دبئی میں مقیم ہندوستانی طالبہ کو متحدہ عرب امارات کی جانب سے سیٹلائٹ کی تعمیر اور لانچنگ کے لیے منتخب کر لیا گیاہے،۲۳؍ سالہ انجینئرنگ طالبہ شفق مندھا روس میں ORBITA-26 کے فائنل میں متحدہ عرب امارات کی نمائندگی کریں گی۔
EPAPER
Updated: August 05, 2026, 3:30 PM IST | Dubai
دبئی میں مقیم ہندوستانی طالبہ کو متحدہ عرب امارات کی جانب سے سیٹلائٹ کی تعمیر اور لانچنگ کے لیے منتخب کر لیا گیاہے،۲۳؍ سالہ انجینئرنگ طالبہ شفق مندھا روس میں ORBITA-26 کے فائنل میں متحدہ عرب امارات کی نمائندگی کریں گی۔
دبئی سے تعلق رکھنے والی۲۳؍ سالہ ہندوستانی تارکِ وطن طالبہ کو بین الاقوامی خلائی مشن میں متحدہ عرب امارات کی نمائندگی کے لیے منتخب کیا گیا ہے، جہاں وہ ایک حقیقی سیٹلائٹ کی ڈیزائننگ، تعمیر اور لانچنگ میں مدد فراہم کریں گی۔شفق مندھا، جو مڈل سیکس یونیورسٹی دبئی سے۲۰۲۶ء کی کلاس بی ای انگ کمپیوٹر سسٹم انجینئرنگ گریجویٹ ہیں، کو ORBITA-26 کے لیے منتخب کیا گیا ہے، یہ ایک بین الاقوامی سیٹلائٹ مشن ہے جو لیب آف فیوچر کے زیرِ اہتمام روس میں فیوچر آف ایجوکیشن کے تعاون سے منعقد کیا گیا ہے۔ماہرین کی تربیت کے مہینوں بعد، وہ مشن کے سیٹلائٹ لانچ کیلئے ماسکو کا سفر کریں گی تاکہ متحدہ عرب امارات کی نمائندگی کریں۔
یہ بھی پڑھئے: چین کے حیرت انگیز حد تک انسان جیسے روبوٹ نے انٹرنیٹ پر دھوم مچا دی
شفق کا تعلق ہندوستان کی مغربی ریاست گجرات سے ہے، تاہم وہ متحدہ عرب امارات میں پیدا اور پرورش پائی ہیں۔انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم شارجہ کے لیڈرز پرائیویٹ اسکول سے شروع کی، اس کے بعد وہ شارجہ کے ویسٹ منسٹر اسکول سے گریڈ۶؍ سے گریڈ۱۲؍ تک جی سی ایس ایز کی تعلیم حاصل کی۔انہوں نے کیمبرج انٹرنیشنل اسکول دبئی سے اے ایس اور اے لیولز مکمل کیے، اس کے بعد مڈل سیکس یونیورسٹی دبئی سے انٹرنیشنل فاؤنڈیشن پروگرام اور کمپیوٹر سسٹم انجینئرنگ میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی۔شفق اس ستمبر سے اسی یونیورسٹی میں ڈیٹا سائنس اور مصنوعی ذہانت میں ایم ایس سی شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔شفق کا خلائی ٹیکنالوجی کے لیے شوق طلبہ کی قیادت کے کرداروں اور بین الاقوامی مقابلوں کے ذریعے بڑھا۔ انہوں نے خلیج ٹائمز کو بتایا، ’’میرا سفر ہمیشہ تجسس اور حقیقی دنیا کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کے استعمال کے جذبے سے کارفرما رہا ہے۔‘‘ انہوں نے اسٹوڈنٹ وائس لیڈر، انکلوژیویٹی چیمپئن، اور مڈل سیکس انوویشن ہب کی اسٹوڈنٹ باڈی کے نائب صدر کے اپنے کرداروں کو یاد کیا۔انہوں نے ORBITA-26 کے لیے اپنے انتخاب کو سعودی خلائی ایجنسی کے ریاض میں منعقدہ ڈیبری سالور مقابلے میں پہلے تجربے سے منسوب کیا، جہاں ان کی ٹیم نے خلائی ملبے کے چیلنج سے نمٹا۔یونیورسٹی کی پروفیسر فہمیدہ حسین، ڈپٹی ڈائریکٹر، ہیڈ آف کمپیوٹر انجینئرنگ اینڈ انفارمیٹکس، اور مڈل سیکس یونیورسٹی دبئی میں سنٹر آف ایکسیلنس فار فارسائیٹ اینڈ ایمرجنگ ٹیکنالوجیز کی بانی نے کہا،’’ORBITA مشن بالکل وہی عکاسی کرتا ہے جسے ہم مڈل سیکس یونیورسٹی دبئی میں تخلیق کرنا چاہتے ہیں: ایک ایسا ماحول جہاں طلبہ نہ صرف انجینئرنگ کا مطالعہ کریں بلکہ اسے اعلیٰ ترین سطح پر، بین الاقوامی ساتھیوں کے ساتھ اور حقیقی چیلنجز کے ساتھ عملی طور پر انجام دیں۔‘‘پروفیسر فہمیدہ نے مزید کہا، ’’اپنے طلبہ کو اس معیار کے منصوبے پر کام کرتے ہوئے اور متحدہ عرب امارات کی نمائندگی کرتے ہوئے دیکھنا انتہائی مسرت بخش ہے، اور ہمیں شفق کی تمام کامیابیوں پر بے حد فخر ہے جو انہوں نے یونیورسٹی، اسٹارس لیب، اور کمپیوٹر انفارمیٹکس اینڈ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کی مجموعی طور پر نمائندگی کے لیے حاصل کی ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: گوگل نے انٹرنیٹ کے بغیر کام کرنے والا روبوٹک اے آئی دماغ متعارف کیا
بعد ازاں شفق نے کہا، ’’اس نوعیت کے منصوبے نسبتاً نایاب ہیں، خاص طور پر ہائی اسکول، انڈرگریجویٹ اور ابتدائی کیریئر کے محققین کے لیے۔‘‘اس سال کے ایڈیشن نے اکتوبر میں ماسکو میں فائنلز کے لیے سات حریف ممالک کو متوجہ کیا ہے۔شفق نےاس موقع پر اپنے اساتذہ کا شکریہ ادا کیا۔ شفق نے کہا، ’’تکنیکی نتائج کے علاوہ، میں امید کرتی ہوں کہ زیادہ نوجوانوں، خاص طور پر خواتین اور نوجوان لڑکیوں کو سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی میں کیریئر اپنانے کی ترغیب دوں گی۔‘‘شفق کی ٹیم میں مدھولیکا، سانوی، ریان اور شوریہ شامل ہیں۔ان کے کردار ٹیم لیڈ، ڈیزائن انجینئر، الیکٹریکل انجینئر، ریڈیو انجینئر، اور ریسرچ اینڈ تھیوریٹیکل اینالیسس اسپیشلسٹ پر محیط ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: خلاء سے قطبی روشنیاں دیکھ کر خلا باز انیل مینن حیران، ناسا نے تصاویر جاری کیں
واضح رہے کہ تحقیق اور مشن کی منصوبہ بندی کا مرحلہ مکمل کرنے کے بعد، ٹیم اب کیوب سیٹ ڈھانچے کا پروٹو ٹائپ بنانے، پے لوڈ اور الیکٹرانک سسٹمز کو ضم کرنے، اور ماحولیاتی جانچ اور حتمی لانچ کی تیاریوں سے پہلے مواصلات، پاور اور سینسر سسٹمز کی جانچ کی طرف بڑھ رہی ہے۔ORBITA-26 کی تربیت جولائی۲۰۲۶ء میں لیب آف فیوچر کے اسپیس سائنس، ٹیک اینڈ ریسرچ لیب، دبئی میں شروع ہوئی۔ اپنے پہلے سیزن میں، متحدہ عرب امارات کی ٹیم نے عالمی سطح پر دوسری پوزیشن حاصل کی، جس نے شفق اور ان کے ہم عصر ساتھیوں کے لیے ایک اعلیٰ معیار قائم کیا جبکہ وہ اس اکتوبر میں ماسکو کا رخ کریں گے۔