Updated: June 08, 2026, 5:02 PM IST
| Bhopal
مدھیہ پردیش میں برکت اللہ یونیورسٹی کا نام تبدیل کرنے کی تجویز پر شدید سیاسی اور طلبہ مخالفت سامنے آ گئی ہے۔ ’ ایس ایف آئی ‘ اور ’ ایس آئی او‘تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام آزادی کے مجاہدین کی تاریخ اور ہندوستان کی تکثیری شناخت کو متاثر کرنے کی کوشش ہے۔
مولانا برکت اللہ یونیورسٹی کا داخلی دروازہ۔ تصویر: آئی این این
مجوزہ طور پر برکت اللہ یونیورسٹی کا نام تبدیل کرنے کے خلاف مخالفت بڑھتی جا رہی ہے۔ اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا (SFI) اور اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا (SIO) نے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک ممتاز نوآبادیاتی مخالف انقلابی کی یاد کو مٹانے اور ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں مسلمانوں کے تاریخی کردار کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔ یونیورسٹی کی ایگزیکٹو کونسل نے ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں ادارے کا نام ’’واگ دیوی بھوجپال یونیورسٹی‘‘ رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ یہ تجویز مزید منظوری کیلئے بھیج دی گئی ہے، جس کے بعد سیاسی جماعتوں، مورخین اور طلبہ تنظیموں کی جانب سے تنقید کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: رام مندر میں گھوٹالہ، چڑھاوے کےکروڑوں روپے غائب، جانچ کا مطالبہ
اپنے بیان میں ایس ایف آئی نے کہا کہ یہ تجویز فرقہ واریت اور تاریخ کو نئے انداز میں پیش کرنے کے ایک وسیع رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔ تنظیم کا الزام ہے کہ یہ اقدام آزادی کے مجاہدین اور تاریخی شخصیات کے ناموں کو مذہبی علامتوں سے بدلنے کی کوشش کا حصہ ہے، جبکہ تعلیمی شعبے کو درپیش اہم مسائل سے توجہ ہٹائی جا رہی ہے۔ طلبہ تنظیم نے یاد دلایا کہ یونیورسٹی کا نام۱۹۸۸ء سے مولانا برکت اللہ بھوپالی کے نام پر رکھا گیا تھا تاکہ ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد اور غدر تحریک میں ان کے کردار کو خراجِ تحسین پیش کیا جا سکے۔ ایس ایف آئی نے مدھیہ پردیش حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بنیادی ڈھانچے کی کمی، عملے کی تنخواہوں میں تاخیر اور طلبہ کے حل طلب مسائل جیسے معاملات پر توجہ دینے کے بجائے حکومت علامتی اقدامات کو ترجیح دے رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: آج اپوزیشن کا’جن بندھن‘، ۲۳؍ پارٹیوں کی شرکت
دوسری جانب، ایس آئی او مدھیہ پردیش ویسٹ نے نام کی تبدیلی کی تجویز کو ’’مسلم مجاہدینِ آزادی کی یاد کو مٹانے اور ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد کی تکثیری بنیادوں کو کمزور کرنے کی کھلی کوشش‘‘ قرار دیا۔ تنظیم نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ اقدام تعلیمی اداروں کو ’’زعفرانی رنگ‘‘ دینے اور سیاسی مقاصد کیلئے تاریخی بیانیوں کو تبدیل کرنے کے ایک تشویش ناک رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔ ایس آئی او کے مطابق یونیورسٹی کا موجودہ نام مولانا برکت اللہ کی قربانیوں اور خدمات کا جائز اعتراف ہے۔ تنظیم نے کہا کہ ان کا نام ہٹانا محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں ہوگا بلکہ ان کی میراث کی توہین اور برطانوی استعمار کے خلاف جدوجہد میں مسلمانوں کے کردار کو حاشیے پر دھکیلنے کی کوشش ہوگی۔ اس نے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات ایسے وقت میں سماجی اور فرقہ وارانہ تقسیم کو مزید گہرا کر سکتے ہیں جب یونیورسٹیوں کو تعلیمی معیار، تحقیق اور بنیادی سہولیات پر توجہ دینی چاہئے۔ ایس آئی او نے مطالبہ کیا کہ اس تجویز کو فوری طور پر واپس لیا جائے اور حکام ہندوستان کے مشترکہ اور متنوع ورثے کو محفوظ رکھنے کیلئے اقدامات کریں۔
یہ بھی پڑھئے: اب ۲۱؍ جون کو مقرر نیٹ امتحان کا پیپر لیک ہونے کا دعویٰ
مولانا برکت اللہ بھوپالی کون تھے؟
مولانا برکت اللہ بھوپالی برصغیر کے نوآبادیاتی دور کے نمایاں ترین انقلابی رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے۔ ان کی پیدائش بھوپال میں ہوئی اور انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ بیرونِ ملک برطانوی راج کے خلاف بین الاقوامی حمایت حاصل کرنے میں صرف کیا۔ وہ جاپان، امریکہ، جرمنی اور افغانستان میں سرگرم انقلابی نیٹ ورکس سے وابستہ رہے اور غدر موومینٹ میں اہم کردار ادا کیا۔ ۱۹۱۵ء میں وہ راجہ مہندر پرتاپ کی قیادت میں کابل میں قائم عارضی حکومتِ ہند کے وزیرِ اعظم بنے۔ اس طرح وہ جلاوطنی میں قائم ہندوستانی حکومت کے ابتدائی لیڈروں میں شامل ہوئے۔ اپنی تحریروں، تقاریر اور سیاسی سرگرمیوں کے ذریعے مولانا برکت اللہ نے برطانوی حکومت سے آزادی کی وکالت کی اور ہندوستان کی مختلف مذہبی و سماجی برادریوں کے درمیان اتحاد اور ہم آہنگی کو فروغ دیا۔