Updated: July 08, 2026, 7:31 PM IST
| Atlanta
ارجنٹائنا کے خلاف مصر کے راؤنڈ آف ۱۶ کے مقابلے سے قبل ایک پریس کانفرنس کے دوران حسن نے کہا کہ ”اگر کوئی ایسا شخص ہے جس نے فلسطینی عوام کے دکھ درد کو محسوس نہیں کیا، تو اس کے اندر انسانیت ہی نہیں ہے۔ میں یہ کہنا چاہوں گا کہ یہ پوری دنیا کیلئے شرم کی بات ہے۔“ ان کے اس تبصرے پر وہاں موجود بہت سے صحافیوں نے تالیاں بجا کر ان کی تائید کی۔
فیفا ورلڈکپ ۲۰۲۶ء میں مصر کی قومی فٹبال ٹیم کے ہیڈ کوچ حسام حسن نے پیر کے دن ایک پریس کانفرنس کے دوران فلسطین کے حق میں ایک مضبوط پیغام دیا۔ انہوں نے فلسطینیوں کے مصائب کو ”پوری دنیا کیلئے شرم کا مقام“ قرار دیا اور عالمی فٹ بال برادری پر زور دیا کہ وہ اس کھیل کو فلسطین کی حمایت اور وکالت کے ایک پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کرے۔
اٹلانٹا میں، ارجنٹائنا کے خلاف مصر کے راؤنڈ آف ۱۶ کے مقابلے سے قبل ایک پریس کانفرنس کے دوران حسن نے کہا کہ ”اگر کوئی ایسا شخص ہے جس نے فلسطینی عوام کے دکھ درد کو محسوس نہیں کیا، تو اس کے اندر انسانیت ہی نہیں ہے۔ میں یہ کہنا چاہوں گا کہ یہ ہمارے لئے شرم کا مقام ہے۔ یہ صرف عرب دنیا کیلئے نہیں بلکہ پوری دنیا کیلئے شرم کی بات ہے۔ یہ ہر ایک کیلئے شرم کا مقام ہے، سب سے بڑھ کر ان فیصلہ سازوں کیلئے شرم کا مقام ہے جو انسانوں کو بے یارومددگار چھوڑ دیتے ہیں۔“ ان کے اس تبصرے پر وہاں موجود بہت سے صحافیوں نے تالیاں بجا کر ان کی تائید کی۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی فوج خوف کی کیفیت کے درمیان ’’ اخلاقی پستی ‘‘کا شکار: ریزروافسر
حسن نے دنیا بھر کے میڈیا اداروں اور کھلاڑیوں پر زور دیا کہ وہ فٹبال کو سافٹ پاور (غیر متشدد لیکن موثر طاقت) کے طور پر استعمال کریں۔ انہوں نے کہا کہ ”شاید ہم سب مل کر اجتماعی پیغام پہنچا سکتے ہیں کہ فلسطینی عوام کو ان کے حال پر چھوڑ دو۔ انہیں جینے دو۔ انہیں اپنی مرضی کی زندگی گزارنے دو۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی یہ اپیل مذہب اور قومیت سے بالاتر ہے۔ ”عرب یا کچھ اور ہونے سے پہلے میں ایک انسان ہوں۔“ انہوں نے واضح موازنہ کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ”اگر کوئی کسی جانور کو نقصان پہنچاتا ہے، تو ہم دیکھتے ہیں کہ جانوروں کے حقوق کا دفاع کیا جاتا ہے اور پوری دنیا اس پر ردِعمل ظاہر کرتی ہے۔ (لیکن یہاں) یہ اب ایک عام بات بن چکی ہے کہ ایک ہی دن میں میزائل کی وجہ سے دو تین ہزار لوگ مر جاتے ہیں۔“
حسن اس سے قبل آسٹریلیا کے خلاف پنالٹی شوٹ آؤٹ میں مصر کی فتح کے بعد، جب مصری ٹیم نے ورلڈکپ ناک آؤٹ مرحلے کیلئے تاریخ میں پہلی بار کوالیفائی کیا، میدان میں فلسطین کا جھنڈا لے کر آئے تھے۔ انہوں نے یہ فتح مصری اور فلسطینی عوام دونوں کے نام منسوب کی تھی۔ فیفا نے ان پر کوئی پابندی عائد نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور واضح کیا کہ فلسطین کا جھنڈا لہرانا ٹورنامنٹ کے قوانین کی خلاف ورزی نہیں ہے کیونکہ فلسطین فیفا کی ۲۱۱ رکنی ممبر ایسوسی ایشنز میں شامل ہے۔ فلسطینی فٹ بال ایسوسی ایشن کے صدر جبریل رجوب نے ایکس پر حسن کے اس ”انسانی اور عظیم“ مؤقف کی تعریف کی۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ نے فیفا صدر کے ساتھ کال کی تفصیل بتائی؛ امریکی مداح صدر پر برہم، ہار کی وجہ ٹرمپ کو قرار دیا
فیفا ورلڈکپ سے مصر کا ڈرامائی اخراج اور ریفری کا تنازع
پیر کو میدان پر مصر نے عالمی چیمپئن ارجنٹائنا کے خلاف ۲-۰ کی برتری حاصل کرکے دنیا کو حیران کر دیا، لیکن اس کے بعد ٹیم کا دفاع بری طرح بکھر گیا اور اسے ۳-۲ سے عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ میچ کے بعد حسن نے امپائرنگ (آفیشیٹنگ) پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مصر کو ایک پنالٹی دینے سے انکار کیا گیا اور ٹیم کا ایک گول کالعدم قرار دیا گیا۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ بیرونی دباؤ کی وجہ سے ارجنٹائنا کو فائدہ پہنچانے کیلئے ایسا کیا گیا ہوگا۔ انہوں نے کہا: ”یہ واضح طور پر ایک دھاندلی زدہ میچ تھا اور پوری دنیا نے اسے دیکھا۔ شاید وہ چاہتے تھے کہ میسی اس ریس میں برقرار رہیں۔ عالمی چیمپئن کو ہر سطح پر حمایت ملی۔“ میچ کے دوران فیفا کے خلاف نسل پرستی مخالف اشارہ کرنے پر انہیں پیلا کارڈ بھی دکھایا گیا۔
مصر کے ٹورنامنٹ سے باہر ہونے کے بعد، تل ابیب میں جشن منانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں اور سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز گردش کرنے لگیں جن میں ہجوم کو ارجنٹائنا کی جیت پر خوشی مناتے ہوئے دکھایا گیا۔ اسٹیڈیم کے اندر ارجنٹائنا کے کچھ حامیوں کو حسن کی طرف اسرائیلی جھنڈے لہراتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔ دوسری طرف، غزہ کے باشندوں نے ایک تباہ شدہ عمارت پر مصری کوچ کا ایک بینر لگا کر ان کا شکریہ ادا کیا اور انہیں خراج تحسین پیش کیا۔ غزہ میں لگائے گئے بینر میں حسن کو مصر اور فلسطین دونوں کے جھنڈے تھامے ہوئے ہیں۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق، غزہ میں اسرائیل کی نسل کشی کے نتیجے میں اب تک ۷۳ ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔