Inquilab Logo Happiest Places to Work

فلوٹیلا کا لیک جنیوا پرجی سیون سربراہی اجلاس کے خلاف مظاہرہ

Updated: June 14, 2026, 3:09 PM IST | Geneva

فلوٹیلا نے لیک جنیوا پرجی سیون سربراہی اجلاس کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا، پندرہ ممالک سے تعلق رکھنے والے تقریباً ایک سو کارکنوں نے جمعرات کو جنیوا جھیل پر پچیس کشتیوں پر مشتمل فلوٹیلا کی شکل میں فرانسیسی شہر ایویان میں ہونے والے جی سیون سربراہی اجلاس کے خلاف علامتی احتجاج کیا۔

Photo: X
تصویر: ایکس

سوئس اخبار ٹی ڈی جی کے مطابق، پندرہ ممالک سے تعلق رکھنے والے تقریباً ایک سو کارکنوں نے جمعرات کو جنیوا جھیل پر پچیس کشتیوں پر مشتمل فلوٹیلا کی شکل میں فرانسیسی شہر ایویان میں ہونے والے جی سیون سربراہی اجلاس کے خلاف علامتی احتجاج کیا۔یہ کشتیاں جھیل کے درمیان ایویان شہر کے سامنے جمع ہوئیں، جہاں اس ہفتے کے آخر میں گروپ آف سیون ممالک کے سربراہ اجلاس کر رہے ہیں۔اس اقدام کی حمایت کرنے والی تنظیم گلوبل صمود سوئٹزرلینڈ کے ایک بیان کے مطابق، شرکاء نے غزہ پر سوئٹزرلینڈ کے موقف اور سربراہی اجلاس کے دوران سکیورٹی انتظامات میں اس کے کردار کے خلاف احتجاج کیا۔منتظمین نے اس مظاہرے کو غیر متشدد قرار دیا۔کئی شرکاء نے اس سے قبل غزہ تک رسائی کے لیے فلوٹیلا مشنز میں بھی حصہ لیا تھا۔اس احتجاجی فلوٹیلا میں شامل سوئس گرین پارٹی کی رکن قانون ساز لیونور پورشے نے کہا کہ ’’جی سیون کے ممالک اور سوئٹزرلینڈ غزہ میں جاری نسل کشی کے شریک مجرم ہیں۔‘‘اس مظاہرے میں جنیوا کے سابق میئر ریمی پگانی نے بھی حصہ لیا، جو اس سے قبل غزہ جانے والے فلوٹیلا مشن کے دوران اسرائیل میں حراست میں لے لیے گئے تھے۔
واضح رہے کہ غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف کارکنوں نے کشتیوں پر مشتمل بحری بیڑے کی تشکیل کی، جس میں دنیا کے متعدد ممالک کے رضاکار شامل ہیں، اس گروپ نے غزہ کا محاصرہ توڑنے کیلئے اس جانب متعدد مرتبہ کوچ کیا، تاہم اسرائیلی بحریہ نے ہربار ان پر حملہ کرکے غزہ کا محصرہ توڑنے کی کوشش کو ناکام بنا دیا۔ بعد ازاںفلوٹیلا نے جی سیوین ممالک پر اسرائیل کی حمایت کا الزام عائد کیا ہے، اور ان کے خلاف مظاہرہ کیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK