شیوسینا یوبی ٹی کے لیڈر نےایف ڈی اے کمشنر تکارام منڈے کو خط لکھااورکارروائی کا مطالبہ کیا۔
EPAPER
Updated: September 29, 2026, 12:41 PM IST | Agency | Mumbai
شیوسینا یوبی ٹی کے لیڈر نےایف ڈی اے کمشنر تکارام منڈے کو خط لکھااورکارروائی کا مطالبہ کیا۔
شیوسینا (یو بی ٹی) کے رکن پارلیمنٹ سنجے راؤت نے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے)کے افسران پر سنگین الزامات لگائے ہیں۔انہوں نے اس ضمن میں کمشنرتکارام منڈے کو ایک خط لکھا اور دعویٰ کیا ہےکہ ایف ڈی اے کے کچھ افسران ہوٹلوں، ریستورانوں اور کوئیک کامرس کاروباروں کو لائسنس معطل کرنے کی دھمکی دے کر ان سے بھاری رقم وصول کر رہے ہیں۔ ۳؍ صفحات پر مشتمل اس خط میں راؤت نے ملاوٹ شدہ کھانا فروخت کرنے اور صفائی کا خیال نہ رکھنے والے اداروں کے خلاف کی جانے والی کارروائی کی تعریف کی ہے، لیکن ساتھ ہی یہ الزام بھی لگایا ہے کہ محکمہ کے ہی کچھ افسران کاروباریوں کو لائسنس منسوخ کرنے کی دھمکی دے کر ان سے بھاری رقم وصول کر رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ہوٹل مالکان کو دھمکا کر اور بلیک میل کرکے پیسے وصول کرنے کا یہ سلسلہ پہلے کے مقابلے میں بڑھ گیا ہے۔ انہوں نے خط میں مزید لکھا، ’’کہا جاتا ہے کہ منڈے کےایف ڈی اے کمشنر بننے سے پہلے کلوزنگ نوٹس کی شرح۱۰؍ سے۱۲؍ ہزار روپے تھی، لیکن اب منڈے کا خوف دکھا کر یہی رقم۷۵؍ہزار سے۲؍لاکھ روپے تک پہنچ گئی ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اس دوہری مار کی وجہ سے کاروباری افراد پریشان ہیں۔ راوت نے بتایا کہ ایف ڈی اےکا باندرہ ہیڈکوارٹر اور تھانے دفتر مبینہ طور پر وصولی کا اہم مرکز بن گئے ہیں۔ ان کے مطابق یہاں کے افسران کھلے عام رقم وصول کر رہے ہیں۔ راؤت نے بتایا کہ ناگپور، پونے، شولاپور، وردھا اور چھترپتی سمبھاجی نگر سے مبینہ وصولی اور کلوزنگ نوٹس کی رقم میں اضافے کی شکایات کے سلسلے میں کئی کاروباری افراد ان سے ملاقات کرچکے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:الیکشن کمیشن کیخلاف ناندیڑ، امراوتی اور ناگپور سمیت دیگر شہروں میں احتجاج
ایف ڈی اے کمشنر سے راؤت کے ۵؍مطالبات
(۱) باندرہ، تھانے اور دیگر محکموں میں ’’کلوزنگ نوٹس ریٹ کارڈ‘‘ سے متعلق معاملات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرنے کی اپیل کی ۔
(۲) صارفین کی شکایات کی بنیاد پر کی جانے والی چھاپہ مار کارروائیوں کی تصدیق لازمی کی جائے اور جھوٹی شکایات کے خلاف کارروائی کی جائے۔
(۳)قانون کے مطابق’’نوٹس، سماعت اور معطلی‘‘ کے عمل کو نظرانداز کرنے والے افسران کے خلاف فوری محکمہ جاتی کارروائی کی جائے۔
(۴) تھانے کے’ڈی او‘ سے متعلق مبینہ معاملے اور۱۷؍ سے۱۸؍ لاکھ روپے کی وصولی کے الزامات کی آزادانہ تحقیقات کرائی جائے۔
(۵) ہر لائسنس کی معطلی اور بحالی کے معاملے میں اس کی وجہ، تاریخ اور سماعت کی مختصر تفصیلات عوام کے سامنے پیش کی جائے۔