ہندوستان کے سابق آرمی چیف منوج مکندنروانے نے ایک بیان میں کہا کہ حکومت کا فوج کو مناسب کارروائی کرنے کو کہنا اس پر اعتماد کو ظاہر کرتا ہے، ساتھ ہی انہوں نے اس پر سیاست نہ کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
EPAPER
Updated: April 23, 2026, 10:06 PM IST | New Delhi
ہندوستان کے سابق آرمی چیف منوج مکندنروانے نے ایک بیان میں کہا کہ حکومت کا فوج کو مناسب کارروائی کرنے کو کہنا اس پر اعتماد کو ظاہر کرتا ہے، ساتھ ہی انہوں نے اس پر سیاست نہ کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
سابق آرمی چیف جنرل منوج مکند نروانے نے بالآخر اس تنازعے پر ردعمل دیا جو چین کے ساتھ سرحدی جھڑپ کے دوران، ان تک مبینہ طور پر وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے بھیجے گئے ’’جو اچت( مناسب) سمجھو، وہ کرو‘‘ کے پیغام پر پیدا ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس ہدایت کا مطلب تھا کہ حکومت کو مسلح افواج پر ’’مکمل اعتماد‘‘ تھا۔جنرل نروانے نے انڈیا ٹوڈے کو دیئے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ اس تبصرے سے حکومت کا مسلح افواج پر مکمل اعتماد ظاہر ہوتا ہے اور اس موضوع پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔جنرل نراوانے نے نشاندہی کی کہ مسلح افواج کو زمینی صورتِ حال کا جواب دینے کے لیے مکمل اختیار دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: ایم پی: بی جے پی ایم ایل اے کی پولیس کو دھمکی، آئی پی ایس ایسوسی ایشن کا ردعمل
واضح رہے کہ یہ تنازع فروری میں اس وقت اُبھرا جب کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے پارلیمنٹ میں جنرل نروانے کی غیر مطبوعہ کتاب کا حوالہ دینے کی کوشش کی اور الزام لگایا کہ یہ تبصرہ حکومت کی ذمہ داری سے پہلو تہی کو ظاہر کرتا ہے۔جبکہ اس کےبرخلاف جنرل نروانے نے کہا، ’’یہ بنیادی طور پر اس عظیم اعتماد کو ظاہر کرتا ہے جو حکومت کو فوج،اور اس کے چیف پر تھا۔ وہ جانتے تھے کہ جو بھی فیصلہ کیا جائے گا وہ تمام عوامل کو مدِنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔‘‘واضح رہے کہ جنرل نروانے، جو اس تنازعے کے بعد اپنی غیر مطبوعہ یادداشت پر تنقید کی زد میں آئے تھے، نے فوج کو سیاست کا نشانہ بنانے کے خلاف بھی خبردار کیا۔جنرل نروانے نے پاکستان پر طنز کرتے ہوئے کہا، ’’ہمسایہ ممالک کے برعکس، ہندوستانی مسلح افواج مکمل طور پر غیر سیاسی ہیں۔‘‘
یاد رہے کہ یہ تنازع پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن کے دوران اس وقت اُبھرا جب کانگریس ایم پی راہل گاندھی نے غیر مطبوعہ یادداشت ، ’’فور ا سٹارز آف ڈیسٹنی‘‘کا حوالہ دینے کی بار بار کوشش کی۔ تاہم اسپیکر نے انہیں روک دیا کیونکہ کتاب ابھی شائع نہیں ہوئی تھی، لیکن وہ وہیں نہیں رکے۔ وہ سیشن کے دوران کتاب کی ایک کاپی پارلیمنٹ احاطے میں لاتے دیکھے گئے۔کتاب کے اقتباسات کا حوالہ دیتے ہوئے، گاندھی نے دعویٰ کیا کہ سابق آرمی چیف نے راج ناتھ سنگھ اور دیگر کو بتایا تھاکہ چینی ٹینک قریب آرہے ہیں۔ گاندھی نے دعویٰ کیا کہ نروانے کو طویل عرصے تک کوئی براہِ راست جواب نہیں ملا۔راہل گاندھی نے دعویٰ کیا، ’’ آرمی چیف کو وزیر اعظم کا پیغام دیا گیا،’’ جو اچت (مناسب) سمجھو، وہ کرو۔‘‘ اس کا مطلب ہے کہ نریندر مودی نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی، آرمی چیف نے اس (کتاب) میں واضح طور پر کہا کہ وہ خود کو تنہا محسوس کر رہے تھے اور پورے نظام نے انہیں چھوڑ دیا تھا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ’’ مغربی بنگال میں الیکشن بی جےپی لڑ رہی ہے یا مودی سرکار‘‘
دراصل یہ واقعہ۳۱؍ اگست۲۰۲۰ء کو پیش آیا جب چینی فوج ہندوستانی سرحد کی طرف بڑھ رہی تھی۔ یہ کتاب ۲۰۲۴ء میں پینگوئن سے شائع ہونے والی تھی لیکن وزارت دفاع کی منظوری زیرِ التوا ہے۔سابق آرمی چیف نے انٹرویو میں یہ بھی زور دے کر کہا کہ یادداشت ان کے ذاتی نقطہِ نظر کی عکاسی کرتی ہے اور یہ کسی ’’خفیہ دستاویزات‘‘ پر مبنی نہیں ہے۔جنرل نروانے نے یہ بھی کہا کہ چین کے ساتھ سرحدی تعطل میں ہندوستان کا پلڑا بھاری تھا۔ انہوں نے زور دیا کہ دنیا نے دیکھا کہ کس طرح چین نےبعض علاقوں سے اپنی فوجیں واپس بلائیں۔انہوں نے کہا، ’’ایل اے سی (لائن آف ایکچوئل کنٹرول) کے ساتھ ہندوستان کا غلبہ تھا۔جنرل نروانے نے اپوزیشن کے ان دعوؤں کو بھی مسترد کیا کہ ہندوستان نے علاقہ کھودیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سرحدی کشیدگی کے دوران حکومت اور مسلح افواج کے درمیان قریبی ہم آہنگی تھی اور فیصلے مشترکہ طور پر لئے گئے تھے۔