Inquilab Logo Happiest Places to Work

فیفا ورلڈ کپ فائنل: دہلی میں کیفے اور ریستوران صبح۴؍ بجے تک کھلے رہیں گے

Updated: July 19, 2026, 4:10 PM IST | New Delhi

فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ءکے فائنل کے موقع پر دہلی حکومت نے فٹبال شائقین کے لیے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے دارالحکومت میں ریستوران، کیفے اور دیگر اہل تجارتی مراکز کو اس ہفتے کے آخر تک صبح ۴؍بجے تک کھلا رکھنے کی اجازت دے دی ہے۔

Fifa World Cup.Photo:X
فیفا ورلڈ کپ ۔تصویر:ایکس

 فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ءکے فائنل کے موقع پر دہلی حکومت نے فٹبال شائقین کے لیے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے دارالحکومت میں ریستوران، کیفے اور دیگر اہل تجارتی مراکز کو اس ہفتے کے آخر تک  صبح  ۴؍بجے تک کھلا رکھنے کی اجازت دے دی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:ورلڈ کپ فائنل سے قبل نیویارک اور نیو جرسی میں فضائی آلودگی نے خدشات بڑھا دیے


دفاعی چیمپئن  ارجنٹائنااوراسپین کے درمیان ورلڈ کپ کا فائنل نیویارک میں کھیلا جائے گا، جہاں ارجنٹائنا  اپنی تاریخ کا چوتھا عالمی ٹائٹل اور مسلسل دوسری بار ورلڈ کپ جیتنے کے لیے میدان میں اترے گا۔ دہلی کی وزیر اعلیٰ  ریکھا گپتا  نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم  ایکس (X) پر لکھا: ’’ہر فٹبال مداح نے لیونل میسی کو تاریخ رقم کرتے دیکھا ہے۔ اب تاریخ ایک اور داستان لکھنے جا رہی ہے۔ یہ ایک ایسی رات ہوگی جسے آنے والی نسلیں یاد رکھیں گی۔ دہلی اس تاریخی رات کے لیے تیار ہے۔ 
وزیر اعلیٰ کے مطابق یہ فیصلہ حکومت کے ۲۴×۷ کاروبار دوست آپریٹنگ فریم ورک کے تحت کیا گیا ہے، جس کا مقصد کاروبار میں آسانی کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے فٹبال کے شائقین آدھی رات کے بعد بھی ایک ساتھ فائنل کا لطف اٹھا سکیں گے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:فلم ’’بجرنگی بھائی جان‘‘ کو ۱۱؍سال مکمل، سلمان خان فلمز نے جشن منایا


 دیگر شہروں میں بھی خصوصی انتظامات
دہلی کے علاوہ  بنگلورو  میں بھی سٹی پولیس کمشنر نے ورلڈ کپ سیمی فائنلز اور فائنل کے لیے ہوٹلوں اور ریستورانوں کو صبح  ساڑھے ۳؍ بجے  تک کھلا رکھنے کی اجازت دی ہے۔ ادھر مغربی بنگال میں حکومت نے کولکاتا سمیت مختلف اضلاع میں بڑے پردوں پر فائنل کی براہِ راست اسکریننگ کا انتظام کیا ہے۔ ریاستی حکومت نے ہر ضلع کو اس مقصد کے لیے ایک لاکھ روپے مختص کیے ہیں، جبکہ تمام ضلعی انتظامیہ کو عوامی مقامات پر بڑی اسکرینیں نصب کرنے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس تاریخی مقابلے سے لطف اندوز ہو سکیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK