خریف کی بوائی متاثر ہوسکتی ہے،کسانوں کی آمدنی میں بھی ۵؍ فیصد تک کمی کا اندیشہ، آبنائے ہرمز پر آمدورفت جلد معمول پر نہ آئی توصورتحال مزید خراب ہوجائےگی۔
جنگ کی وجہ سے ملک میں غذائی ساز و سامان کی مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے-تصویر:آئی این این
نئی دہلی(ایجنسی): آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی، ایندھن کی سپلائی میں رخنہ اور کھاد کی پیداوار میں کی وجہ سے ہندوستان کو مالی ۲۷-۲۰۲۶ء میں غذائی اجناس مہنگائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ انتباہ فوڈ اینڈ ایگری کلچر آرگنائزیشن (ایف او اے) کے چیف اکنامسٹ میکسیمو ٹوریرو نے ایک ہندوستانی خبر رساں ایجنسی سے گفتگو کے دوران کہا ہے۔ ان کےمطابق ۲۷-۲۶ء میں ۱۸ء۶؍ارب ڈالر کی کھاد سبسیڈی کے باوجود ہندوستان کو غذائی اشیاء کی مہنگائی کے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے، کیونکہ امریکہ-ایران تنازع کے باعث عالمی سپلائی میں خلل پیدا ہو رہا ہے جو خریف کی فصل کی بوائی کو متاثر کرسکتی ہے۔
انہوں نے ’اے این آئی‘ کو ای میل کے ذریعہ دیئے گئے ایک ای میل انٹرویو میں کہاکہ’’ اگر یہ بحران (خلیجی تنازع اور مانسون میں معمول سے کم بارش) جاری رہا تو ہندوستان کو زیادہ درآمدی لاگت، کھاد کی گھریلو دستیابی میں کمی اور خاص طور پر گیہوں، چاول اور سبزیوں کی قیمتوں پر دباؤ کا سامنا ہوگا۔‘‘
۳۵؍ فیصد کھاد کا انحصار درآمد پر
امریکہ-ایران کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس صورت میں ہندوستان خاص طور پر کمزور ہے کیونکہ وہ اپنے استعمال کی تقریباً۳۵؍ فیصد کھاد خلیجی ممالک سے حاصل کرتا ہے اور فی ہیکٹر۱۲۰؍ کلوگرام سے زیادہ نائٹروجن استعمال کرتا ہے۔ ہندوستان میں کھاد کارخانوں کی کم پیداواری صلاحیت پر کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ’’ حکومت کی جانب سے گیس کی فراہمی کو ماضی کی اوسط کے۷۰؍ فیصد تک محدود کرنے کے بعد مقامی کھاد کارخانے صرف۶۰؍ فیصد صلاحیت پر چل رہے ہیں۔‘‘
کھاد کارخانوں کو بھی مشکلات کا سامنا
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پنجاب میں نیشنل فرٹیلائزرز لمیٹڈ کے کارخانوں میں اگرچہ کام کاج دوبارہ شروع ہو گیا ہے لیکن انہیں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ہندوستان میں خریف کی بوائی کا سیزن مئی میں شروع ہوتا ہے جبکہ۲۰۲۶ء مانسون میں معمول سے کم بارش کا امکان۶۰؍ فیصد بڑھ گیا ہے۔ اس سوال کے جواب میں کہ کیا کھاد کی تجارت میں طویل خلل فصلوں کی پیداوار اور خوراک کی قیمتوں کو متاثر کرے گا، میکسیمو ٹوریرو نے کہاکہ ’’ اگر خلل۶۰؍ دن سے زیادہ طول پکڑتا ہے تو اثرات شدید ہو جائیں گے۔‘‘ ’ایف او اے ‘ کے سربراہ نے کہا کہ کھاد کی قیمتوں میں اضافہ استعمال میں براہ راست کمی کا سبب بنتا ہے۔
کسانوں کی آمدنی میں بھی کمی
’’اِن پُٹ ‘‘ میں معمولی کمی بھی پیداوار میں غیر متناسب گراوٹ کا سبب بنتی ہے۔ٹوریرو نے کہا کہ اس سے دنیا بھر کے کسانوں کی آمدنی میں کمی آ سکتی ہے۔ ن کے اندازوں کے مطابق ’’عالمی سطح پر اناج پیدا کرنے والے کسانوں کی آمدنی تقریباً۵؍ فیصد تک کم ہو سکتی ہے۔ یہ سپلائی میں کمی اناج کی منڈیوں قلت پیداکرتی ہے جو قیمتوں میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ اس سے گیہوں، چاول اور سویا جیسی دیگر فصلوں کی قیمتیں بھی متاثرہوتی ہیں۔‘‘ ایندھن کی قیمتیں ، آبپاشی کا خرچ، نقل و حمل، ذخیرہ کرنے کے اخراجات اور پروسیسنگ کے اخراجات میں اضافہ کی وجہ سےکسانوں کے منافع میں کمی آئے گی۔
کھاد کی قیمتوں میں اضافہ بھی ہوگا
توانائی کی بڑھتی قیمتیں براہ راست قدرتی گیس کی لاگت بڑھاتی ہیں جو نائٹروجن کھاد کا بنیادی جزو ہے۔ ٹوریرو کے مطابق عالمی سطح پر کھاد کی قیمتیں پہلے ہی۵۰؍ سے۸۰؍ فیصد تک بڑھ چکی ہیں۔ کسان جب ان زیادہ اخراجات کا سامنا کرتے ہیں تو وہ کھاد کا استعمال کم کر دیتے ہیں، جس سے فصلیں کمزور اور پیداوار کم ہو جاتی ہے۔ اس کا سب سے زیادہ اثر نائٹروجن پر انحصار کرنے والی فصلوں جیسے چاول، مکئی اور گندم پر پڑتا ہے۔
اس سوال پر کہ اگر بحران حل کرلیا جائے اور سپلائی میں خلل صرف چند ماہ جاری رہے تو کیا تب بھی خوراک کا بحران پیدا ہو سکتا ہے، انہوں نے امید ظاہر کی کہ’’ سب کچھ مدت پر منحصر ہے۔ اگر آبنائے۶۰؍ دن کے اندر کھل جاتی ہے تو منڈیاں تین سے چار ماہ میں اس جھٹکے کو جذب کر لیں گی۔‘‘
بحران جاری رہا تو حالات بگڑ سکتے ہیں
فوڈ اینڈ ایگری کلچر آرگنائزیشن کے چیف اکنامسٹ نے بتایا کہ غذائی اجناس کی قیمتیں سال کے دوسرے نصف اور ۲۰۲۷ء میں بڑھیں گی، جس سے کھانے پینے کی اشیاء کی مہنگائی اور مجموعی مہنگائی میں اضافہ ہوگا، سود کی شرحیں بڑھیں گی اور معاشی ترقی متاثر ہوگی۔انہوں نے بتایاکہ’’ ایف اے او کے مطابق معاشی ترقی میں مجموعی طور پر۱ء۷؍ فیصد تک کمی ہو سکتی ہے۔ نتیجتاً ہم اسٹیگ فلیشن کا سامنا کریں گے، یعنی زیادہ مہنگائی اور کم ترقی۔‘‘ خصوصاً درآمد پر انحصار کرنے والے ممالک کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس تنازع نے آبنائے ہرمز کو شدید متاثر کیا ہے، جہاں سے عالمی کھاد تجارت کا تقریباً۳۰؍ فیصد گزرتا ہے۔