جج کے عہدہ پررہتے ہوئے سدھارتھ مردول نے اپنے ۱۶؍ سالہ دور میں گیس ایجنسی چلائی اور بھارت پیٹرولیم کو اس کی اطلاع بھی نہیں دی ، کسی نوٹس کابھی جواب نہیں دیا ۔
EPAPER
Updated: July 17, 2026, 10:11 AM IST | New Delhi
جج کے عہدہ پررہتے ہوئے سدھارتھ مردول نے اپنے ۱۶؍ سالہ دور میں گیس ایجنسی چلائی اور بھارت پیٹرولیم کو اس کی اطلاع بھی نہیں دی ، کسی نوٹس کابھی جواب نہیں دیا ۔
دہلی ہائی کورٹ کے سابق جسٹس اور منی پور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس سدھارتھ مردول کا معاملہ اس وقت سرخیوں میں ہے ۔ ان پر آئینی عہدے پر رہتے ہوئےگھریلو گیس سلنڈر( ایل پی جی) ایجنسی چلانے کا الزام ہے ۔ جج کے عہدے پررہتے ہوئے سدھارتھ مردول نے اپنے ۱۶؍ سالہ دور میں گیس ایجنسی چلائی اور بھارت پیٹرولیم (بی پی سی ایل) کو اس کی اطلاع بھی نہیںدی ۔ واضح رہے کہ آئینی عہدوں پر فائز جج اپنے لئے گئے حلف اور غیر تحریری ضابطہ اخلاق کے پابند ہوتے ہیں اور ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ کسی ایسے کاروباری لین دین میں ملوث نہیں ہوں گے جس میں عہدہ پر رہتے ہوئے دیگر ایجنسیوں کے ساتھ معاملات کرنے کی ضرورت ہو۔ٹائمس آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق منی پور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس سدھارتھ مردول نے ۱۹۸۴ء میں بھارت پیٹرولیم سے ایل پی جی ایجنسی’ کچن فلیم‘ کی ڈیلر شپ حاصل کی تھی اس کے بعد انہوں نے۱۹۸۶ءمیں دہلی ہائی کورٹ میں وکالت شروع کی۔ مارچ ۲۰۰۸ ء میں وہ دہلی ہائی کورٹ کے جج مقرر ہوئے اور اکتوبر۲۰۲۳ء میںمنی پور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بنے۔اس دوران وہ ایجنسی چلاتے رہے اور معاہدہ کی تجدید بھی کرتے رہے اوران کا معاہدہ اب بھی ۲۴؍ اگست ۲۰۳۰ء تک ہے۔مردول ۲۱؍ نومبر ۲۰۲۴ء کو ریٹائر ہوئے تھے۔دسمبر۲۰۲۵ء میںبی پی سی ایل کو عوامی شکایت ملی تھی کہ سدھارتھ مردول جج کے طورپر خدمات انجام دے چکے ہیں اورایجنسی چلارہے ہیں۔اس بنیاد پر کمپنی نے۲۹؍مئی۲۰۲۶ء کو انہیں نوٹس جاری کیا تاہم کوئی جواب نہ ملنے کے بعد کمپنی نے مزید دو نوٹس جاری کیے۔ جب سابق جج نے ان نوٹسوں کا بھی جواب نہیں دیا تو کمپنی نے ان کی ایجنسی کی ڈیلرشپ منسوخ کر دی۔ کمپنی نے دلیل دی کہ جج کے طور پر کام کرتے ہوئے پیشگی اجازت کے بغیر ڈیلرشپ جاری رکھنا معاہدہ کی شرائط کے خلاف ہے۔ اس دوران ایجنسی چلانے کی ذمہ داری پر مامور خاتون مونیکا یادو نے ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی جس میں معاملے کی کئی پرتیں کھل گئیں۔ مونیکا یادونے اپنی عرضی میں ا یجنسی کی ملکیت کا فیصلہ ان کے حق میںکرنے کا درخواست کی تھی ۔ اس درخواست پرہائی کورٹ نے بی پی سی ایل کو ۲؍ مہینے میں فیصلہ کرنے کا وقت دیا ۔ بعد ازاں مونیکا نے ہائی کورٹ میں ایک اور عرضی داخل کی اوربی پی سی ایل پر دانستہ ان کی عرضی پر غور نہ کرنے کا الزام لگایا اوردلیل دی کہ ایجنسی چلانے کے تمام تقاضوں کو اس نے پورا کیا اوراسےایسے معاملے کی سزا دی جارہی ہے جوبی پی سی ایل اورسابق جسٹس کے درمیان ہے اورجس میں خود بی پی سی ایل کئی سال کارروائی کرنے میںناکام رہی