خورد ونوش کی اشیاء کی قیمتوںکےبڑھنے سےگھریلواخراجات میں ہزاروں روپے کا اضافہ، عوام کوپریشانی،مہنگائی میں مزید اضافے کا امکان ۔
تیل کی قیمت۔ تصویر:آئی این این
ایندھن کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے سے نقل و حمل کے بڑھتے اخراجات، خام مال کی قیمتوں میں اضافہ اور بازار کی مانگ کی وجہ سے، گروسری کی اشیاء کی قیمتوں میں پچھلے ۶؍ مہینوں میں ۳۰؍فیصد تک اضافہ ہوا ہے ۔ دالوں، اناج، چینی، مونگ پھلی اور خوردنی تیل کی قیمتوں میں اضافے سے ہر خاندان کے ماہانہ اخراجات میں ہزاروں روپے کا اضافہ ہواہے۔ اس سے عام آدمی کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔بڑھتے اخراجات سے زندگی گزارنا مشکل ہو تاجارہا ہے۔
نوی ممبئی مارکیٹ کے تھوک اور خردہ فروشوں کے مطابق’’ تُور، اُرد، چنے اور مونگ کی دالوں کے علاوہ مٹر کی قیمتوں میں ۵؍ سے ۳۰؍ روپے فی کلو تک کا اضافہ ہوا ہے ۔ اس کے ساتھ مونگ پھلی، گیہوں، چاول ، جوار اور روزمرہ کی اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔چینی کی قیمت میں ۸؍روپے فی کلو کے اضافے سے چائے، مٹھائی اور دیگر اشیائے خوردونوش کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں۔ خوردنی تیل کی مارکیٹ میں بھی تیزی کا سلسلہ جاری ہے۔ سویابین آئل، مونگ پھلی اور سورج مکھی کے تیل کی قیمتوں میں ۱۵؍ سے ۲۰؍ روپے لیٹر کا اضافہ ہوا ہے ۔ اس سے گھروں میںتیار کئے جانے والے پکوان کا خرچ بڑھ گیا ہے ۔ ناریل کی قیمت میں بھی ۱۰؍سے ۲۵؍روپے کا اضافہ ہونے سے لوگوں کو مذہبی تقریبات، تہواروں اور روزمرہ استعمال کیلئے زیادہ قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے۔ تاجروں کے مطابق ایندھن کی قیمت بڑھنے سے مال برداری کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے ۔
اس کے علاوہ کچھ علاقوں میں کم بارش، پیداوار میں کمی، ذخیرہ اندوزی کے امکانات اور مانگ میں اضافہ کی وجہ سے بھی خوردونوش کی متعدد اشیاء کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں ۔ ہول سیل مارکیٹ میں بڑھی ہوئی قیمتیں براہ راست ریٹیل مارکیٹ تک پہنچ رہی ہیں جس سے صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔ مہنگائی کی وجہ سے گھریلو خواتین کو اپنے گھریلو اخراجات کی منصوبہ بندی کرنے میں دشواری کا سامنا ہے ۔ جس کی وجہ سے عام لوگوں کو پریشانی ہو رہی ہے ۔ عوام اس مہنگائی کے خلاف غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں ۔
تاجروں کے بقول ’’متعدد خاندان، جو مہینے بھر کا سامان تھوک بازار سے خریدتے ہیں، قیمتوں کے بڑھنے سے صرف وہی سامان خرید رہے ہیں، جو ضروری ہے ۔ کچھ نے مہنگی دالوں اور کھانے پینے کی اشیاء کے استعمال کو کم کرنا شروع کر دیا ہے اور وہ سستے متبادل کی تلاش میں ہیں ۔ اگر آنے والے ہفتوں میں پیداوار اور رسد مستحکم رہی تو کچھ اشیاء کی قیمتیں کم ہو سکتی ہیں لیکن اگر ایندھن کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ ہوتا ہے یا بارش سے زراعت متاثر ہوتی ہے تو مہنگائی میں مزید اضافے کے امکان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ ‘‘