سعودی حکام کے مطابق مسلسل حملوں کے بعد ریاض کا کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈہ حفاظتی جانچ مکمل ہونے تک بند رہے گا۔
حوثیوںکے حملوں کے بعد سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں سے پروازیں معطل کی جاچکی ہیں۔ تصویر: آئی این این
ریاض(ایجنسی):سعودی عرب نے حوثی جنگجوؤں کے تازہ میزائل اور ڈرون حملوں میں ۱۴؍افراد کی ہلاکت اور۳۰۰؍سے زائد کے زخمی ہونے کے بعد پیر کو اپنے اہم بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پروازوں کی معطلی میں توسیع کر دی۔ اس دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ حوثیوں کے خلاف سعودی فوجی مہم میں امریکہ کی شمولیت پر غور کر رہے ہیں ۔سعودی حکام کے مطابق، مسلسل حملوں کے بعد ریاض کا کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈہ حفاظتی جانچ مکمل ہونے تک بند رہے گا۔ ان حملوں میں سنیچر کو۱۳؍ افراد ہلاک ہوئے تھے، جبکہ اتوار کو ہونے والے ایک اور حملے میں ایک شخص کی جان گئی۔ حوثیوں نے دمام کے کنگ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے اور ایندھن کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا ہے جس سے شہری ہوا بازی اور اہم بنیادی ڈھانچے کی سلامتی کے بارے میں خدشات بڑھ گئے ہیں۔
ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ واشنگٹن حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کی فوجی کارروائی میں شامل ہو سکتا ہے۔ امریکہ کی ممکنہ مداخلت سے متعلق سوال پر انہوں نے کہاکہ ہم ایسا کر سکتے ہیں۔ ہم اس پر غور کریں گے ۔ریاض میں امریکی سفارت خانے نے بار بار ہونے والے حملوں کے پیش نظر امریکی شہریوں کو سعودی عرب کے بڑے ہوائی اڈوں کا استعمال کرتے وقت انتہائی احتیاط برتنے کی ہدایت دی ہے۔سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے ریاض میں ایک توانائی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مملکت اپنے ہوائی اڈوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کا جواب دے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ سعودی لغت میں خوف کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ان حملوں سے سعودی عرب پر دباؤ بڑھ گیا ہے، جو ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے حوثیوں کے خلاف لڑائی اور یمنی حکومتی افواج کی حمایت کرتا رہا ہے۔ حوثیوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے حملے مغربی یمن میں ان کے زیر کنٹرول علاقوں پر سعودی عرب کے حملوں کے جواب میں کئے گئے۔
علاقائی تنازع کے مزید پھیلنے اور توانائی کی سپلائی میں خلل کے خدشات کے باعث پیر کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ برینٹ خام تیل کی قیمت۱۰۵؍ ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی جبکہ امریکی خام تیل۹۲؍ ڈالر فی بیرل سے اوپر تجارت کرتا رہا۔