احتجاج میں شرکت کرنے پر بالی ووڈ اداکار عمران خان کے ذریعہ بامبے ہائی کورٹ سے معافی مانگنے اور مستقبل میں کسی احتجاجی مظاہرے میں شرکت نہ کرنے کی یقین دہانی کے دو روز کے بعد ممبئی پولیس نے ’ایف آر آر او‘ کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ عمران کی رشتہ کی بہن زین ماری خان کے ’اوور سیز سٹیزن شپ آف انڈیا‘ (او سی آئی) کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔ واضح رہے کہ زین اداکارہ اور عمران خان کی رشتہ کی بہن ہیں۔
اداکارہ زین میری خان۔ تصویر: آئی این این
احتجاج میں شرکت کرنے پر بالی ووڈ اداکار عمران خان کے ذریعہ بامبے ہائی کورٹ سے معافی مانگنے اور مستقبل میں کسی احتجاجی مظاہرے میں شرکت نہ کرنے کی یقین دہانی کے دو روز کے بعد ممبئی پولیس نے ’ایف آر آر او‘ کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ عمران کی رشتہ کی بہن زین ماری خان کے ’اوور سیز سٹیزن شپ آف انڈیا‘ (او سی آئی) کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔ واضح رہے کہ زین اداکارہ اور عمران خان کی رشتہ کی بہن ہیں۔ اگرچہ وہ ممبئی میں پیدا ہوئی تھیں لیکن بعد میں امریکی شہریت اختیار کرلی تھی اور عمران کی طرح ان کے پاس بھی ہندوستان میں رہنے کیلئے اوسی آئی کارڈ ہے۔ ممبئی کے اگست کرانتی میدان سے عمران خان کے ساتھ زین خان کو بھی حراست میں لیا گیا تھا۔ پولیس وین میں عمران خان کا جو ویڈیو وائرل ہوا تھا اس میں زین بھی ان کے ساتھ نظر آرہی تھیں۔
یہ بھی پڑھئے: پانی کی قلت کےسبب اضافی۱۰؍فیصد کٹوتی کا منصوبہ
پولیس نے اُس وقت عمران خان کے ساتھ زین کے خلاف بھی ایف آئی آر درج کی تھی۔اب پولیس نے ’فارینرس ریجنل رجسٹریشن آفس‘ (ایف آر آر او) کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ انہیں زین کے ’او سی آئی‘ کا حال بتایا جائے۔ اگرچہ ایک پولیس افسر نے خط لکھنے کی تصدیق کی ہے تاہم عمران خان کے وکیل کے مطابق زین کو اب تک ’ایف آر آر او‘ کا کوئی نوٹس موصول نہیں ہوا ہے۔یاد رہے کہ دہلی میں مظاہرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنے کیلئے تُشار گاندھی کی تنظیم ’ہم بھارت کے لوگ‘ کی جانب سے ۱۰؍ اکتوبر کو ممبئی کے اگست کرانتی میدان میں پُرامن مظاہرہ کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں عمران خان، ان کی گرل فرینڈ لیکھا واشنگٹن اور زین نے بھی شرکت کی تھی۔ اس وقت ان تینوں سمیت تقریباً ۵۰۰؍ سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔ چونکہ غیرملکیوں کو ہندوستان میں مظاہرے کرنے کا حق نہیں ہے اسلئے عمران خان کو ہندوستان چھوڑ کر چلے جانے کو کہا گیا تھا۔ تاہم وہ بامبے ہائی کورٹ سے اس فیصلے کے خلاف رجوع ہوئے تھے اور پھر عدالت سے نہ صرف غیرمشروط معافی معانگی بلکہ تحریری یقین دہانی کرائی کہ وہ مستقبل میں کسی احتجاج میں شرکت نہیں کریں گے۔