انٹرنیشنل ایئرلائنز کمپنیوں پر نوی ممبئی ایئر پورٹ منتقل ہونے کا دبائو۔ مسافروں کو ۱۴؍ شہروں کے سفرکیلئے نوی ممبئی جانا ہوگا۔
EPAPER
Updated: November 06, 2026, 11:20 AM IST | Shahab Ansari | Mumbai
انٹرنیشنل ایئرلائنز کمپنیوں پر نوی ممبئی ایئر پورٹ منتقل ہونے کا دبائو۔ مسافروں کو ۱۴؍ شہروں کے سفرکیلئے نوی ممبئی جانا ہوگا۔
ممبئی سے مدینہ، جدہ، بحرین، دمام، دوحہ قطر، مسقط اور دیگر ممالک کے کئی شہروں کا سفر کرنے کے خواہشمند افراد کو اب سفر کیلئے نوی ممبئی ایئرپورٹ جانا پڑے گا کیونکہ اڈانی ایئرپورٹ کے سی ای او نے انٹرنیشنل ایئرلائنز کمپنیوں کو اپریل تک ممبئی ایئر پورٹ سے اپنے جہاز ہٹانے کی ہدایت دے دی ہے۔ اگرچہ یہ کمپنیاں نوی ممبئی ایئر پورٹ منتقل نہیں ہونا چاہتیں لیکن ممبئی ایئرپورٹ ٹرمنل- ایک کی از سر نو تعمیر کے نام پر انہیں منتقل کیا جارہا ہے۔ ممبئی ایئرپورٹ نے وزارت شہری ہوا بازی کو جو خط لکھا ہے، اس کے مطابق مارچ ۲۰۲۷ء سے مختلف ممالک کے ۱۴؍ شہروں کیلئے انٹرنیشنل پروازیں نوی ممبئی سے شروع کرنی پڑیں گی۔واضح رہے کہ ممبئی کے چھترپتی شیواجی مہاراج انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ٹرمینل- ایک کی از سر نو تعمیر کی جا نی ہے۔ اس بات کو وجہ بنا کر بیرون ملک آمدورفت کی خدمات مہیا کرنے والی غیر ملکی ایئرلائنزکمپنیوں کو اپنی خدمات نوی ممبئی ایئر پورٹ منتقل کرنے کو کہا جارہا تھا اور اب تک یہ کمپنیاں نوی ممبئی ایئرپورٹ پر منتقل ہونے سے منع کررہی تھیں۔
اب اڈانی کمپنی نے انہیں لازمی منتقلی پر مجبور کرنے کے حربے استعمال کرنا شروع کردیئے ہیں۔ اڈانی ایئرپورٹ ہولڈنگس کے چیف ایگزیکٹیو افسر ارون بنسل نے ان کمپنیوں کو ہدایت دے دی ہے کہ وہ اپریل تک ممبئی ایئرپورٹ کی جگہ خالی کردیں۔ انہوں نے ان کمپنیوں سے کہا ہے کہ وہ ممبئی ایئرپورٹ کی جگہ خالی کردیں اور جہاں جانا چاہیں، چلے جائیں۔
یہ بھی پڑھئے: یو سی سی سروے کی مدت بڑھائی جائے، سیدھے سوالات پوچھے جائیں
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسی گھر یا جگہ کا مالک کرایہ دار کو کہے کہ ان کا گھر یا جگہ خالی کردو تو کرایہ دار کو وہ جگہ خالی کرنی پڑے گی اور پھر وہ کہاں جاتے ہیں، اس کی ذمہ داری مالک مکان کی نہیں ہوتی۔ اسی طرح ان کمپنیوں کو ممبئی ایئر پورٹ کی جگہ خالی کرنے کہہ دیا گیا ہے۔ اب ان کی مرضی ہے چاہے وہ نوی ممبئی ایئرپورٹ جائیں یا کسی دیگر مقام پر لیکن کسی بھی حال میں انہیں ممبئی ایئرپورٹ چھوڑنا پڑے گا۔
اڈانی انتظامیہ کی اس کارروائی سےمسافروں کو اب مختلف ممالک کے کُل ۱۴؍ شہروں کیلئے نوی ممبئی ایئرپورٹ سے سفر ہوگا جن میں سعودی عرب کے دمام، جدہ، مدینہ اور ریاض، متحدہ عرب امارات کے فجاریہ، راس الخیمہ اور شارجہ شامل ہیں۔ دیگر شہروں میں بحرین، دوحہ (قطر)، عمان (مسقط)، کویت شہر، جکارتہ (انڈونیشیا)، ڈھاکہ (بنگلہ دیش) اور کٹھمنڈو (نیپال) بھی شامل ہیں۔اگرچہ ارون بنسل نے اپریل تک مہلت دینے کی بات کہی ہے تاہم ’ممبئی انٹرنیشنل ایئر پورٹ لمیٹڈ‘ (ایم آئی اے ایل) نے وزارت برائے شہری ہوا بازی کو تجویز بھیجی ہے کہ متذکرہ تمام شہروں میں آمدورفت کیلئے ہوائی جہازوں کو ۲۸؍ مارچ ۲۰۲۷ء تک نوی ممبئی ایئر پورٹ منتقل کردیا جائے۔ ممبئی میں محدود ایئر پورٹ کی وجہ سے چند ایئرلائنز کمپنیوں نے نوی ممبئی ائیر پورٹ منتقل ہونے پر رضامندی ظاہرکردی ہے اور دیگر کیلئے بھی منتقلی کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچے گا۔ واضح رہے کہ ٹرمنل- ایک کو منہدم کرکے از سر نو تعمیر کیا جائے گا تاکہ بین الریاستی پروازوں کا بہتر انتظام کیا جاسکے۔ تاہم اس انہدامی اور تعمیراتی کارروائی کی وجہ سے کئی ڈومیسٹک فلائٹ کی آمدورفت کو ٹرمنل-۲؍ پر منتقل کرنا ہوگا۔