Inquilab Logo Happiest Places to Work

ملک میں کھاد کی پیداوار ۲۵؍ فیصد گھٹ گئی

Updated: April 22, 2026, 11:10 AM IST | Agency | Mumbai

ایران جنگ سے ہندوستان کا زرعی شعبہ بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا۔

fertilizer.Photo:INN
کھاد۔ تصویر:آئی این این
ایران جنگ کے باعث  ہندوستان میں کھاد  کی پیداوار مارچ میں تقریباً ایک چوتھائی کم ہو گئی۔ وزارتِ تجارت کے مطابق مارچ۲۰۲۶ء میں کھاد کی پیداوار مارچ۲۵ء کے مقابلے میں۲۴ء۶؍ فیصد کم رہی۔
دراصل کھاد بنانے میں استعمال ہونے والی قدرتی گیس کی سپلائی مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کی بنا پرمتاثر ہوئی ہے۔ قدرتی گیس یوریا بنانے میں استعمال ہوتی ہے، جو  ملک کی زراعت کیلئے نہایت ضروری کھاد ہے۔اس مقصد کیلئے ہندوستان مکمل طور پر عالمی توانائی کی قیمتوں اور سپلائی پر منحصر ہے۔ جنگ کی وجہ سے ہرمز  کے راستے سے  آمد و رفت تقریباً بند ہو چکی ہے۔  نتیجتاً مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی کھیپ نہیں پہنچ پا رہی۔ ہندوستان اپنی ضرورت کی تقریباً۶۰؍ فیصد ایل این جی اور۴۰؍ فیصد یوریا کے لیے انہی ممالک پر انحصار کرتا ہے۔
دنیا کی تقریباً ایک تہائی کھاد بھی اسی سمندری راستے سے گزرتی ہے۔ اس رکاوٹ کے بعد ماہرین اور کئی بین الاقوامی اداروں نے خوراک کی پیداوار پر اثرات کے حوالے سے متعدد انتباہات جاری کئے ہیں۔ ہندوستان میں زراعت چھوٹے چھوٹے کھیتوں میں کی جاتی ہے اور اکثر پیداوار زیادہ نہیں ہوتی، لیکن ملک کی۴۵؍ فیصد سے زائد آبادی کا انحصار زراعت پر ہے۔
 
 
ہندوستان  دنیا میں  سب سے زیادہ  کھاد استعمال کرنے والے ممالک میں شامل ہے لیکن  اس کی ضرورت کا بڑا حصہ بیرونِ ملک سے آتا ہے۔ تقریباً۳۰؍ سے۳۵؍ فیصد کھاد براہِ راست درآمد کی جاتی ہے۔  یوریا کے معاملہ میں  ہندوستان  خود کفیل ہونے کے قریب ہے، لیکن خام مال (گیس) کیلئے اب بھی درآمدات پر انحصار ہے۔  ڈائی امونیم فاسفیٹ(ڈی اے پی) اور پوٹاش جیسی کھادوں کیلئے  ۸۰؍ سے۹۰؍ فیصد تک کا انحصار  درآمد پر ہوتا ہے۔
 
 
ہندوستان کی ۴۵؍ فیصد آبادی زراعت پر منحصر ہے، اس لیےکھاد کی کمی کے اثرات زیادہ ہو سکتے ہیں۔اندیشہ ہے کہ کھاد کی کمی سے فی ہیکٹر پیداوار۱۰؍ سے۱۵؍فیصد تک کم ہو سکتی ہے، جس سے اناج کی قلت اور مہنگائی بڑھنے کا خدشہ ہے۔  اس کے علاوہ چھوٹے کسانوں کیلئے چھوٹے   لاگت بڑھ جائے گی  اورمنافع کم ہو جائے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK