Inquilab Logo Happiest Places to Work

گڈ چرولی میں پانی کی قلت کے سبب ۵۰۰؍ چمگادڑ تڑپ تڑپ کر مر گئے

Updated: May 27, 2026, 12:06 AM IST | Gadchiroli

جس محکمہ جنگلات پر ان جانداروں کی حفاظت کی ذمہ داری ہے، اسی کے دفتر کے احاطے میں ان پرندوں نے پانی نہ ہونےکے سبب دم توڑا

These birds had been nesting in these same trees for years.
یہ پرندے برسوں سے انہی پیڑوں پر بسیرا کر رہے تھے

اس وقت مہاراشٹر کے ہر ضلع میں شدید گرمی ہے۔ خاص کر ودربھ کے بیشتر اضلاع میں ۴۶؍ ڈگری درجۂ حرارت ہے۔ انسان تو انسان حیوانات اور چرند پرند بھی اس گرمی سے پریشان ہیں۔ گڈچرولی کے سرونچہ علاقے میں اسی گرمی کے سبب  تقریباً ۵۰۰؍ چمگادڑ پانی کی ایک ایک بوند کو ترستے ہوئے دم توڑ گئے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ واقعہ محکمہ جنگلات کے دفتر کے کمپائونڈ میں پیش آیا ہے۔ 
  اطلاع کے مطابق  چمگادڑ کئی سال سے محکمہ جنگلات کے احاطے میں چار سے پانچ بڑے بڑے درختوں پر رہ رہےتھے لیکن ان دنوں اس علاقے میں کہیں بھی ان جانداروں کیلئے پینے کے پانی کی کوئی سہولت نہیں ہے۔ گزشتہ دنوں شدید گرمی اور پیاس کی شدت کے سبب یہ چمگادڑ درختوں پر ہی بے دم ہو گئے اس کے بعد درخت کے پتوں کی طرح یکے بعد دیگرے زمین پر گرنے لگے۔
  دیکھتے ہی دیکھتے احاطے میں مردہ چمگادڑوں کا ڈھیر لگ گیا۔ ایک روز بعد واقعہ کی اطلاع محکمہ جنگلات کو دی گئی۔ انہوں نے موقع پر پہنچ کر معائنہ کیا  اس کے بعد واضح کیا کہ چمگادڑوں کی موت بڑھتے ہوئے درجۂ حرارت اور پانی کے فقدان کے سبب ہوئی ہے۔ اس کے بعد تمام مردہ چمگادڑوں کو اکٹھا کر کے علاقے کے ایک گڑھے میں دفن کر دیا گیا۔
 محکمہ جنگلات کی غفلت بے نقاب
  اس واقعے سے محکمۂ جنگلات کی لاپروائی آشکار ہو گئی ہے۔ یاد رہے کہ محکمۂ جنگلات کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے حلقے میں جانوروں اور پرندوں کی حفاظت کرے اسی محکمے کے دفتر کے احاطے میںجانوروں اور پرندوں کیلئے پانی کی کوئی سہولت نہیں ہے۔ یہی نہیں، چلچلاتی گرمی کے باوجود جنگل میں ضروری مصنوعی آبی ذخائر نہیں بنائے گئے۔ محکمہ جنگلات کی اس ناقابل معافی غفلت کی وجہ سے جنگل میں موجود چرند پرندپانی کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں اور وہ اسی طرح مر رہے ہیں۔ کیا اب انتظامیہ جاگ جائے گی اور فوری طور پر جنگل میں پانی کی سہولت فراہم کرے گی؟ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK