قومی سطح پر مہاراشٹر کا نام روشن کر نے والی اشونی منوہر پال چند ماہ قبل اپنے سسرال سے علاحدہ ہو کر اپنےماں باپ کے ساتھ رہنے لگی تھی۔
EPAPER
Updated: September 05, 2026, 11:27 AM IST | Agency | Osmanabad
قومی سطح پر مہاراشٹر کا نام روشن کر نے والی اشونی منوہر پال چند ماہ قبل اپنے سسرال سے علاحدہ ہو کر اپنےماں باپ کے ساتھ رہنے لگی تھی۔
عثمان آباد میں واقع تاریخی قلعے نل درگ میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے جس نے پورے مہاراشٹر کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایک خاتون نے اپنے۳؍ بچوں سمیت نل درگ قلعہ سے چھلانگ لگا دی۔ اس میں خاتون کی اور اس کے ۲؍ بچوں کی موت ہو گئی۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ خاتون کشتی کی کھلاڑی (پہلوان ) رہ چکی ہے۔ اشونی منوہر پال نے کشتی میں قومی سطح پر مہاراشٹر کا نام روشن کیا ہے۔
اطلاع کے مطابق اس سانحہ میںاشونی پال اور اس کے ساڑھے ۵؍ سالہ بیٹے اجنکیا کی موقع ہی پر موت ہو گئی۔ جبکہ اس کی ڈھائی سالہ جڑواں بچیوں میں سےکرانتی کی بھی اسپتال میں علاج کے دوران موت ہو گئی۔ اشونی دوسری بچی ویرا شدید زخمی ہےاور عثمان آباد کے ایک سرکاری اسپتال میں زیر علاج ہے۔ ہر طرف یہ سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر اشونی نے یہ انتہائی قدم کیوں اٹھایا؟اس کی وجہ ابھی تک واضح نہیں ہو سکی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ایس آئی آر قانونی عمل تو ہے لیکن غیر منصفانہ: سابق الیکشن کمشنر لواسا
اطلاع کے مطابق اشونی پال کی ریسلنگ کے میدان میں ایک الگ پہچان تھی۔مہاراشٹر کی شیرنی کے نام سے مشہور اشونی نے قومی سطح کے مقابلوں میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا اور ۵؍ طلائی کے علاوہ۶؍ چاندی کے تمغے جیتے تھے۔ اپنی کامیابی کی وجہ سے اس نے مہاراشٹر کے کھیلوں کے میدان میں اپنی شناخت بنائی۔ وہ ممبئی میں مہاراشٹر سیکوریٹی فورس میں بھی کام کر رہی تھی۔ اس نے ۳؍ سے ۴؍ ماہ قبل اپنے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا اور اپنے سسرال سے الگ ہو کر اپنے بچوں کے ساتھ اپنی والدہ کے گھر میں رہنے لگی تھی۔
اشونی کے والد کے مطابق اشونی نے سنگین الزام لگایا ہے کہ اسے اس کے شوہر اور سسرال والے ذہنی اور جسمانی طور پر ہراساں کر رہے تھے۔ اس ہراسانی سے تنگ آکر اشونی نے نل درگ قلعہ کی فصیل سے اپنے ۳؍ بچوں کے ساتھ چھلانگ لگا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔
یہ بھی پڑھئے:OpenAI اے آئی سسٹمز کیلئے ’خودکار شٹ ڈاؤن‘ صلاحیت تیار کر رہا ہے: رپورٹ
اتنی اونچائی سے گرنے کے بعد اشونی اور اس کے ۲؍ بچوں کی موت ہو گئی جبکہ ایک بیٹی شدید زخمی ہو گئی جس کا علاج چل رہا ہے۔ایک کھلاڑی کی زندگی کے ایسے ناخوشگوار خاتمے کے باعث کھیلوں کے شعبے سمیت ہر طرف صدمے کا ماحول ہے۔ اشونی کے والد کی طرف سے لگائے گئے الزامات کی پولیس جانچ کر رہی ہے، اور امکان ہے کہ تحقیقات کے ذریعے اس واقعہ کے پیچھے سچائی سامنے آئے گی۔ ایک کامیاب خاتون کھلاڑی اور اس کے تین چھوٹے بچوں کا یہ افسوسناک انجام کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ خاندانی کشمکش، ذہنی تناؤ اور خواتین کی حفاظت کا معاملہ ایک بار پھر کھل کر سامنے آیا ہے اور اس واقعے کی مکمل تحقیقات کر کے سچ سامنے لانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ مہاراشٹر میں خواتین پر مظالم کے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں۔ اس تعلق سے حکومت پر تنقیدیں بھی ہوتی آئی ہیں۔ ایسی صورت میں ایک کھلاڑی کا یوں خود کشی کر لینا انتظامیہ کیلئے لمحۂ فکریہ ہے۔ فی الحال لوگوں کو پولیس کی رپورٹ کا انتظار ہے۔