بی ایم سی بجٹ پرگزشتہ روز بحث کے دوران وارڈ نمبر ۱۴۳؍ کی ایم آئی ایم کی کارپوریٹر کوپہلی مرتبہ موقع دیا گیا جس پر انہوں نے بی ایم سی کے اس عمل میں کوتاہیوں اور سسٹم کی خامیوں کی نشاندہی کرنے کے ساتھ چیتا کیمپ میں درپیش مسائل اٹھائے۔
EPAPER
Updated: May 05, 2026, 4:59 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai
بی ایم سی بجٹ پرگزشتہ روز بحث کے دوران وارڈ نمبر ۱۴۳؍ کی ایم آئی ایم کی کارپوریٹر کوپہلی مرتبہ موقع دیا گیا جس پر انہوں نے بی ایم سی کے اس عمل میں کوتاہیوں اور سسٹم کی خامیوں کی نشاندہی کرنے کے ساتھ چیتا کیمپ میں درپیش مسائل اٹھائے۔
بی ایم سی بجٹ پرگزشتہ روز بحث کے دوران وارڈ نمبر ۱۴۳؍ کی ایم آئی ایم کی کارپوریٹر کوپہلی مرتبہ موقع دیا گیا جس پر انہوں نے بی ایم سی کے اس عمل میں کوتاہیوں اور سسٹم کی خامیوں کی نشاندہی کرنے کے ساتھ چیتا کیمپ میں درپیش مسائل اٹھائے۔
یہ بھی پڑھئے:پرندے انسانوں کی جنس پہچانتے، خواتین سے دور بھاگتے: تحقیق
کارپوریٹر شبانہ محمد فاروق قاضی نے کہا کہ بی ایم سی کا بجٹ ۸۰؍ ہزار کروڑروپے سے تجاوز کرچکا ہے لیکن اس کی خدمات کے تعلق سے عام شہریوں کے تجربات میں کوئی فرق نہیں آیا ہے۔ اسپتالوں میں وہی طویل انتظار اور سرکاری محکموں میں دھکے کھانا اور چکر لگانا جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیتا کیمپ میں ایک بھی گارڈن نہیں ہے، میٹرنیٹی ہوم ہے لیکن وہاں خدمات اچھی نہیں ہیں، سونو گرافی کیلئے کوئی خاتون ڈاکٹر نہیں ہوتی اور کئی مرتبہ آپریشن کیلئے اچانک سائن اسپتال جانے کو کہاجاتا ہے جس سے حاملہ خواتین اور ان کے اہلِ خانہ پریشان ہوجاتے ہیں۔ دل کا دورہ پڑنے جیسے ایمرجنسی معاملات میں شتابدی یا سائن اسپتال جانا پڑتا ہے جس میں کئی مرتبہ مریض کی موت ہوجاتی ہے اس لئے میٹرنیٹی ہوم سے متصل جو جگہ اور ڈھانچہ دستیاب ہے، اس میں ایمرجنسی طبی خدمات شروع کی جائیں۔ لوگ پانی کے قانونی کنکشن لینا چاہتے ہیں لیکن بی ایم سی کی ۵؍ لوگوں کے ایک ساتھ کنکشن لینے کی شرط کی وجہ سے خود میونسپل افسران اور دلالوں کی مدد سے لوگ پانی کے غیر قانونی کنکشن لینے پر مجبور ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:کرن جوہر نے اپنے پہلے میٹ گالا میں راجہ روی ورما سے متاثر لباس زیب تن کیا
شبانہ محمد فاروق قاضی نے شہری انتظامیہ کی خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ بی ایم سی کے پاس پیسہ ہے لیکن سسٹم کمزور ہے، اچھی آمدنی کی گنجائش ہے لیکن عمل ٹھیک سے نہیں ہورہا ہے، منصوبہ بندی بھی اچھی ہے لیکن عملدرآمد نہیں ہورہاہے جس سے آمدنی کا ہدف پورا نہیں ہوتا۔ خدمات پیش کرنے کے ڈھانچے موجود ہیں لیکن اچھی خدمات پیش نہیں کی جاری ہیں اس لئے بجٹ پر بحث کرنے کے بجائے سسٹم پر بحث کرنے کی ضرورت ہے اور اعلانات سے زیادہ جواب دہی طے کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر سسٹم نہیں سدھارا گیا تو ہر سال بجٹ بڑھے گا لیکن مسائل اپنی جگہ قائم رہیں گے۔