار کرنا پڑے گا جس کی وجہ سے   مریضوں کو کچھ دشواری پیش آسکتی ہے۔ اس کے علاوہ ریاستی ایجنسی نے اکتوبر میں دوائیاں بنانے والی ۱۷؍ کمپنیوں کے لائسنس منسوخ کردیئے جبکہ دیگر ۹۸؍ کمپنیوں کو نوٹس جاری کئے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل ایف ڈی اے کمشنر تُکارام منڈے نےاس نمائندے کی موجودگی میں ایک پریس کانفرنس میں گفتگو کے دوران بتایا تھا کہ کچھ نئی باتیں انہیں اس محکمہ میں آنے کے بعد معلوم ہوئی ہیں جن میں یہ بھی شامل ہے کہ بلڈ بینک بھی ایف ڈی اے کے دائرۂ کار میں آتے ہیں اور کوئی بھی نجی تنظیم یا شخص ’خون کے عطیہ‘ کا کیمپ بلڈ بینک کے اشتراک کے بغیر نہیں لگاسکتا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ بلڈ بینک اور خون کے عطیہ کے کیمپ ’ڈرگس اینڈ کاسمیٹک ایکٹ‘ کے تحت آتے ہیں اور متذکرہ بات ان کے علم میں آنے کے بعد انہوں نے بلڈ بینکوں کی نگرانی بھی شروع کردی ہے کہ یہاں اصولوں کی پابندی کی جاتی ہے یا نہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ چونکہ ایف ڈی اے کے نام میں ہی ڈرگ ہے اس لئے دوائیاں بنانے اور سپلائی کرنے والوں کے تعلق سے بھی جانچ جاری ہے۔

بلڈبینک کا لائسنس ۷؍نومبر تک معطل رہے گا

’ہردئے سمراٹ بالا صاحب ٹھاکرے میڈیکل کالج اینڈ ڈاکٹر آر این کوپر میونسپل جنرل اسپتال‘ میں  ’پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی)‘ ماڈل کے تحت ’سمرپریت باہودیشیا سیوا بھاوی وکاس سنستھا‘ کے ذریعہ بلڈ بینک چلایا جاتا ہے۔ ایف ڈی اے کے مطابق یہاں اسٹاف کی تفصیلات اور بلڈ بینک سے متعلق دستاویز میں خامیاں پائی گئی تھیں جس کی وجہ سے انتظامیہ کو ۹۰؍ دنوں کا نوٹس دے کر ان چیزوں میں سدھار لانے کی ہدایت دی گئی تھی۔ نوٹس کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی متذکرہ خامیاں دور نہیں ہوئی تھیں اس لئے ۵؍ سے ۷؍ نومبر تک کیلئے بلڈ بینک کا لائسنس معطل کردیا گیا ہے جس کی وجہ سے یہ بلڈ بینک بند رہے گا۔ 

یہ بھی پڑھئے: یو سی سی سروے کی مدت بڑھائی جائے، سیدھے سوالات پوچھے جائیں

کوپر اسپتال بی ایم سی کے زیراہتمام چلایا جانے والا پرانا اور بڑا اسپتال ہے جس میں مریضوں کا آپریشن اور دیگر علاج بھی کیا جاتا ہے جن میں مریضوں کے جسم میں خون چڑھانے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق اب ۷؍ نومبر تک یہاں مریضوں کیلئے جوگیشوری میں واقع ’ٹراما اسپتال‘ کے بلڈ بینک سے خون کا انتظام کیا جائے گا۔

گزشتہ ماہ ایف ڈی اے نے جے جے اور نائر اسپتالوں کے بلڈ بینکوں کے خلاف بھی کارروائی شروع کی تھی اور بڑی مشکل سے ایف ڈی اے کے وزیر نرہری زِروال کی مداخلت کے بعد اس کارروائی پر روک لگ سکی تھی۔

دوا ساز کمپنیوں کے خلاف کارروائی

ایف ڈی اے کے ذریعہ فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق صرف اکتوبر مہینے کے دوران ۲۹۲؍  دوا ساز کمپنیوں کی جانچ کی گئی جن میں سے ۱۷؍ کے لائسنس منسوخ اور ۵۵؍ لائسنس معطل کردیئے گئے اور ۹۸؍ کو اپنے کام کاج، دستاویز کا ریکارڈ رکھنے، صاف صفائی اور دیگر چیزوں میں سدھار لانے کیلئے نوٹس جاری کئے گئے ہیں۔ اسی وقفہ کے دوران دوائیاں فروخت کرنے والے ایک ہزار ۶۹۴؍ میڈیکل اسٹورس وغیرہ کا معائنہ کیا گیا۔ ان میں سے ۱۰۵؍ کے لائسنس منسوخ، دیگر ۳۶۷؍ کے لائسنس معطل کردیئے گئے اور ۵۷۶؍ کو نوٹس جاری کئے گئے ہیں۔ اسی عرصہ میں متذکرہ معائنوں کے دوران ۳۴ء۵۱؍ لاکھ روپے مالیت کی دوائیاں اور کاسمیٹک کے سامان ضبط کئے گئے اور منشیات مخالف قانون کے تحت۲؍ ایف آئی آر درج کروائی گئیں جس کے تحت ۴؍ افراد کی گرفتاری عمل میں آچکی ہے۔

تہواروں میں کارروائی

تہواروں کیلئے خصوصی مہم میں یکم ستمبر سے ۳؍  نومبر تک کھانے پینے کی اشیاء کے کاروبار کرنے والے ۹؍ ہزار ۶۶۷؍ اداروں کی جانچ کی گئی۔ ان میں سے ۴؍ ہزار ۶۰۳؍ کو کام کاج میں سدھار لانے کے نوٹس جاری کئے گئے، ۹۵۴؍ کے لائسنس معطل کئے گئے، ۲۵؍ کے لائسنس منسوخ کئے گئے۔ کھانوں کی اشیاء کے ۸؍ ہزار ۸۳۵؍ نمونے حاصل کئے گئے اور ۳؍ ہزار ۹۸ء۴۶؍ ٹن اشیاء ضبط کی گئیں جن کی قیمت ۶۳ء۴۵؍ کروڑ روپے ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK