• Fri, 06 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مالونی کے۱۴؍غیر قانونی اسکولوں  کے طلبہ اور ان کے والدین کو عدالت سے راحت 

Updated: November 06, 2026, 11:23 AM IST | Nadeem Asran | Malvani

مالونی  کے ۱۴؍ غیر قانونی اسکولوں میں زیر تعلیم طلبہ اور ان کے والدین کو اس وقت راحت ملی جب کورٹ نے شہری انتظامیہ کو موجودہ تعلیمی سال مکمل ہونے تک کارروائی نہ کرنے اور تعلیمی سلسلہ کو جاری رکھنے پر مثبت رویہ اپنانے کا مشورہ دیا۔

Bombay High Court. Picture: INN
بامبے ہائی کورٹ۔ تصویر: آئی این این

مالونی  کے ۱۴؍ غیر قانونی اسکولوں میں زیر تعلیم طلبہ اور ان کے والدین کو اس وقت راحت ملی جب کورٹ نے شہری انتظامیہ کو موجودہ تعلیمی سال مکمل ہونے تک کارروائی نہ کرنے اور تعلیمی سلسلہ کو جاری رکھنے پر مثبت رویہ اپنانے کا مشورہ دیا۔ کورٹ نے شہری انتظامیہ کو  طلبہ کو تعلیم مکمل کرنے کی اجازت دینے کی ہدایت دیتے ہوئے سماعت کو  ملتوی کر دیا ہے ساتھ ریاستی حکومت سے کہا کہ وہ مذکورہ اسکولوں پر عائد پابندی کو وقتی طور پر موخر کر دے۔

مذکورہ غیر قانونی اسکولوں میں زیر تعلیم طلبہ کو پرائیویٹ اور سرکاری اسکولوں میں منتقل کرنے اور اسکولوں کو بند کرنے کا نوٹس دینے کے خلاف داخل کردہ عرضی پر ہونے والی سماعت کے دوران  بامبے ہائی کورٹ  کے چیف جسٹس ایم سی ترپاٹھی اور جسٹس ادویت سیٹھانا کی بنچ نےکہا کہ’’ شہری انتظامیہ کی عدم توجہی کے سبب ایک دو نہیں بلکہ اس علاقے میں ۱۴؍ غیر قانونی اسکول چلائے جار رہے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے:ممبئی ایئر پورٹ خالی کرو، جہاں جانا ہے، جائو: اڈانی ایئرپورٹ ہولڈنگس

 اچانک ہی بی ایم سی کے مذکورہ اسکولوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انہیں بند کرنے  اور بچوں کو دیگر اسکولوں میں منتقل کرنے کے فیصلہ سے نہ صرف طلبہ کا تعلیمی نقصان ہوگا بلکہ ان کے سرپرست بھی ذہنی تناؤ کا شکار ہوں گے ۔‘‘کورٹ نےاس معاملہ میں ریاستی حکومت کو مداخلت کرتے ہوئے اسکول بند کرنے اور بچوں کو منتقل کرنے کے فیصلہ کو موخر کرنے پر غور کرنے اور موجودہ تعلیمی سلسلہ کو جاری رکھتے ہوئے اسے مکمل ہونے دینے کا مشورہ دیا۔عدالت نے عرضی گزار نذیر خان کی جانب سے داخل کردہ عرضی پر شنوائی کے دوران  بی ایم سی کی وکیل پورنیماکنتھاریا کی اس اطلاع پر مزید حیرانی کا اظہار کیا کہ ۲۰۱۹ء سے مذکورہ غیر قانونی اسکولوں کو نوٹس دیا جارہا ہے۔ کورٹ نے کہا کہ ’’ اتنے برسوں سے اسکولوں کے غیر قانونی ہونے پر پہلے کیوں نہیں کوئی ٹھوس اور موثر قدم اٹھایا گیا ؟‘‘ اس پر بی ایم سی نے اپنے داخل کردہ حلف نامہ میں وضاحت کرنے کی کوشش کی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK