فیروزآباد : بچوں کی اموات سے خوف کا ماحول

Updated: October 08, 2021, 11:39 AM IST | Inquilab News Network | Firozabad

بیمار بچوں کی مائیں رات بھر جاگ کر نگرانی کررہی ہیں ۔ باپ اپنےبچوں کے علاج کیلئے رات کو ۳؍ بجے گھرسے نکل جاتے ہیں ،دوپہر ۱۱؍ بجے آنے والے ڈاکٹر کیلئے صبح ۵؍ بجے سے نمبرلگاتے ہیں، گھنٹوں قطار میں کھڑے رہتے ہیں

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

اتر پر دیش کے ضلع فیر وزآباد میں پر اسرار بخار سے بچوں کی اموات کا سلسلہ نہیں رہا ہے ، حالانکہ اس بخار کو انتظامیہ نے ’ڈینگو ‘اور ’وائر ل فیور‘ قرار دیا ہے۔ اموات سے والدین خوفزدہ ہیں۔ اپنے بچوں کو بچانے کیلئے در در کی ٹھوکریں کھار ہے ہیں  ۔   دن کا چین اور رات کی نیند حرام کر رہےہیں۔  جن کے بچے بیمار نہیں ہیں ، وہ بھی فکر مند ہیں ۔ انہیں خوف ہے کہ ان کے بچے بھی بخار کی زد میں آسکتےہیں۔    مقامی افراد کے مطابق ایک طرف جہاں اپنے بچوں  کے علاج کیلئے مائیں رات جاگ کر گزار رہی ہیں ، رات بھر اپنے  بیمار بچوں کی دیکھ بھال کر رہی ہیں،  وہیں دوسری جانب بچوں کے باپ رات کے ۳؍ بجے گھر سے نکل  ر ہے ہیں اور نمبر لگانے کیلئے ڈاکٹر کے کلینک یا رہائش گاہ پر پہنچ رہے ہیں۔ فیروزآبادشہرمیں بچوں کے ماہرین کے کلینک یا رہائش گاہوں پر قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔ ہر طرف مریضوں کا ہجوم ہے۔ بچے کو لے کر  آنے والے والدین کو زمین ہی پر بیٹھنا  پڑتا ہے  ، ساتھ  ہی ان کے اس بچے کو بھی زمین  ہی پر   چادر بچھا کر لٹادیا جاتا ہے   جو بچہ بخار میں مبتلا ہوتا ہے۔ضلع اسپتال اور سو بستروں کےاسپتال میں اعداد وشمار کے اعتبار سے بخار اور ڈینگو میں مبتلا مریضوں کی تعداد کم ہوئی ہے لیکن پرائیویٹ اسپتالوں  اور کلینک کے باہر کی بھیڑ سےایک الگ  ہی تصویر سامنے آرہی ہے۔ مجموعی طور پر اب تک ڈینگو اور بخار کی وباء  رُکی نہیں ہے۔ فیروزآباد کلب چوراہے پر   بچوں کےخصوصی  ڈاکٹر کو دکھانے کیلئے والدین صبح۵؍ بجے سے لائن میں کھڑے نظر آتے ہیں جبکہ ڈاکٹر کے بیٹھنے کا وقت تقریباً ۱۱؍بجے کا ہے۔ ڈسٹرکٹ اسپتال  کے سامنے بچوں کے امراض کے ماہر ڈاکٹروں کے  ہاں  رات گئے تک طویل قطاریں نظر آتی ہیں۔  اسی طرح گاندھی پارک چوراہے کے قریب بچوں کے ماہرین کے کلینک پر بھی ان دنوں بہت زیادہ  رہتی ہے۔ مریض ان کے ماہرین امراض اطفال کے پاس   شہر ہی  سے نہیں بلکہ ضلع بھر سے آتے ہیں۔ جبکہ شہر کے مشہور ماہر امراض اطفال جو  میڈیکل کالج کے واحد ماہر امراض اطفال ہیں، اپنی ڈیوٹی مکمل کرنے کے بعد  صبح ۴؍ سے ۸؍ اور شام ۷؍ سے ۱۱؍ تک مرکزی چوک کے قریب واقع اپنے گھر میں مریضوں کو دیکھ رہے ہیں۔ اس کے ساتھ وہ کئی نرسنگ ہومز میں مریضوں کو دیکھنے بھی جارہے ہیں۔ جہاں ایک طرف والدین پراسرار بخار کے پھیلنے کی وجہ سے پریشان ہیں، وہیں کچھ ڈاکٹر تیمارداروں کو طویل ادویات کے پرچے بھی دے رہے ہیں۔ بخار کے مریضوں کو ۵؍ سے ۶؍ اقسام کی ادویات تجویز کی جا رہی ہیں۔ دوافروشوں کے ذرائع کاکہنا ہے کہ کچھ دوائیں لکھنے پر  ڈاکٹروں کو دوا ساز کمپنیاں ۵۰؍ سے ۶۰؍ فیصد تک کمیشن بھی ہے۔شہر کے کچھ معروف ڈاکٹروں نے ڈینگو اور وائرل کے درمیان اپنی فیس میں بھی اضافہ کیا ہے۔ اب تک جو ڈاکٹر دو سو روپے لیتے تھے، ان ڈاکٹروں نے اب فیس بڑھا کر ۴؍ سو روپے کر دی ہے ۔ اس طرح خاندان کے افراد کی جیبوں پر اضافی  بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔  دوسری جانب ڈسٹرکٹ  اسپتال میں مریضوں کا بڑا ہجوم ہے۔ خون کے ٹیسٹ اور ادویات لینے کے ساتھ ساتھ مریضوں کو ڈاکٹر سے ملنے کے لئے بھی۲؍ سے ۳؍ گھنٹے تک لائن میں کھڑے رہنا پڑرہا ہے۔  بھیڑ کی وجہ سے بچوں کو سب سے زیادہ تکلیف ہو رہی تھی۔ اسی طرح ڈسٹرکٹ اسپتال کے ساتھ بچوں کے مریضوں کی او پی ڈی میں مریضوں اور تیمارداروں کو پرچہ بنوانے کیلئے ایک سے ۲؍ گھنٹے تک لائن میں کھڑے رہنا پڑتا ہے۔ اس کے بعد ڈاکٹر کو دکھانے کیلئے قطار میں کھڑے ہو کر  اپنی باری کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ سرکاری ٹراما سینٹر میں بھی مریضوں کو داخل کرنے کیلئے بستر نہیں تھے، چنانچہ ڈاکٹر مریضوں کو کمرہ نمبر ۳۶؍ میں دکھانے کیلئے بھیج رہے تھے۔ کچھ ایسے مریض بھی تھے جو درد اور بخار کی وجہ سے نہ کھڑے ہو سکتے تھے اور نہ چل سکتے تھے۔ ایسے مریضوں کو سرکاری ٹراما سینٹر سے کمرہ نمبر ۳۶؍ پر بھیجا جا رہا تھا جس کی وجہ سے مریض کے ساتھ ان کے رشتہ داروں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK