ملک بھر میں آن لائن سرمایہ کاری، شیئر مارکیٹ اور ڈیجیٹل اسکیموں کا جھانسہ دے کر شہریوں کو کروڑوں روپے کا چونا لگانے والے ایک منظم سائبر گروہ کے خلاف بھیونڈی شہر پولیس نے بڑی کارروائی کی ہے۔
سائبرفراڈ۔ تصویر:آئی این این
ملک بھر میں آن لائن سرمایہ کاری، شیئر مارکیٹ اور ڈیجیٹل اسکیموں کا جھانسہ دے کر شہریوں کو کروڑوں روپے کا چونا لگانے والے ایک منظم سائبر گروہ کے خلاف بھیونڈی شہر پولیس نے بڑی کارروائی کی ہے۔ پولیس نے اس سلسلے میں مختلف سنگین دفعات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی دفعہ ۶۶؍ڈی کے تحت مقدمہ درج کر کے پورے نیٹ ورک کی کڑیاں ملانا شروع کر دی ہیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق یہ سنسنی خیز انکشاف اُس وقت سامنے آیا جب انڈین سائبر کرائم کوآرڈینیشن سینٹر اور مہاراشٹر سائبر ڈپارٹمنٹ کی جانب سے مشکوک مالیاتی معاملات کی تفتیش کی جا رہی تھی۔ اس کارروائی میں رقم کی منتقلی (منی ٹریل) کے سراغ لگاتے ہوئے معلوم ہوا کہ بھیونڈی کے پربھو آلی منڈئی علاقے میں واقع مکان نمبر ۱۹۳؍ کے پتے کو استعمال کرتے ہوئے بینک آف مہاراشٹر کی ایک ہی برانچ سے متعدد جعلی کھاتے کھولے گئے تھے۔ ان تمام کھاتوں کا بنیادی مقصد ملک کے کونے کونے سے سائبر ٹھگی کے ذریعے حاصل کی گئی رقم کو منتقل اور ٹھکانے لگانا تھا۔ تحقیقات کے دوران جب پربھو آلی منڈئی کے اس مخصوص پتے کا ریکارڈ کھنگالا گیا تو وہاں سے منسلک کم از کم ۸؍ ایسے فعال بینک کھاتے سامنے آئے جن میں مختلف متاثرین کی رقم جمع ہو رہی تھی۔ ان کھاتوں میں ۲۰؍ زار، ۲؍ لاکھ ، ۳۹؍ ہزار ۵۰۰؍، ۱۵؍ہزار، ۹۵۰۰؍۳۸۵۰؍ ،۲؍ ہزار اور ۴۸؍ ہزار روپے جیسے متعدد مشکوک لین دین کا سراغ ملا ہے۔
نیشنل سائبر کرائم رپورٹنگ پورٹل (این سی آر پی ) کے ڈیٹا کی جانچ سے یہ تشویشناک حقیقت بھی سامنے آئی ہے کہ یکم جنوری ۲۰۲۵ء سے لے کر اب تک ملک کی مختلف ریاستوں سے ان مخصوص کھاتوں کے خلاف درجنوں شکایتیں درج کروائی جا چکی تھیں۔ اگرچہ فی الوقت اس دھوکہ دہی کے مرکزی کرداروں اور نامعلوم کھاتہ داروں کی حتمی شناخت ہونا باقی ہے، تاہم پولس نے ان تمام نامعلوم کھاتہ داروں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف مختلف دفعات کے تحت معاملہ درج کر لیا ہے۔ اس اہم کیس کی تفتیش کی ذمہ داری پولس انسپکٹر سندیپ سوریہ کانت راسکر کو سونپی گئی ہے۔پولیس نے شہریوں سے اس طرح چلائی جانے والی فرضی اسکیموں کے لالچ میں نہ آنے کی اپیل کی ہے۔