فرانس اور اسپین میں فائر فائٹرز، مغربی یورپ کو اپنی لپیٹ میں لینے والی شدید گرمی کی ایک نئی لہر سے پہلے آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
EPAPER
Updated: July 29, 2026, 10:08 AM IST | Madrid / Paris
فرانس اور اسپین میں فائر فائٹرز، مغربی یورپ کو اپنی لپیٹ میں لینے والی شدید گرمی کی ایک نئی لہر سے پہلے آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
فرانس اور اسپین میں فائر فائٹرز، مغربی یورپ کو اپنی لپیٹ میں لینے والی شدید گرمی کی ایک نئی لہر سے پہلے آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ان دونوں ممالک میں لگنے والی آگ نے وسیع جنگلاتی علاقوں کو جلا کر راکھ کر دیا ہے، گھروں کو تباہ کیا ہے اور لاکھوں مقامی لوگوں اور سیاحوں کو وہاں سے نکلنے پر مجبور کر دیا ہے۔اسپین اور فرانس میں ایک بار پھر شدیدگرمی کے الرٹ جاری کیے گئے ہیں اور اس دوران بعض علاقوں میں درجۂ حرارت۴۰؍ ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کرنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔اسپین کے محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ شدید موسمی حالات کم از کم اتوار تک برقرار رہ سکتے ہیں۔ادارے نے آگ لگنے کے شدید خطرات سے خبردار کیا ہے جبکہ فائر فائٹرز ملک کی تاریخ کی بعض بدترین آگ سے نپٹنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔فرانس کے جنوب مغربی علاقے ہیٹ ویو کے باعث ’یلو الرٹ‘ پر ہیں جو بدھ کے روز اپنے عروج پر پہنچنے کا خدشہ ہے۔ادھر بورڈو کے میئر نے کہا ہے کہ وہ ہر صورتِ حال سے نپٹنے کی ممکنہ تیاری کر رہے ہیں کیونکہ فرانس میں لگی جنگلات میں آگ اب وہاں کے جنوب مغربی ایک شہر سے ۱۵؍ کلومیٹر کے فاصلے پر پہنچ چکی ہے۔میڈرڈ کے مغرب میں آگ بے قابو ہو کر پھیلنے کے باعث فرانس میں تقریباً ۲؍ لاکھ ۲۰؍ ہزار افراد اورا سپین میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔صدر ایمانوئل میکروں نے فرانس کے آگ سے متاثرہ علاقے کے دورے کے دوران کہا کہ ملک کوانتہائی خطرناک جنگلات میں لگی آگ کا سامنا ہے جو ان کے مطابق دوسری عالمی جنگ کے بعد سب سے مشکل ہے۔ اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز کا کہناہے کہ ملک کو آگ لگنے کے انفرادی واقعات کا نہیں ماحولیاتی ہنگامی حالت کا سامنا ہے۔واضح ہوکہ فرانس کے جنوب مغربی جنگلات میں یہ آگ ہیٹ ویو کے دوران لگی تھی۔