Updated: June 08, 2026, 8:05 PM IST
| New Delhi
آر ایس ایس کے سینئر لیڈر اندریش کمار نے کہا ہے کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان تفریق پیدا کرنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی اور ایسے عناصر یا سیاسی گروہ بالآخر عوامی حمایت کھو دیں گے۔ دہلی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی، قومی یکجہتی اور تعلیم کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوان نسل تعلیم کو قومی ترقی سے جوڑ رہی ہے اور ملک میں مثبت تبدیلی آ رہی ہے۔
آر ایس ایس لیڈر اندریش کمار۔ تصویر: آئی این این
راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سینئر لیڈر اندریش کمار نے کہا ہے کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان نفرت اور تقسیم پیدا کرنے کی کوششیں بالآخر ناکام ہو جائیں گی، جبکہ ایسے عناصر اور سیاسی جماعتیں جو معاشرے میں تفریق کو فروغ دیتی ہیں، عوام کی جانب سے مسترد کر دی جائیں گی۔ دہلی میں ایک تقریب کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اندریش کمار نے کہا کہ ملک میں بتدریج مثبت تبدیلی رونما ہو رہی ہے اور نوجوان نسل تعلیم کو قومی ترقی اور سماجی بہتری کے ساتھ جوڑ کر دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ملک میں بتدریج تبدیلی آ رہی ہے۔ نوجوانوں میں یہ احساس بیدار ہو رہا ہے کہ اگر تعلیم کو قومی ترقی سے جوڑا جائے تو ہم ایک بہتر ملک اور ایک بہتر ہندوستان کی تعمیر کر سکتے ہیں۔‘‘
اندریش کمار نے اپنے خطاب میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ معاشرے میں محبت، بھائی چارے اور باہمی احترام کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ پیغام محبت کو فروغ دینے اور نفرت کے خاتمے کا ہے۔ یہ ان لوگوں کے نظریے کو چیلنج کرتا ہے جو سمجھتے ہیں کہ ہندو اور مسلمان ایک ساتھ نہیں رہ سکتے۔ اس کے برعکس، انہیں ایک ساتھ رہنے، مل کر آگے بڑھنے اور مشترکہ ترقی کے لیے کام کرنے کی ترغیب دی جانی چاہیے۔‘‘ آر ایس ایس لیڈر نے مزید کہا کہ جو سیاسی جماعتیں یا گروہ مذہبی بنیادوں پر معاشرے کو تقسیم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ طویل مدت میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔
انہوں نے کہا کہ ’’بالآخر وہ جماعتیں جو ملک کو تقسیم اور ٹکڑوں میں بانٹنے کی کوشش کرتی ہیں، انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ عوام ایک دن انہیں سبق سکھائیں گے۔‘‘ اندریش کمار آر ایس ایس کی قومی ایگزیکٹو باڈی کے رکن ہیں اور انہیں مسلم راشٹریہ منچ کے چیف سرپرست کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ یہ تنظیم ۲۰۰۲ء میں مسلم برادریوں کے ساتھ رابطے اور مکالمے کو فروغ دینے کے مقصد سے قائم کی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: ’ایس ایف آئی‘ اور ’ایس آئی او‘کی برکت اللہ یونیورسٹی کا نام بدلنے کی مخالفت
دریں اثنا، آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت اتوار کو پانچ روزہ دورے پر بہار میں ہیں۔ وہ مونگیر میں واقع سرسوتی ودیا مندر میں منعقد ہونے والے کارکنان کے تربیتی کیمپ میں شرکت کریں گے۔ اس رہائشی تربیتی پروگرام میں بہار اور جھارکھنڈ سے منتخب تقریباً ۷۰۰؍ رضاکار شریک ہو رہے ہیں۔ پروگرام کے دوران تنظیمی امور، قیادت کی تربیت اور مختلف نظریاتی موضوعات پر سیشن منعقد کیے جائیں گے۔خیال رہے کہ آر ایس ایس ہندوستان کی سب سے بڑی سماجی و نظریاتی تنظیموں میں شمار ہوتی ہے ۔