Updated: July 18, 2026, 10:01 PM IST
| Mexico City
ارجنٹائنا اور اسپین کے درمیان فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ءکا فائنل کھیلوں کی تاریخ کا مہنگا ترین مقابلہ بننے جا رہا ہے، جہاں ری سیل ٹکٹوں کی قیمتوں نے سپر باؤل سمیت تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔ لیونل میسی کی ممکنہ آخری ورلڈ کپ شرکت، عالمی سطح پر غیر معمولی طلب اور ریکارڈ حاضری نے اس تاریخی میچ کی تجارتی اہمیت کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے۔
ارجنٹائنااور اسپین کے درمیان اتوار کو کھیلا جانے والا فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ءکا فائنل کھیلوں کی تاریخ کا مہنگا ترین ایونٹ بنتا جا رہا ہے، جہاں ری سیل (دوبارہ فروخت) ہونے والے ٹکٹوں کی قیمتیں سپر باؤل اور این بی اے فائنلز کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ چکی ہیں۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق نیویارک، نیو جرسی اسٹیڈیم (میٹ لائف اسٹیڈیم) میں ہونے والے اس فائنل کے ری سیل ٹکٹ کی اوسط قیمت۱۲؍ ہزار ۷۵۱؍ امریکی ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ اس کی بڑی وجوہات میں لیونل میسی کی مسلسل دوسری بار ورلڈ کپ جیتنے کی کوشش، دنیا بھر سے غیر معمولی طلب اور ٹورنامنٹ کے ریکارڈ توڑ شائقین کی تعداد شامل ہیں۔
سپر باؤل کا ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا
ٹکٹ مارکیٹ پلیس SeatGeek کے اعداد و شمار کے مطابق ورلڈ کپ فائنل کے ری سیل ٹکٹ کی اوسط قیمت ۱۲؍ ہزار ۷۵۱؍ڈالر ہے، جو۲۰۲۴ء کے سپر باؤل (کنساس سٹی چیفس اور سان فرانسسکو۴۹؍رز کے درمیان) کے ۱۰؍ ہزار ۵۴۰؍ڈالر کے سابقہ ریکارڈ سے کہیں زیادہ ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ میچ سے دو روز قبل بھی بڑے ری سیل پلیٹ فارمز پر سب سے سستا ٹکٹ تقریباً ۷؍ ہزار۶۰۰؍ڈالر میں دستیاب تھا، جبکہ پریمیم کیٹیگری ون کی نشستوں کی قیمت ۱۱؍ہزار ڈالر سے تجاوز کر گئی تھی۔ ماہرین کے مطابق اس سے پہلے کسی بھی بڑے کھیلوں کے مقابلے میں ری سیل ٹکٹوں کی اوسط قیمت اتنی بلند سطح پر برقرار نہیں رہی۔
میسی، عالمی دلچسپی اور بڑا اسٹیڈیم طلب میں اضافے کی وجہ
سپر باؤل کے برعکس، جس کے زیادہ تر ناظرین شمالی امریکہ سے ہوتے ہیں، فیفا ورلڈ کپ دنیا بھر کے شائقین کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق فائنل کیلئے StubHub پر فروخت ہونے والے تقریباً ۲۰؍فیصد ٹکٹ بین الاقوامی خریداروں نے خریدے، جبکہ۲۰۲۴ء کے سپر باؤل میں یہ شرح صرف۴ء۵؍ فیصد تھی۔ لیونل میسی کی ممکنہ آخری ورلڈ کپ شرکت نے بھی شائقین کی دلچسپی میں مزید اضافہ کیا، اگرچہ ارجنٹائنا کے فائنل میں پہنچنے سے پہلے ہی ٹکٹوں کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی تھیں۔ اسٹیڈیم کی گنجائش بھی ایک اہم عنصر ہے۔ نیویارک، نیو جرسی اسٹیڈیم میں ۸۰؍ ہزار سے زائد تماشائیوں کی گنجائش ہے، جو حالیہ سپر باؤل کے میزبان اسٹیڈیمز سے کہیں زیادہ ہے، اس کے باوجود ٹکٹوں کی قیمتیں ریکارڈ سطح تک پہنچ چکی ہیں۔
فیفا کی قیمتوں کی حکمتِ عملی کامیاب
جب فیفا نے ابتدائی طور پر فائنل کے ٹکٹ جاری کئے تو ان کی بلند قیمتوں پر شائقین نے تنقید کی تھی۔ پریمیم نشستوں کی ابتدائی قیمت ۶؍ہزار ۷۰۰؍ڈالر سے زیادہ تھی، جبکہ بعد میں کیٹیگری ون کے ٹکٹوں کی قیمت تقریباً۱۱؍ ہزار ڈالر تک پہنچ گئی، جس کے بعد ری سیل مارکیٹ میں ان کی قیمت مزید بڑھ گئی۔ فیفا نے پورے ٹورنامنٹ کے دوران اپنے قیمتوں کے نظام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے سب سے بڑے فٹ بال ایونٹ کی غیر معمولی طلب، خصوصاً امریکہ میں جہاں ڈائنامک پرائسنگ اور ٹکٹ ری سیل عام ہے، ان قیمتوں کو درست ثابت کرتی ہے۔ مارکیٹ کے رجحان نے بھی فیفا کے اس مؤقف کی تائید کی۔ ٹورنامنٹ کے بیشتر میچوں کے ٹکٹ ری سیل مارکیٹ میں اصل قیمت سے زیادہ میں فروخت ہوئے، جبکہ فائنل سب سے زیادہ مطلوب ٹکٹ بن گیا۔
حاضری کے نئے ریکارڈ
ٹکٹوں کی بلند قیمتوں کے ساتھ ورلڈ کپ۲۰۲۶ءپہلے ہی فیفا کی تاریخ کا سب سے بڑا ٹورنامنٹ بن چکا ہے۔ فیفا کے مطابق۴۸؍ٹیموں پر مشتمل اس توسیع شدہ ورلڈ کپ میں امریکہ، کنیڈا اور میکسیکو کے اسٹیڈیمز میں اوسطاً۹۹؍ فیصد سے زیادہ نشستیں بھر چکی ہیں۔ اتوار کو ارجنٹائنااور اسپین کے درمیان فائنل بھی مکمل طور پر ہاؤس فل ہونے کی توقع ہے۔ اندازہ ہے کہ اس تاریخی مقابلے کو دنیا بھر میں ایک ارب سے زائد افراد ٹیلی ویژن پر دیکھیں گے، جو اس ایونٹ کی بے مثال مقبولیت اور تجارتی اہمیت کو مزید نمایاں کرتا ہے۔ ٹورنامنٹ کی دو بہترین ٹیموں کے درمیان ٹائٹل کی جنگ اور لیونل میسی کی ممکنہ آخری ورلڈ کپ شرکت نے اس مقابلے کو نہ صرف فٹ بال کا سب سے بڑا منظرنامہ بنا دیا ہے بلکہ کھیلوں کی تاریخ کا سب سے مہنگا ٹکٹ بھی بنا دیا ہے۔