Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’مظفر نگر فساد کےملزمین سے مقدمات واپس لینا ملک و سماج کیلئے خطرہ‘‘

Updated: August 18, 2026, 12:13 PM IST | Hamidullah Siddiqui | Lucknow

یوپی کے سابق ڈی جی پی کا سوال، کہا: جرائم کے خلاف زیرو ٹالرنس کا دعویٰ، پھر فسادیوں پر یہ مہربانی کیوں؟

Former DGP Sulkhan Singh. Picture: INN
سابق ڈی جی پی سلکھان سنگھ۔ تصویر: آئی این این

یوپی کے سابق ڈی جی پی سلکھان سنگھ نے مظفر نگر فساد کے ۲۲؍ ملزمین کے خلاف مقدمات واپس لینے کے سرکاری فیصلے پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فسادات کے ملزمین کے خلاف مقدمات واپس لینے کا رجحان ملک اور سماج کیلئے خطرناک ہے۔

سلکھان سنگھ نے کہا کہ ایک طرف حکومت جرائم کیخلاف زیرو ٹالرنس اوریوپی کو فساد سے پاک ریاست بنانے کا دعویٰ کرتی ہے، لیکن دوسری طرف فسادات کے ملزمین کے خلاف مقدمات واپس لیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت فسادیوں کے تئیں اتنی مہربان کیوں ہے؟ سابق ڈی جی پی نے کہا کہ یہ اچھی بات نہیں ہے، اس طرح کے فیصلے سماج اور ملک کیلئے خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قبل کانپور فسادات کے ملزمین کیخلاف مقدمات واپس لئے جانے کا معاملہ بھی سامنے آیا تھا۔ سلکھان سنگھ کے مطابق فسادات جیسے حساس معاملات میں مقدمات کی واپسی سے قانون کی بالادستی اور عوام کے اعتماد پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:محکمۂ تعلیم کی اسکولوں کے لئے فوڈسیفٹی گائیڈلائن جاری

واضح رہے کہ مظفر نگر میں  ۲۰۱۳ء کے فرقہ وارانہ فسادات سے متعلق ایک مقدمے میں بی جے پی کے ۱۰؍ لیڈروں، جن میں ریاستی وزیر مملکت برائے آزادانہ چارج کپل دیو اگروال اور قانون ساز کونسل کے رکن اشوک کٹاریہ شامل ہیں، سمیت سماجوادی پارٹی کے مظفر نگر سے ایم پی ہریندر ملک کو بڑی راحت ملی ہے۔ مظفر نگر کی خصوصی ایم پی ؍ایم ایل اے عدالت نے ریاستی حکومت کو ان کیخلاف درج مقدمہ واپس لینے کی اجازت دے دی ہے۔اس معاملے میں مجموعی طور پر ۲۰؍ سےزائدافراد ملزم تھے جن پر سرکاری کام میں رکاوٹ ڈالنے اور تقریروں کے ذریعے فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دینے کا الزام لگایا گیا تھا۔ ان میں بی جے پی کے سابق رکن اسمبلی اُمیش ملک، اشوک کنسل، سابق مرکزی وزیر سنجیو بالیان،سابق ریاستی وزیر سریش رانا، بی جے پی کے سابق ایم پیز کنور بھارتندر سنگھ اور سون ویر سنگھ، اور وشو ہندو پریشد کی لیڈر سادھوی پراچی جیسے اہم نام شامل ہیں۔ خیال رہے کہ اس فساد میں سرکاری اعداد وشمار کے مطابق۶۰؍ سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK