قصوروار پولیس اہلکاروں کی گرفتاری اور نوکری سےبرخاستگی کا پرزورمطالبہ۔
EPAPER
Updated: September 05, 2026, 10:56 AM IST | Ahmadullah Siddiqui | New Delhi
قصوروار پولیس اہلکاروں کی گرفتاری اور نوکری سےبرخاستگی کا پرزورمطالبہ۔
دہلی میں دوخاتون صحافیوں شاہین خان ونفیسہ خان کو ان کے مذہب کی وجہ سے پولیس کے ذریعہ تشدد کا نشانہ بنائے جانے پر صحافی برادری،سیاسی اور سماجی حلقوں میں سخت غم وغصہ و ناراضگی کا اظہار کیا جارہاہے۔ دونوں خواتین صحافی فور پی ایم نیوز نیٹ ورک سے وابستہ ہیں۔ فور پی ایم نیوز نیٹ ورک کے ایڈیٹر انچیف سنجے شرما نے دونوں خواتین صحافیوں کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اس واقعہ میں ملوث پولیس اہلکاروں کی گرفتاری اور نوکری سے انہیں برخاست کئے جانے کا مطالبہ کیا۔ پریس کلب آف انڈیا میں میڈیا سے خطاب میں انہوں نے سوال کیا کہ آیا ان خواتین کا صرف یہ جرم ہے کہ وہ مسلمان ہیں اور پولیس اس کی پاداش میں انہیں بربریت کا نشانہ بنائے گی،اس کو قبول نہیں کیا جائے گا۔سنجے شرما نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس واقعہ کی آزادانہ جانچ کراکر قصوروار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کریں، بصورت دیگر وہ پیر کو دہلی ہائی کورٹ میں عرضی دائر کرکے انصاف کا مطالبہ کریں گے۔ انہوں نے سپریم کور ٹ سے اس معاملہ کاازخود نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ آزادی اظہار رائے کا معاملہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: OpenAI اے آئی سسٹمز کیلئے ’خودکار شٹ ڈاؤن‘ صلاحیت تیار کر رہا ہے: رپورٹ
سنجے شرما نے سخت برہمی کا اظہار کیا اورکہا کہ ملک میں نفرت اس سطح پر آچکی ہے کہ ایک صحافی کو بھی اس کی مذہبی شناخت کی وجہ سے بربریت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے صحافی برادری ،سماجی اور سیاسی حلقوں کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوںنے شاہین خان کو تشدد کے نشانہ بنائے جانے کے خلاف آواز اٹھائی اور دیررات تین بجے ساکیت پولیس اسٹیشن کو شکایت درج کرنے پر مجبور کیا۔ انہوں نے دہلی پولیس سے سوال کیا کہ آیا وہ کسی صحافی کو محض اس لئے تشدد کا نشانہ بنا سکتی ہے کیونکہ وہ مسلمان ہے۔ کیا اس ملک میں مسلمان ہونا جرم ہوگیا،اس سرزمین میں مسلمانوں کا خون شامل نہیں؟سنجے شرما نے کہا کہ ’’ایک صحافی کو آپ سڑک سے اٹھاکر تھانے لےجائیں گے اور جب وہ اپنا نام شاہین خان بتائے گی تو اسے ماریں گے۔آپ کہیں گے کہ تومسلمان ہے تو اور ماریں گے ،میں نے ۳۵؍سال کے صحافتی کریئر میں اس سے زیادہ شرمناک رویہ نہیں دیکھا۔