Updated: July 30, 2026, 3:01 PM IST
| New Delhi
ہندوستانی ہاکی ٹیم کی روایتی نیلی جرسی کی جگہ زعفرانی رنگ کو مرکزی جرسی بنانے پر تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ سابق ہندوستانی کپتان اور اولمپین ویرین راسکوئنہا نے اس فیصلے کو ’’شرمناک‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی ہاکی ٹیم کی شناخت ہمیشہ نیلی جرسی رہی ہے۔ دوسری جانب ہاکی انڈیا کا کہنا ہے کہ نئی جرسی قومی پرچم اور طلوع ہوتے سورج سے متاثر ہے اور زعفرانی رنگ ’’جرأت، قربانی اور فتح‘‘ کی علامت ہے۔
ہاکی انڈیا کی زعفرانی جرسے، دوسری تصویر میں ہاکی انڈیا کے سابق کپتان ویرین راسکوئنہا۔ تصویر: آئی این این
ہندوستانی ہاکی ٹیم کی روایتی نیلی جرسی کو تبدیل کرکے زعفرانی رنگ کو مرکزی جرسی بنانے کے ہاکی انڈیا کے فیصلے نے کھیلوں کے حلقوں اور سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ نئی جرسی اگست میں بلجیم اور نیدرلینڈز میں ہونے والے FIH ہاکی ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء سے قبل متعارف کرائی گئی، تاہم اس اعلان کے فوراً بعد سابق کھلاڑیوں اور مداحوں کی جانب سے سخت ردِعمل سامنے آیا۔ سابق ہندوستانی کپتان اور اولمپین ویرین راسکوئنہا نے سوشل میڈیا پر فیصلے پر اعتراض کرتے ہوئے لکھا کہ ’’ہندوستانی ٹیم کی میراث اور شناخت ہمیشہ نیلے رنگ سے وابستہ رہی ہے۔ میں نے کئی برس فخر کے ساتھ نیلی جرسی پہن کر ملک کی نمائندگی کی۔ شائقین اپنی ہندوستانی ٹیم کو نیلی جرسی میں ہی دیکھنا چاہتے ہیں۔ آخر نارنجی (زعفرانی) رنگ کی کیا منطق ہے؟‘‘
یہ بھی پڑھئے: سچ بولنے پر سزا ملی تو بھی آواز اُٹھاتی رہوں گی: پرینکا گاندھی
ہاکی انڈیا نے پیر کو جاری کئے گئے ویڈیو میں نئی جرسی کی نقاب کشائی کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’زعفرانی رنگ جرأت، قربانی اور فتح کی علامت ہے۔ فیڈریشن نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’’رنگوں کی نئی ترتیب قومی پرچم اور طلوع ہوتے سورج سے متاثر ہے، جبکہ نئی جرسی نئی شروعات کی عکاسی کرتی ہے۔‘‘ ہاکی انڈیا کے مطابق نئی جرسی کے گہرے ڈیزائن ہندوستان کے بھرپور ثقافتی ورثے کی نمائندگی کرتے ہیں، جبکہ اس کا تصور ’’ایک ہندوستان، شریشٹھ ہندوستان‘‘ کے جذبے کو پیش کرتا ہے۔
اس فیصلے کے بعد سوشل میڈیا پر بڑی تعداد میں صارفین نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی ہاکی ٹیم کی اصل شناخت نیلی جرسی سے جڑی ہوئی ہے اور اسے تبدیل کرنا ٹیم کی روایت اور ورثے کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ کئی صارفین نے یاد دلایا کہ دنیا بھر میں ہندوستانی کھیلوں کی ٹیمیں ’’مین اِن بلیو‘‘ اور ’’ویمن اِن بلیو‘‘ کے نام سے جانی جاتی ہیں۔ جمعرات کو ویرین راسکوئنہا نے ایک اور وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیان کو غیر ضروری طور پر سیاسی رنگ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ ’’میں دیکھ رہا ہوں کہ میرے بیان پر غیر ضروری سیاسی تبصرے کیے جا رہے ہیں۔ میں اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتا۔ میری سادہ اور عاجزانہ بات صرف فخر، شناخت اور میراث کے بارے میں ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’’جس طرح ارجنٹائنا فٹبال کی پہچان ہے، اسی طرح ہندوستان ہاکی کی پہچان ہے۔ کیا ہم کبھی ارجنٹائنا کو اپنی پہلی جرسی کے طور پر نارنجی اور سفید دھاریوں میں کھیلتے دیکھیں گے؟‘‘ رپورٹ کے مطابق ہندوستان کی ہاکی ٹیم روایتی طور پر نیلی جرسی ہی پہنتی آئی ہے اور یہی رنگ کئی دہائیوں سے ہندوستانی ہاکی کی بین الاقوامی شناخت سمجھا جاتا رہا ہے۔ نئی جرسی میں اگرچہ کالر نیلا رکھا گیا ہے اور کندھوں پر زعفرانی، سفید اور سبز رنگ کی باریک پٹیاں شامل کی گئی ہیں، تاہم بنیادی رنگ زعفرانی ہونے کی وجہ سے تنازع پیدا ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بھوپال میں کسان سڑک پر خیمہ زن
یہ پہلا موقع نہیں جب ہندوستانی ٹیم کی جرسی کے رنگ پر بحث چھڑی ہو۔ ۲۰۱۹ء کرکٹ ورلڈ کپ میں انگلینڈ کے خلاف میچ کے دوران ہندوستانی ٹیم نے زیادہ تر نارنجی رنگ پر مشتمل متبادل جرسی پہنی تھی، جس پر بھی اس وقت شائقین اور اپوزیشن جماعتوں نے اعتراض کیا تھا اور بعض لیڈروں نے اسے ملک کو ’’زعفرانی رنگ‘‘ میں رنگنے کی کوشش قرار دیا تھا۔ اس وقت ہندوستانی کرکٹ بورڈ نے وضاحت کی تھی کہ یہ تبدیلی انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (ICC) کے متبادل جرسی سے متعلق ضابطوں کے مطابق کی گئی تھی۔ اب جبکہ ہندوستان کی مردوں اور خواتین کی ہاکی ٹیمیں اگلے ماہ ہونے والے FIH ہاکی ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء میں اسی نئی زعفرانی جرسی کے ساتھ میدان میں اتریں گی، اس فیصلے پر بحث بدستور جاری ہے۔ ایک طرف ہاکی انڈیا اسے قومی شناخت اور نئی شروعات کی علامت قرار دے رہا ہے، جبکہ دوسری جانب سابق کھلاڑیوں اور شائقین کا ایک طبقہ اسے ہندوستانی ہاکی کی تاریخی شناخت سے انحراف تصور کر رہا ہے۔