ایک رپورٹ کے مطابق ۲۰۲۵ء میں ۶۵؍ ہزار سے زائد غیر قانونی یہودی آباد کار مسجد اقصیٰ میں زبردستی داخل ہوئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں ۲۲ فیصدزیادہ ہے، جبکہ اسرائیلی سیاسی شخصیات پر مشتمل دوروں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔
EPAPER
Updated: February 26, 2026, 10:09 PM IST | Jerusalem
ایک رپورٹ کے مطابق ۲۰۲۵ء میں ۶۵؍ ہزار سے زائد غیر قانونی یہودی آباد کار مسجد اقصیٰ میں زبردستی داخل ہوئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں ۲۲ فیصدزیادہ ہے، جبکہ اسرائیلی سیاسی شخصیات پر مشتمل دوروں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔
ایک رپورٹ کے مطابق، ۲۰۲۵ ءمیں مقبوضہ مشرقی یروشلم میں واقع مسجد اقصیٰ کے احاطے میں ۶۵؍ ہزار سے زائد غیر قانونی یہودی آباد کار داخل ہوئے ہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں ۲۲ ؍ فیصدزیادہ ہے۔یہ اعداد و شمار بین الاقوامی یروشلم فاؤنڈیشن کی سالانہ رپورٹ میں شائع کیے گئے، جو مقبوضہ مشرقی یروشلم میں واقع اسلامی وقف انتظامیہ کے اعداد و شمار سے تیار کی گئی تھی۔رپورٹ کے مطابق، گزشتہ سال کے دوران ۶۵۳۶۴؍افراد اس مقام میں داخل ہوئے، جبکہ اسرائیلی سیاسی شخصیات پر مشتمل دوروں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔فاؤنڈیشن نے نوٹ کیا کہ اسرائیل کا انتہائی دائیں بازو کا قومی سلامتی کا وزیر، اتمار بن گویر، کئی اراکین پارلیمنٹ کے ساتھ احاطے میں دھاوا بولنے والے سیاستدانوں میں شامل تھا۔اس طرح کی سیاسی دراندازیوں کے واقعات کی تعداد ۲۰۲۴ ءمیں نو سے بڑھ کر ۲۰۲۵ ءمیں ۲۰ ؍ہو گئی۔
بعد ازاں رپورٹ میں کہا گیا کہ اسرائیلی حکام نےمسجد اقصیٰ تک رسائی کو متاثر کرنے والے نئے اقدامات متعارف کرائے، جن میں دورے کے اوقات میں توسیع، گروپ کے سائز کو ۱۲۰ ؍سے بڑھا کر ۲۰۰ ؍شرکاء تک کرنا، اور دوروں کے درمیان وقفہ کم کرنا شامل ہے۔ان اقدامات کو مقدس احاطے میں دیرینہ حالت کو تبدیل کرنے اور وہاں ایک نئی حقیقت مسلط کرنے کی کوششوں کے طور پر بیان کیا گیا۔مسجد اقصیٰ کی پیش رفت کے علاوہ، رپورٹ میں کہا گیا کہ یروشلم میں رہائشی اور شناختی دستاویزات کی منسوخی پر مشتمل اسرائیلی پالیسیاں جاری رہیں، اور یاد دلایا کہ ۱۹۶۷ء سے ۲۰۲۴ء کے درمیان ۱۴۹۲۹؍فلسطینیوں نے اپنی شناختی حیثیت کھو دی۔تاہم رپورٹ میں تعلیم سے متعلق دباؤ پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے، مقبوضہ مشرقی یروشلم میں تقریباً ۱۵۰۰ ؍کلاس روم کی کمی کا ذکر کیا گیا ہے اور اس بات کی تصدیق کی کہ ۶ ؍سے ۱۷ ؍سال کی عمر کے تقریباً ۲۷ ؍فیصد فلسطینی طلباء اسرائیلی نصاب میں داخل تھے۔
یہ بھی پڑھئے: امدادی تنظیموں کی اسرائیلی عدالت سے فلسطین میں کام پر پابندی ختم کرنے کی اپیل
مزید برآں فاؤنڈیشن نے خبردار کیا کہ موجودہ دور اس کے نزدیک یروشلم کی شناخت کو نشانہ بنانے والی کوششوں میں ایک اہم موڑ کی نمائندگی کرتا ہے، اور اس نے نام نہاد یہودی ساز‘‘ پالیسیوں میں شدت کا حوالہ دیا۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ مقبوضہ مشرقی یروشلم میں تقریباً ۷۷ ؍فیصد خاندان غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔رپورٹ نے فلسطینی نقطہ نظر کی بھی عکاسی کی کہ اسرائیل مقبوضہ مشرقی یروشلم بشمول مسجد اقصیٰ احاطے کی تشکیل نو اور شہر کے عرب اور اسلامی کردار کو مٹانے کے لیے اقدامات تیز کر رہا ہے۔فلسطینی، بین الاقوامی قراردادوں کا حوالہ دیتے ہوئے جو ۱۹۶۷ ءمیں اسرائیل کے شہر پر قبضے یا ۱۹۸۰ ءکے الحاق کو تسلیم نہیں کرتی ہیں، مشرقی یروشلم کو فلسطینی ریاست کے مستقبل کے دارالحکومت کے طور پر دیکھتے رہتے ہیں۔دریں اثنا، اسرائیلی اعداد و شمار نے ایک بڑی تعداد کی نشاندہی کی، جس میں کہا گیا کہ ۲۰۲۵ء میں۷۶۴۴۸؍یہودی احاطے میں داخل ہوئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں ۳۱ ؍فیصد اضافہ ہے۔