سمراٹ چودھری اپنے تبصرہ کی وجہ سے طنز ومزاح کا موضوع بن گئے۔
سمراٹ چودھری۔ تصویر: آئی این این
بہار کے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری منگل کو نئی دہلی میں ایک اجلاس کے دوران اس وقت تنازع کا شکار ہوگئے جب انہوں نے کہا کہ بہار میں’’کرائم تو ہوسکتا ہے، لیکن ’اَپرادھ‘نہیں ہوسکتا۔‘‘ وزیر اعلیٰ کی تقریر کامذکورہ حصہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا جس کے بعد وہ طنز ومزاح کا موضوع بن گئے ہیں۔
اپوزیشن لیڈروں نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ بہار اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور سابق نائب وزیراعلیٰ تیجسوی پرساد یادو نے ایکس پر پوسٹ کیا ہے کہ ’’اس شخص کا بیان دیکھیے جس پر ۷؍قتل کرنے کا الزام ہے اور جسے وزیر اعظم مودی نے خود وزیر اعلیٰ منتخب کیا ہے۔‘‘
انہوں نے سوال کیا کہ ان کے ماتحت آئی اے ایس اور آئی پی ایس افسران خود کو اس بیان سے باعزت محسوس کرتے ہیں یا بے عزت؟ تیجسوی نے مزید کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے اس شخص (چودھری) کو وزیر اعلیٰ بنا کر بہار کو تباہ کرنے کا ٹھیکہ لے لیا ہے۔ اس بیچ جے ڈی یو لیڈر نے وزیراعلیٰ کے بیان کی یہ تاویل پیش کی کہ کرائم انفرادی طو رپر کوئی بھی کرسکتاہے مگر ’اَپرادھ‘ منظم (گینگ کی شکل میں) ہوتا ہے جو اب بہار سے ختم ہوگیاہے۔