متحدہ عرب امارات کی وزارتِ معیشت اور سیاحت نے دبئی میں قائم راج گروپ کی ذیلی کمپنی سیل فورس انٹرنیشنل کو ملک کی یونیفائیڈ فیملی بزنس رجسٹری میں رجسٹر ہونے والی پہلی ہندوستانی خاندانی ملکیت کی کمپنی قرار دے دیا ہے۔
EPAPER
Updated: July 29, 2026, 4:02 PM IST | Dubai
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ معیشت اور سیاحت نے دبئی میں قائم راج گروپ کی ذیلی کمپنی سیل فورس انٹرنیشنل کو ملک کی یونیفائیڈ فیملی بزنس رجسٹری میں رجسٹر ہونے والی پہلی ہندوستانی خاندانی ملکیت کی کمپنی قرار دے دیا ہے۔
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ معیشت اور سیاحت نے دبئی میں قائم راج گروپ کی ذیلی کمپنی سیل فورس انٹرنیشنل کو ملک کی یونیفائیڈ فیملی بزنس رجسٹری میں رجسٹر ہونے والی پہلی ہندوستانی خاندانی ملکیت کی کمپنی قرار دے دیا ہے۔ یہ پیش رفت خاندانی کاروباروں کے لیے عالمی مرکز بننے کی جانب متحدہ عرب امارات کی کوششوں میں ایک اہم سنگ میل سمجھی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:اسپین اور فرانس میں شدید گرمی کا نیا انتباہ جاری، جنگلات کی آگ بے قابو
کمپنی نے فیملی بزنسز سے متعلق وفاقی فرمان قانون نمبر ۳۷؍ برائے ۲۰۲۲ء کے تحت اپنی رجسٹریشن مکمل کی۔ رجسٹریشن کا سرٹیفکیٹ وزیرِ معیشت و سیاحت عبداللہ بن طوق المری نے راج گروپ آف کمپنیز کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر مصطفیٰ ساسا کے حوالے کیا۔
عبداللہ بن طوق المری نے کہا کہ یہ رجسٹریشن اس بات کا ثبوت ہے کہ متحدہ عرب امارات کی قانون سازی اور معاشی پالیسیاں خاندانی کاروباروں کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں کامیاب رہی ہیں۔ ان کے مطابق ملک میں ایسا مربوط قانونی اور ادارہ جاتی نظام موجود ہے جو خاندانی کاروباروں کی طویل مدتی پائیداری، بہتر کارپوریٹ گورننس اور نسل در نسل کاروبار کی منتقلی کو یقینی بنانے میں مدد دیتا ہے۔
The Ministry of Economy and Tourism has registered “Sell force International L.L.C”, part of the Raj Group and headquartered in Dubai, as the first Indian family-owned company in the Ministry’s Unified Family Business Register, pic.twitter.com/jo09nayqtW
— وزارة الاقتصاد والسياحة (@Economyae) July 29, 2026
انہوں نے مزید کہا کہ رجسٹری میں پہلی ہندوستانی خاندانی کمپنی کی شمولیت متحدہ عرب امارات کے کاروباری ماحول پر بڑھتے ہوئے عالمی اعتماد اور اس کے لچکدار قانونی نظام کی عکاسی کرتی ہے۔ ان کے مطابق خاندانی کاروبار ملک کی مجموعی قومی پیداوار(جی ڈی پی ) کا تقریباً ۶۰؍ فیصد حصہ ہیں،۸۰؍ فیصد افرادی قوت کو روزگار فراہم کرتے ہیں اور نجی شعبے کی تقریباً ۹۰؍ فیصد کمپنیوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:’’میری خواہش ہے کہ میں ہدایتکار سنجے لیلا بھنسالی کے ساتھ کام کروں ‘‘
راج گروپ کے چیئرمین ڈاکٹر مصطفیٰ ساسا نے اس رجسٹریشن کو گروپ کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ خاندانی کاروباروں کی ترقی اور تسلسل کے لیے متحدہ عرب امارات کے سازگار ماحول کا اعتراف ہے۔ سیل فورس انٹرنیشنل کی بنیاد ساسا ٹریڈنگ کی وراثت پر رکھی گئی، جس کا آغاز ۱۹۵۸ء میں دبئی میں ہوا تھا۔ آج یہ کمپنی تعمیراتی سامان، پائیدار حل، رئیل اسٹیٹ، ہیومن کیپٹل، صنعتی مصنوعات، کاسمیٹکس اور کاروباری خدمات سمیت مختلف شعبوں میں سرگرم ہے، جبکہ اس کا کاروبار مشرقِ وسطیٰ، افریقہ اور ہندوستان تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ رجسٹریشن ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب متحدہ عرب امارات خطے میں خاندانی کاروباروں کے ایک بڑے مرکز کے طور پر اپنی پوزیشن مزید مستحکم کر رہا ہے۔ فوربز مڈل ایسٹ کی ۲۰۲۶ء کی فہرست کے مطابق عرب دنیا کے ۱۰۰؍ طاقتور ترین خاندانی کاروباروں میں سے ۳۱؍ کمپنیاں متحدہ عرب امارات سے تعلق رکھتی ہیں، جن میں سرفہرست ۱۰؍ میں شامل چار کمپنیاں بھی شامل ہیں۔