منوری، ملاڈ مغرب میں مجوزہ ۴۰۰ ؍ ایم ایل ڈی ڈی سیلینیشن پروجیکٹ کے خلاف پیر کو میرابھائندر کے کولی، ایسٹ انڈین اور مقامی ماہی گیر برادری نے زبردست احتجاج کیا۔میرا بھائندر میونسپل کارپوریشن کے کارپوریٹر تارین وینچر مینڈونسا کی قیادت میں سیکڑوں ماہی گیروں نے صبح ۹ ؍ بجے ماروے بیچ پر جمع ہوکر وہاں سے باندرہ مشرق میں واقع کلکٹر آفس تک احتجاجی مارچ کیا۔
باندرہ میں کلکٹرآفس کے قریب ماہی گیر مختلف نعروں والے پلے کارڈز لئے احتجاج کررہے ہیں۔ تصویر: آشیش راجے
منوری، ملاڈ مغرب میں مجوزہ ۴۰۰ ؍ ایم ایل ڈی ڈی سیلینیشن پروجیکٹ کے خلاف پیر کو میرابھائندر کے کولی، ایسٹ انڈین اور مقامی ماہی گیر برادری نے زبردست احتجاج کیا۔میرا بھائندر میونسپل کارپوریشن کے کارپوریٹر تارین وینچر مینڈونسا کی قیادت میں سیکڑوں ماہی گیروں نے صبح ۹ ؍ بجے ماروے بیچ پر جمع ہوکر وہاں سے باندرہ مشرق میں واقع کلکٹر آفس تک احتجاجی مارچ کیا۔ اس موقع پر مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈس اٹھا رکھے تھے جن پر ’ہمارا سمندر، ہماری ماہی گیری، ہمارا مستقبل‘جیسے نعرے درج تھے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ پروجیکٹ اگر لگایا گیا تو ماحولیات کو شدید نقصان پہنچے گا اور ہزاروں ماہی گیر خاندانوں کی روزی روٹی چھن جائے گی۔
یہ بھی پڑھئے:مہاراشٹر: عدالتی ملازمین کابے مدت ہڑتال کا انتباہ
تارین مینڈونسا نے کہا کہ’’ ماہی گیری صرف ایک کاروبار نہیں بلکہ ہمارے خاندانوں کی زندگی کا سہارا ہے۔ سمندر ہماری ثقافت کا حصہ ہے۔ یہ صرف ایک گاؤں کا نہیں بلکہ پوری ساحلی پٹی کا مسئلہ ہے۔ ہمارا راستہ پرامن ہے لیکن ہماری آواز مضبوط ہے۔‘‘انہوں نے اپنے دادا آنجہانی گلبرٹ جان مینڈونسا کی وراثت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سماج کیلئےکھڑا ہونا ان کی ذمہ داری ہے۔ مظاہرین نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ اس پروجیکٹ سے متعلق تمام معلومات عوام کے سامنے رکھی جائے اور ماہی گیر برادری کو اعتماد میں لئے بغیر کوئی قدم نہ اٹھایا جائے۔اتن، گورائی، منوری، ڈونگری، تاروڈی، پالی اور چوک سمیت کئی علاقوں سے ماہی گیر اس احتجاج میں شامل ہوئے۔ باندرہ میں کلکٹر آفس پر حکام کو مطالبات کا میمورنڈم پیش کیا گیا۔احتجاج پرامن طور پر اختتام پذیر ہوا۔