Updated: July 24, 2026, 9:03 PM IST
| New Delhi
ای کامرس پلیٹ فارم فلپ کارٹ اور اس کے ایک فروخت کنندہ (سیلر) کے خلاف ایک اہم مقدمے میں ضلعی صارف تنازعات ازالہ کمیشن نے سخت فیصلہ سناتے ہوئے دونوں کو صارف کو ۱۱ء۱؍ لاکھ روپے سے زائد کی رقم واپس کرنے کے ساتھ ۷۰؍ ہزار روپے معاوضہ اور مقدمے کے اخراجاتو ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔
فلپ کارٹ۔ تصویر:آئی این این
ای کامرس پلیٹ فارم فلپ کارٹ اور اس کے ایک فروخت کنندہ (سیلر) کے خلاف ایک اہم مقدمے میں ضلعی صارف تنازعات ازالہ کمیشن نے سخت فیصلہ سناتے ہوئے دونوں کو صارف کو ۱۱ء۱؍ لاکھ روپے سے زائد کی رقم واپس کرنے کے ساتھ ۷۰؍ ہزار روپے معاوضہ اور مقدمے کے اخراجاتو ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق ضلع صارف تنازعات ازالہ کمیشن، ممبئی نے اپنے فیصلے میں کہا کہ صارف کی شکایت کو مؤثر حل فراہم کیے بغیر بار بار ’’حل شدہ‘‘ (Resolved) قرار دینا غیر منصفانہ تجارتی عمل اور خدمت میں کوتاہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:اڈانی انرجی سالیوشنز کو آندھرا پردیش میں ۸۵۰۰؍ کروڑ روپے کا ٹرانسمیشن پروجیکٹ ملا
کیا تھا پورا معاملہ؟
ممبئی کے علاقے پوائی کے رہائشی ایک صارف نے ۲۲؍ اپریل ۲۰۲۳ء کو فلپ کارٹ کے ذریعے نو کاسٹ ای ایم آئی اسکیم کے تحت۱۱۱۷۹۳؍ روپے میںایپل آئی فون ۱۴؍پرو ((۱۲۸؍جی بی ) آرڈر کیا تھا۔چارجر اور فون کور الگ سے آرڈر کیے گئے تھے، جو وقت پر موصول ہوگئے، لیکن اگلے روز جب مرکزی پیکیج پہنچا تو اس میں مہنگے آئی فون کی جگہ داڑھی بڑھانے کا تیل (Beard Growth Oil) اور کچھ پیکنگ کا سامان نکلا۔
صارف نے اپریل سے مئی۲۰۲۳ء کے درمیان متعدد مرتبہ فلپ کارٹ کے کسٹمر سپورٹ سے رابطہ کیا اور تمام مطلوبہ دستاویزات بھی فراہم کیں، مگر نہ تو رقم واپس کی گئی اور نہ ہی متبادل فون فراہم کیا گیا۔ اس کے بجائے شکایت کو بار بار ’Resolved‘ قرار دے کر بند کر دیا گیا۔
صارف عدالت نے کیا کہا؟
کمیشن نے اپنے فیصلے میں کہا کہ چونکہ آرڈر آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعے مکمل ادائیگی کے ساتھ کیا گیا تھا، اس لیے فلپ کارٹ کی ذمہ داری تھی کہ صارف کو وہی چیز فراہم کرے جس کا آرڈر دیا گیا تھا اور شکایت کے مؤثر ازالے کا نظام بھی یقینی بنائے۔عدالت نے کہا کہ کوئی بھی ای۔کامرس پلیٹ فارم فروخت مکمل ہونے کے بعد خود کو اس لین دین سے الگ نہیں کر سکتا، خاص طور پر جب صارف فوری طور پر غلط پروڈکٹ کی فراہمی کی اطلاع دے۔
عدالت نے مزید کہا کہ شکایت کی مناسب جانچ نہ کرنا، غلط بھیجا گیا پارسل واپس نہ لینا، رقم واپس یا متبادل پروڈکٹ فراہم نہ کرنا، اور بغیر کسی ریلیف کے شکایت بند کر دینا واضح طور پر خدمت میں کوتاہی اور غیر منصفانہ تجارتی رویہ ہے۔ کمیشن نے یہ بھی قرار دیا کہ فروخت کنندہ انٹرنیشنل ویلیو ریٹیل پرائیویٹ لمیٹڈ بھی بار بار درخواستوں کے باوجود مسئلہ حل کرنے میں ناکام رہا، اس لیے فلپ کارٹ اور سیلر دونوں مشترکہ طور پر صارف کو ہونے والے نقصان اور ذہنی اذیت کے ذمہ دار ہیں۔
کتنا معاوضہ ادا کرنا ہوگا؟
صارف عدالت نے فلپ کارٹ اور فروخت کنندہ کو ۴۵؍دن کے اندر درج ذیل ادائیگیاں کرنے کا حکم دیا ہے:۱۱۱۷۹۳؍ روپے کی اصل رقم واپس کی جائے۔۲۲؍ اپریل ۲۰۲۳ء سے ادائیگی کی تاریخ تک ۹؍ فیصد سالانہ سود ادا کیا جائے۔ ذہنی اذیت اور ہراسانی کے ازالے کے لیے ۵۰؍ ہزار روپے بطور معاوضہ دیے جائیں۔ عدالتی کارروائی کے اخراجات کی مد میں ۲۰؍ہزار روپے ادا کیے جائیں۔
یہ بھی پڑھئے:نیٹ امتحان پیپر لیک احتجاج: مانوشی چھلر نے۲۰۱۵ء کا تجربہ یاد کیا
ایپل انڈیا کو ملی راحت
اس مقدمے میں ایپل انڈیا نے بھی اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ صرف آزاد ڈیلرز اور ری سیلرز کے ذریعے اپنی مصنوعات فروخت کرتی ہے اور ان کی ترسیل یا صارفین کے ساتھ ہونے والے لین دین پر اس کا کوئی براہِ راست اختیار نہیں ہوتا۔ صارف کمیشن نے ایپل انڈیا کا مؤقف قبول کرتے ہوئے اس کے خلاف شکایت خارج کر دی۔ عدالت نے کہا کہ معاملہ صرف غلط پروڈکٹ کی فراہمی سے متعلق تھا اور ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں جس سے یہ ثابت ہو کہ پیکنگ، ترسیل یا سروس میں ایپل انڈیا کا کوئی کردار تھا۔