کملیش نامی ایک شخص کوبنگلہ دیشی شہری ہونے کاالزام لگا کر باضابطہ گرفتاری کے بغیر حراست میں رکھا گیا تھا، عدالت نے اسے غیر قانونی قرار دیا، تھانہ انچارج اور تفتیشی افسر ’مجموعی غفلت‘ کے الزام میں معطل۔
EPAPER
Updated: September 23, 2026, 11:59 AM IST | Inquilab News Network | Luckhnow
کملیش نامی ایک شخص کوبنگلہ دیشی شہری ہونے کاالزام لگا کر باضابطہ گرفتاری کے بغیر حراست میں رکھا گیا تھا، عدالت نے اسے غیر قانونی قرار دیا، تھانہ انچارج اور تفتیشی افسر ’مجموعی غفلت‘ کے الزام میں معطل۔
الہ آباد ہائی کورٹ نے ایک شخص کو پانچ دن تک غیرقانونی پولیس حراست میں رکھنے کے معاملے میں اتر پردیش حکومت کو ۵۰؍ ہزار روپے معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ درخواست گزار کملیش کمار کو ۱۵؍ اگست سے ۱۹؍ اگست ۲۰۲۶ء تک پولیس حراست میں رکھا گیا،اس کے بعد اسے مجسٹریٹ کے سامنے ۱۹؍ اگست کو پیش کیا گیا۔ جسٹس اتل شری دھرن اور جسٹس اچل سچدیو کی بنچ نے یہ حکم ہیبیس کارپس کی عرضی پر دیا۔ خیال رہے کہ گزشتہ کچھ دنوں سے الہ آباد ہائی کورٹ کی جانب سے یوگی حکومت کو مسلسل جھٹکے مل رہے ہیں۔ یکے بعد دیگرے عدالت کی جانب سے یوپی حکومت کی کئی بار سرزنش کی جاچکی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:تبلیغی مرکز کے کیس میں مزید۲؍ ایف آئی آر منسوخ
درخواست گزار کی جانب سے ایڈوکیٹ ستیم شریواستو پیش ہوئے اور الزام لگایا کہ ۱۵؍ اگست کو الہ آبادمیں واقع میڈیکل اسٹور سے دو مسلح پولیس اہلکار کملیش کو اٹھا کر لے گئے۔ پولیس نے بعد میں ۱۹؍ اگست کو گرفتاری دکھا کر جیل بھیج دیا۔ معاملہ سامنے آنے کے بعد کملیش نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔کملیش کے پڑوسی کی جانب سے الزام لگایا گیا تھا کہ وہ بنگلہ دیشی شہری ہے۔ اس کے بعد اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس (انٹیلی جنس)، کمشنریٹ الہ آباد نے انکوائری کی۔ ۲۷؍ جون ۲۰۲۶ء کی انکوائری رپورٹ میں کملیش کو مبینہ طور پر بنگلہ دیش کا رہائشی اور مغربی بنگال کا عارضی پتہ رکھنے والا بتایا گیا۔اس کے بعد اس کے خلاف بی این ایس کی مختلف دفعات،امیگریشن اینڈ فارنرز ایکٹ ۲۰۲۵ء اورپاسپورٹ ایکٹ ۱۹۶۷ءکی متعلقہ دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی۔تاہم ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ وہ اس مرحلے پر کملیش کی شہریت سے متعلق الزامات کے میرٹ کا جائزہ نہیں لے رہی ہے بلکہ صرف ۱۵؍ اگست سے اس کی مبینہ غیرقانونی حراست کے سوال تک اپنی سماعت محدود رکھ رہی ہے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ پولیس کی انکوائری میں متعلقہ تھانہ انچارج اور تفتیشی افسر کملیش کو ۱۵؍ اگست کو حراست میں لینے کی تسلی بخش وضاحت نہیں دے سکے۔ اس کے بعد دونوں کو ’مجموعی غفلت‘ کے الزام میں معطل کردیا گیا۔ایس ایچ او نے اپنے حلف نامے میں کہا کہ انہوں نے دو کانسٹیبلوں کو کملیش سے تھانے میں حاضر ہونے کے لئے کہنے کی ہدایت دی تھی، لیکن دونوں نے مبینہ طور پر پیغام کو غلط سمجھا اور کملیش کو اپنے ساتھ لے آئے۔ایس ایچ او نے یہ بھی بتایا کہ ۱۵؍ اگست کو علاقے میں فائرنگ کی اطلاع ملنے کے بعد وہ زخمیوں کی عیادت کے لئے ایس آر این اسپتال گئے اور ۶؍ اگست کی ابتدائی ساعتوں تک وہاں موجود رہے۔ دریں اثنا ،کملیش کے خلاف ایف آئی آر ۱۶؍ اگست کو درج کی گئی۔
ہائی کورٹ نے نوٹ کیا کہ پولیس ریکارڈ میں کملیش کو ۱۹؍ اگست کو گرفتار دکھایا گیا، جبکہ پولیس کی اپنی انکوائری سے یہ بات سامنے آئی کہ وہ ۱۵؍ اگست ہی سے پولیس کی تحویل میں تھا۔ بنچ نے کہا کہ پولیس کی جانب سے ۲۴؍ گھنٹے سے زیادہ غیرقانونی حراست کا واضح اعتراف موجود ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ کملیش کو ۱۵؍ اگست سے ۱۹؍ اگست کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کئے جانے اور عدالتی تحویل میں بھیجے جانے تک غیرقانونی حراست میں رکھا گیا۔ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو کملیش کو ۵۰؍ ہزار روپے معاوضہ فوری طور پر ادا کرنے کی ہدایت دی۔
عدالت نے کہا کہ محکمہ جاتی انکوائری کے بعد جن افراد کو ذمہ دار پایا جائے، ان سے یہ رقم وصول کی جائے اور وصولی کا عمل تین ماہ کے اندر مکمل کیا جائے۔ عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ اگر کملیش کسی دوسرے مقدمے میں مطلوب نہیں ہے تو اسے فوری طور پر رہا کیا جائے۔ ساتھ ہی واضح کیا کہ زیرِ التوا فوجداری مقدمے میں ضرورت پڑنے پر ریاست کو اسے قانون کے مطابق دوبارہ گرفتار کرنے سے روکا نہیں گیا ہے۔عدالت نے امید ظاہر کی کہ پولیس مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے اصلاحی اقدامات کرے گی اور تفتیش کی ضروریات کے ساتھ ساتھ ملزمین کے آئینی حقوق کا بھی مکمل خیال رکھے گی۔