Inquilab Logo Happiest Places to Work

مدارس کے حساب کتاب میں شفافیت اور نظام کو مستحکم کرنا وقت کی اہم ضرورت

Updated: July 17, 2026, 10:55 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

دارالعلوم بیڑ میںمنعقدہ رابطۂ مدارس اسلامیہ میں ذمہ داران کو بطور خاص توجہ دلائی گئی ۔ مہتم دارالعلوم دیوبند نے ذمہ داران کومتوجہ کیا۔

Mufti Muhammad Salman Bajnoori (Deputy Chief of Darul Uloom Deoband) and other scholars are seen at the meeting held in Beed. Photo: INN
بیڑ میں منعقدہ اجلاس میں مفتی محمد سلمان بجنوری (دارالعلوم دیوبند کے نائب مہتمم ) اور دیگر علماء نظر آرہے ہیں۔ تصویر: آئی این این

رابطۂ مدارس اسلامیہ کا جمعرات کو دارالعلوم بیڑ  میں اجلاس منعقد کیا گیا۔ اس میںممبئی اور ریاست بھر کے مدارس کے ذمہ داران نے شرکت کی۔

اس موقع پر مفتی ابوالقاسم نعمانی (شیخ الحدیث و مہتمم دارالعلوم دیوبند )نے بطور خاص اپنے خطاب میں کہاکہ’’ اگر آپ حضرات مدارسِ دینیہ کی بقا چاہتے ہیں تو زمین کے کاغذات اور تعمیرات کے نقشے وغیرہ کو ماہرین قانون کی نگرانی میں درست کرا لیں۔ آپ نے مولانا مرغوب الرحمٰن ؒ(سابق مہتمم دارالعلوم دیوبند) کے حوالے سے کہاکہ مدرسے کے اخراجات میں سے ۱۰؍ فیصد مکاتب پر بھی خرچ کیجئے ۔اس لئے کہ مکاتب اصل ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: دھولیہ: ہمہ گیر شخصیت کے مالک پروفیسر انصاری سلیم کی رحلت

مفتی ابوالقاسم نے یہ بھی کہا کہ ’’ اس وقت شکیلیت کا زیادہ غلبہ ہے، یہ گروہ بھولے بھالے مسلمانوں کو اپنے ناپاک عزائم کا شکار کرنے میں کامیاب ہورہا ہے۔ اس لئےمدرسہ میں اساتذہ کو ہفتہ واری پروگرام میںتیار کرواکر جمعہ کے خطاب اور دیگر اجتماعات میں زور دار طریقے سے آگاہ کرائیں۔‘‘

دارالعلوم دیوبند کےمہتمم نے زور دے کرتاکید کی کہ ’’ اپنے مدرسے کا حساب کتاب صاف ستھرا رکھئے ، ورنہ حالات آئیںگے۔‘‘ 

اجلاس کا آغاز دارالعلوم بیڑ کے صدر قاری محمد اشتیاق کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ نظامت کے فرائض مفتی محسن قاسمی نے انجام دیئے اور صدارت مفتی اسماعیل (مالیگاؤں) نے کی جبکہ مہمانِ خصوصی کے طورپر مفتی سلمان بجنوری(دارالعلوم دیوبند) شریک تھے۔  

یہ بھی پڑھئے: ریلوے لائن کی تعمیر سے کھیتوں میں پانی، کسانوں کا ’جل سمادھی آندولن‘

اجلاس میںیہ پیغام بھی دیا گیا کہ ذمہ داران ِ مدارس یہ ذہن نشین رکھیں کہ مدارس کا مقصد محض چہار دیواری کے اندر چند بچوں کو تعلیم دے کر فارغ ہوجانا نہیں ہے۔ اہلِ مدارس کو اپنے محلے، گاؤں اور شہر کی فکری،نظریاتی و ایمانی حفاظت کی بھی فکر کرنی چاہئے۔ موجودہ دور میں سر اٹھانے والے باطل عقائد بالخصوص `شکیلیت اور گوہر شاہی جیسے فتنوں کے سدِباب کے لئے اساتذہ کی تربیت وقت کا اہم تقاضہ اوربڑی ذمہ داری ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK