Inquilab Logo Happiest Places to Work

کنگنا رناوت کا جین زی پر متنازع حملہ الٹا پڑ گیا، انفلوئنسرز نے اعدادوشمار سے جواب دیا

Updated: July 29, 2026, 2:02 PM IST | Mumbai

بی جے پی رکن پارلیمان اور اداکارہ کنگنا رناوت کی جانب سے جین زی سے متعلق دیے گئے متنازع بیانات نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ متعدد جین زی انفلوئنسرز نے سرکاری اعدادوشمار اور نوجوانوں کی تعلیمی و پیشہ ورانہ کامیابیوں کا حوالہ دیتے ہوئے اداکارہ کے مؤقف کو چیلنج کیا، جبکہ دوسری جانب بطور رکن پارلیمان ان کی کارکردگی بھی تنقید کا نشانہ بن گئی۔ اس دوران کنگنا کے پرانے انٹرویوز اور ویڈیوز بھی دوبارہ وائرل ہو گئے ہیں، جن پر نئی بحث جاری ہے۔

Kangana Ranaut. Photo: INN
کنگنا رناوت۔ تصویر: آئی این این

بالی ووڈ اداکارہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی رکن پارلیمان کنگنا رناوت ایک بار پھر اپنے بیانات کی وجہ سے ملک گیر بحث کے مرکز میں آ گئی ہیں۔ حالیہ طلبہ احتجاج اور جین زی کے حوالے سے ان کی انسٹاگرام اسٹوریز نے نہ صرف سیاسی حلقوں بلکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی شدید ردعمل کو جنم دیا ہے۔ گزشتہ چند دنوں کے دوران انسٹاگرام، ایکس اور یوٹیوب پر ہزاروں ریلز، شارٹس، تبصرے اور تجزیاتی ویڈیوز سامنے آئی ہیں، جن میں کنگنا کے مؤقف کو مختلف زاویوں سے پرکھا جا رہا ہے۔

تنازع کیا ہے؟

تنازع اس وقت شروع ہوا جب کنگنا رناوت نے اپنی انسٹاگرام اسٹوریز میں جین زی نسل کے بارے میں سخت ریمارکس دیتے ہوئے بعض نوجوان خواتین کو Generation Gutter قرار دیا۔ انہوں نے لکھا کہ They are not good at studies اور احتجاج سے متعلق وائرل ریلز کو puke-inducing قرار دیتے ہوئے کہا کہ والدین کو اپنے بچوں کے طرزِ عمل پر توجہ دینی چاہیے۔ ان بیانات کے اسکرین شاٹس اور رپورٹس منظر عام پر آنے کے بعد چند ہی گھنٹوں میں یہ معاملہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کرنے لگا اور مختلف پلیٹ فارمز پر لاکھوں صارفین نے اس پر اپنی رائے کا اظہار کیا۔

 
 
 
 
 
View this post on Instagram
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Latestinindia (@latestinindia_)

جین زی انفلوئنسرز کا محاذ

کنگنا کے ان بیانات کے جواب میں سب سے نمایاں ردعمل جین زی انفلوئنسرز کی جانب سے سامنے آیا۔ متعدد نوجوان کانٹینٹ کریئیٹرز نے مختصر ویڈیوز، یوٹیوب شارٹس اور انسٹاگرام ریلز کے ذریعے اداکارہ کے عمومی تبصروں کو اعدادوشمار اور عوامی ریکارڈ کی بنیاد پر چیلنج کرنا شروع کیا۔ ان ویڈیوز میں دلیل دی جا رہی ہے کہ موجودہ نوجوان نسل کو صرف چند احتجاجی مناظر یا وائرل ویڈیوز کی بنیاد پر نہیں پرکھا جا سکتا۔ متعدد انفلوئنسرز نے آل انڈیا سروے آن ہائر ایجوکیشن (AISHE)، قومی تعلیمی اعدادوشمار، خواتین کے اعلیٰ تعلیم میں بڑھتے ہوئے داخلوں، نوجوان اسٹارٹ اپ بانیوں، بین الاقوامی کھیلوں میں ہندوستانی نوجوانوں کی کامیابیوں، ٹیکنالوجی کے شعبے میں جین زی کی بڑھتی ہوئی موجودگی اور مختلف قومی مسابقتی امتحانات میں نوجوانوں کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آج کی نوجوان نسل ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ ان ویڈیوز میں بار بار یہ مؤقف دہرایا جا رہا ہے کہ چند افراد کے رویے کو پوری نسل کی شناخت نہیں بنایا جا سکتا۔

کئی ویڈیوز میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر جین زی صرف سوشل میڈیا اور تفریح تک محدود ہوتی تو ہندوستان میں اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم، مصنوعی ذہانت، ڈجیٹل معیشت اور عالمی سطح پر نوجوان ہندوستانیوں کی کامیابیاں اس رفتار سے سامنے نہ آتیں۔ اگرچہ یہ ویڈیوز مختلف تخلیق کاروں کی اپنی تشریحات اور تجزیوں پر مبنی ہیں، تاہم ان میں سرکاری رپورٹس اور عوامی طور پر دستیاب اعدادوشمار کا حوالہ بھی دیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے یہ مواد سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر شیئر کیا جا رہا ہے۔ ادھر انسٹاگرام اور یوٹیوب پر ایک اور رجحان بھی تیزی سے مقبول ہوا، جس میں صارفین نے سوال اٹھانا شروع کیا کہ بطور رکن پارلیمان کنگنا رناوت نے اب تک اپنے حلقۂ انتخاب منڈی اور پارلیمنٹ میں کیا نمایاں کام کیے ہیں۔What has Kangana done as MP کے عنوان سے متعدد ریلز اور شارٹس سامنے آئے، جن میں ان کی پارلیمانی سرگرمیوں، عوامی وعدوں، حلقے کے دوروں اور سیاسی ذمہ داریوں پر مختلف آراء پیش کی جا رہی ہیں۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ ان ویڈیوز میں شامل بیشتر تبصرے متعلقہ تخلیق کاروں اور صارفین کی رائے ہیں۔

سی جے پی کا ردعمل

کنگنا رناوت کے بیان پر صرف سوشل میڈیا صارفین ہی نہیں بلکہ سیاسی شخصیات نے بھی ردعمل دیا۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے ترجمان سوربھ داس نے کنگنا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’کنگنا رناوت کو بی جے پی بھی سنجیدگی سے نہیں لیتی۔‘‘ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ جس نوجوان نسل کو کنگنا نشانہ بنا رہی ہیں، وہ ملک کے لیے ان سے زیادہ مثبت کردار ادا کر رہی ہے۔ سوربھ داس کے اس بیان کے بعد دونوں کے درمیان لفظی جنگ نے سوشل میڈیا پر مزید توجہ حاصل کر لی۔

کنگنا نے اس تنقید کا جواب بھی انسٹاگرام اسٹوری کے ذریعے دیا۔ انہوں نے سوربھ داس کو totally useless قرار دیتے ہوئے لکھا کہ ’’اس عمر میں میرےپاس دو قومی ایوارڈز تھے۔‘‘ اور اپنی فلمی و عوامی زندگی کی کامیابیوں کا حوالہ دیتے ہوئے ناقدین کو جواب دینے کی کوشش کی۔ ان کے اس جواب کے بعد تنازع مزید شدت اختیار کر گیا اور سوشل میڈیا پر دونوں فریقوں کے حامی اور مخالف سرگرم ہو گئے۔

یہ بھی پڑھئے: سی جے پی: مغربی بنگال، مہاراشٹر کا بھی مظاہرین کے خلاف کارروائیاں روکنے کا اعلان

اسی دوران متعدد صارفین نے کنگنا رناوت کے پرانے انٹرویوز، ٹی وی پروگراموں اور ویڈیو کلپس دوبارہ شیئر کرنا شروع کر دیے۔ ان کلپس میں وہ مختلف اوقات میں خواتین کے ذاتی انتخاب، آزادی، خودمختاری اور سماجی رویوں کے بارے میں مختلف خیالات کا اظہار کرتی نظر آتی ہیں۔ ناقدین ان ویڈیوز کو موجودہ بیانات کے ساتھ جوڑ کر تضاد کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ اس تنازع میں فلمی دنیا کی بعض شخصیات بھی شامل ہو گئیں۔ اداکارہ راکھی ساونت نے ایک ویڈیو پیغام میں کنگنا رناوت پر شدید تنقید کرتے ہوئے انہیںgutter mouthقرار دیا اور کہا کہ نوجوان طلبہ کے مسائل کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے ان کی توہین کرنا مناسب طرزِ عمل نہیں۔ راکھی کے اس بیان نے بھی سوشل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل کی اور ان کی ویڈیو لاکھوں مرتبہ دیکھی گئی۔

معروف مصنفہ شوبھا ڈے نے بھی اپنے تبصرے میں کنگنا رناوت سمیت بعض فلمی شخصیات کے حالیہ بیانات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ نئی نسل کو سمجھنے کے لیے انہیں محض سوشل میڈیا کے چند مناظر کی بنیاد پر نہیں پرکھا جا سکتا۔ اگرچہ انہوں نے اپنے مضمون میں وسیع تر سماجی تناظر پر گفتگو کی، تاہم ان کے تبصرے کو بھی اس جاری تنازع سے جوڑ کر بڑے پیمانے پر شیئر کیا گیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: کل ملک کی تین ریاستوں میں تین اسمبلی حلقوں کیلئے ضمنی انتخابات، تیاریاں مکمل

ڈجیٹل پلیٹ فارمز پر اس وقت سب سے زیادہ مقبول مواد ری ایکشن ویڈیوز، فیکٹ چیک شارٹس، سیاسی طنز، پرانے انٹرویوز کے مختصر کلپس اور جین زی نوجوانوں کی کامیابیوں پر مبنی ویڈیوز ہیں۔ متعدد کانٹینٹ کریئیٹرز نے کنگنا کے بیانات کو بنیاد بنا کر طویل پوڈکاسٹس، لائیو مباحثے اور تجزیاتی پروگرام بھی نشر کیے ہیں، جس سے یہ معاملہ صرف فلمی یا سیاسی خبر نہیں رہا بلکہ ایک وسیع سماجی بحث میں تبدیل ہو چکا ہے۔ فی الحال یہ تنازع تھمنے کے آثار دکھائی نہیں دیتا۔ ایک طرف کنگنا رناوت اپنے مؤقف پر قائم نظر آتی ہیں، جبکہ دوسری جانب نوجوان انفلوئنسرز، طلبہ، سیاسی کارکن، فلمی شخصیات اور عام صارفین مسلسل ان کے بیانات پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK