• Thu, 26 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نیویارک: برفانی طوفان سے قبل میئر ممدانی کی سحری، ہنگامی حالت نافذ

Updated: February 26, 2026, 10:10 PM IST | New York

نیویارک سٹی کے میئر ظہران ممدانی نے شدید برفانی طوفان سے قبل سینی ٹیشن ملازمین کے ساتھ سحری کی۔ شمال مشرقی امریکہ میں ۹۰؍ سینٹی میٹر تک برفباری اور تیز ہواؤں کے باعث آٹھ ریاستوں میں ہنگامی حالت نافذ کی گئی جبکہ پانچ لاکھ سے زائد گھر بجلی سے محروم ہو گئے۔

Zohran Mamdani. Photo: INN
ظہران ممدانی۔ تصویر: آئی این این

نیویارک سٹی کے میئر ظہران ممدانی نے پیر کی صبح ڈپارٹمنٹ آف سینی ٹیشن نیویارک سٹی کے ملازمین کے ساتھ سحری کی۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب شہر غیر معمولی شدت کے برفانی طوفان کی زد میں آنے والا تھا۔ ایکس پر پیغام جاری کرتے ہوئے میئر ممدانی نے لکھا کہ وہ ان سرکاری ملازمین کے شکر گزار ہیں جو مشکل موسمی حالات کے باوجود شہر کو فعال رکھنے کیلئے کام کر رہے ہیں۔

شمال مشرقی امریکہ کے مختلف علاقوں میں ۹۰؍ سینٹی میٹر تک برف ریکارڈ کی گئی جبکہ ہواؤں کی رفتار ۹۰؍ کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچی ہے۔ موسمی شدت کے باعث تقریباً ۴؍ کروڑ افراد کی روزمرہ زندگی متاثر ہوئی، پروازیں منسوخ ہوئیں، ٹرانسپورٹ سروسز معطل رہیں اور سڑکوں پر آمد و رفت محدود کر دی گئی۔

یہ بھی پڑھئے: چینی کمپنی کا ملازمین کو ۲۴۰؍ کروڑ روپے بونس، ویڈیوز وائرل

ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی آٹھ ریاستوں میں ہنگامی حالت نافذ کی گئی۔ پیر کی شام تک تقریباً ۵؍ لاکھ ۷۰؍ ہزار گھر بجلی سے محروم تھے، جن میں سے ۲؍ لاکھ ۸۵؍ ہزار سے زائد گھر صرف میسا چوسٹسمیں درج کئے گئے ہیں۔ ریاستی حکام نے شہریوں سے غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔ ڈی ایس این وائے کی ٹیمیں برف ہٹانے والی گاڑیوں اور ہنگامی عملے کے ساتھ مسلسل متحرک رہیں تاکہ مرکزی شاہراہوں اور رہائشی علاقوں کو قابلِ رسائی رکھا جا سکے۔ واضح ہو کہ سحری میں میئر ظہران ممدانی کی شرکت کو انتظامیہ اور صفائی عملے کے درمیان یکجہتی اور حوصلہ افزائی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK