جرمانہ بڑھنے سے ریلوے کو مالی اعتبار سے فائدہ ہوگا ساتھ ہی بلاٹکٹ سفر کرنے والوں میں کمی آنے کی امید۔
EPAPER
Updated: July 05, 2026, 11:23 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai
جرمانہ بڑھنے سے ریلوے کو مالی اعتبار سے فائدہ ہوگا ساتھ ہی بلاٹکٹ سفر کرنے والوں میں کمی آنے کی امید۔
لوکل ٹرینوں میں بلاٹکٹ سفر کرنے والوں پر عائد کردہ جرمانہ اب دو گنا یعنی ۵۰۰؍روپے کرنے کے ساتھ سختی بھی کی جا رہی ہے۔ ٹکٹ چیکروں کی الگ الگ ٹیموں کو ٹرینوں اور پلیٹ فارم پر آرپی ایف کے ساتھ مامور کیا جارہا ہے۔ واضح رہے کہ پہلے جرمانہ ۲۵۰؍ روپے ہوا کرتا تھا مگر اسے بڑھادیا گیا ہے۔ نمائندۂ انقلاب نے دیکھا کہ ایک ساتھ ایک ہی ڈبے میں ۳۔ ۳؍ ٹکٹ چیکر داخل ہوئے اورکئی ٹکٹ چیکر پلیٹ فارم پرکھڑے ہوئے ہیں مگر وہ گاؤن(سیاہ کوٹ) نہیں پہنے ہوئے تھے محض اپنا شناختی کارڈ گلے میں لٹکائے ہوئے تھے۔ ان سے یہ سوال کرنے پرکہ آپ لوگوں کے لئے گاؤن پہننا ضروری ہے توجواب دیا کہ ہاں، مگرہم لوگ اسپیشل اسکواڈ کا حصہ ہیں اس لئے گاؤن لازمی نہیں اورہم کسی بھی جگہ ٹکٹ چیک کر سکتے ہیں ۔ ٹکٹ چیکروں نے اس کی توثیق کی کہ جرمانہ دوگنا کردیا گیا ہے۔
ریلوے کے اناؤنسمنٹ سسٹم پربار بار اعلان بھی کیا جارہا ہے کہ بلاٹکٹ سفر کرنا قانوناً جرم ہونے کے ساتھ سماجی برائی بھی ہے اورجرمانہ بڑھاکر ۵۰۰؍ روپے کردیا گیا ہے۔ سینٹر ل ریلوے کے چیف پی آر اوڈاکٹر سوپنل نیلا نےنمائندۂ انقلاب کوبتایاکہ ’’ جرمانہ دوگنا کیا جانا یہ جن وشواس ایکٹ کا حصہ ہے۔ اس کے ذریعے اصلاحی اقدامات کئے جاتے ہیں ، اسی کے تحت اسے بڑھایا گیا ہے۔ ویسے بھی کئی برس سے جرمانہ ۲۵۰؍ روپے تھا، اس لئے اب بڑھایا گیا ہے۔ ‘‘ ان کے مطابق ’’دراصل یہ پالیسی کا حصہ ہے اوراسے ریلو ے بورڈ طے کرتا ہے، دیگر ژون یا ڈویژنس کواسے نافذکرنا ہوتا ہے۔ ‘‘
چیف پی آر او کا یہ بھی کہنا تھا کہ’’ ا س طرح کے اقدامات کا بنیادی مقصد لوگوں کوایک ذمہ دار مسافر بنانا ہوتا ہے تاکہ وہ ٹکٹ لے کر شان سے سفر کریں ، کمائی کا مقصد نہیں ہوتا ہے، کمائی تو ضمناً ہوجاتی ہے۔ اگر تمام مسافر یہ طے کرلیں کہ وہ ٹکٹ خریدے بغیرسفر نہیں کریں گے تو یہ جرمانے سے کہیں زیادہ اہم ہوگا اورقابل ستائش بھی۔ ‘‘
سینٹر ل اور ویسٹرن ریلوے انتظامیہ کی جانب سے یہ اعتراف کیا گیا کہ جرمانے کی رقم بڑھانے سے ریلوے کی آمدنی میں یقیناً اضافہ ہوگا۔ ساتھ ہی اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ پہلے کے مقابلے بلاٹکٹ سفر کرنے والوں میں کمی آنے کی بھی امید ہے کیونکہ ۵۰۰؍ روپے جرمانہ اداکرنا بہرحال مسافروں پر بوجھ ہوگا اور فاصلے کے حساب سےٹکٹ کی رقم بھی ان کوادا کرنی ہوگی، یعنی اگر ایک مسافر بلاٹکٹ سفر کرتے ہوئے پکڑا گیا توجتنی دوری اس نے طے کی ہے، خواہ وہ اے سی لوکل ہو یا غیراےسی، جو کرایہ ہوتا ہے جرمانے کے ساتھ وہ بھی اسےدینا ہوگا۔ ‘‘